مستقبل میں ہمارے کام آنے والی صلاحیتیں

ہم یہ بات جانتے ہیں کہ چوتھے صنعتی انقلاب کے نتیجے میں دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ اکیسویں صدی کے ابتدائی دو عشروں میں ٹیکنالوجی میں جتنی جدت دیکھی گئی ، وہ پوری بیسویں صدی میں نہیں دیکھی گئی تھی۔ اور یہ جدت اور ترقی چوتھے صنعتی انقلاب کی مرہونِ منت ہے۔

چوتھا صنعتی انقلاب کیا ہے؟

آئیے سب سے پہلے یہ اصطلاح سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ اصطلاح, عالمی اقتصادی ادارے (ورلڈ اکنامک فورم) کے چیئرمین ڈاکٹر کلاؤس نے ڈیجیٹل, طبیعیاتی اور حیاتیاتی شعبہ جات کے وابستہ ٹیکنالوجیکل تبدیلیوں کو بیان کے لیےایجاد کی جس بعد میں ہر گزرتے وقت کے ساتھ مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے اور آج یہ تعلیم یافتہ طبقے میں زبان زدِ عام ہوچکا ہے۔

چوتھے صنعتی انقلاب کے باعث ہمارے کام کرنے, زندگی گزارنے ایک دوسرے کے ساتھ رابطے کے طریقوں انقلاب آئے گا, اسی ہم پورے اعتماد سے ہیں کہ دنیا ایک دوراہے پر آن کھڑی ہوئی ہے. دنیا کو چوتھے صنعتی انقلاب کا بخوبی اندازہ ہوچکا ہے اور وہ خود کو اس کے لیے تیار کررہی ہے۔

کیا پاکستان تیار ہے؟

بدقسمتی سے پاکستان میں چوتھے صنعتی انقلاب کو اپنی حصہ بنانے یا معیشت کو اس مطابق کے واے لاا وا لہیں ن و ت تر ل ن ن ت ت تر

آٹومیشن اور اس کے اگلے مرحلے میں مشین لرننگ سے ہمارے کام کرنے طریقہ تبدیل ہوتا جارہا ہےم ااایاا ہےم او زیاود یل م او ہےود لع ال ت بع ان تبدیلیوں کے نتیجے میںملازمت کے لیے درکار صلاحیتوں میں بھی تبدیلی آرہی ہے۔ ان تبدیلیوں کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا کہ بقول ماہرین ، آج کے بچے طالب علیمی سے گزر زنہیدگی میں قن تور تور

0 جس رفتار سے کام کی نوعیت میں تبدیلی آرہی ہے ، موجودہ نصاب اور پالیسیوں کی اس رفتار سے تجدید نہیں ہورہی بدقسمتی سے اس سلسلے میں کوئی پیشرفت بھی نظر نہیں آتی۔

یہ بات تو ٹھیک ہے کہ ملک بھر کی طلبا کو آہستہ آہستہ مستقبل کے ضروری ہنروں جیسے بگ ڈیٹا, آف تھنگز, مشین لرننگ, وغیرہ سے ہے مگر چوتھے صنعتی کلیدی ‘انسانی’ صلاحیتوں پر توجہ نہیں دی جارہی.

پاکستان میں موجودہ صورت حال یہ ہے کہ معلومات کی منتقلی اور ‘تکنیکی’ صلاحیتوں پر ضرور توجہ دی جاتی ہے لیکن ان غیرتکنیکی کو نظرانداز کردیا بہت ہے جو مستقبل ہونے مند ثابت ہونے والی ہیں. یہ غیرتکنیکی صلاحیتیں پیشہ ورانہ کامیابی کے لیے مزید ضروری ہوتی جارہی ہیں۔ کئی ماہرین بشمول ڈارٹ ماؤتھ کالج کے صدر ہینلن کی تجویز کے مطابق ، ان صلاحیتوں کا نام کرکے ‘پاور الد ر

ان صلاحیتوں میں باہمی تعاون سے کام کرنے کا جذبہ ، کی کی سُننے ، لوگوں کا مؤثر ای۔شام موپیچیر یائا ام او،ر ئاا ن عالمی اقتصادی ادارہ (ڈبلیو ای ایف) کی گزشتہ سال جاری ہونے والی رپورٹ میں ان تمام صلاتیااام صصمو ں يا ​​ن شم مت ت يا یم م ترت 2020

چوتھے صنعتی انقلاب کے نتیجے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں پر ماہرین مختلف آراء رکھتے ہیں۔ ایک طرف ایلن مسک جیسے لوگ جو کہ مستقبل انسانوں کے کرنے کے لیے بہت رہ جائے گا تو طرف روزگار مطالعہ کرنے والی خیال بے کچھ کی تبدیلی نہیں آئے گی, تاہم انسانوں کے لیے دستیاب ملازمتوں کی نوعیت میں تبدیلی ضرور آئے گی. مستقبل کی اس صورتِ حال کا تیسرا رُخ ایرون بسٹانی اپنی کتاب پیش کرتے ہیں ، جس میں انھوں ےے پیشگاوئی ن ور ان ور ان رن ان رن

ہمیں پاکستان میں تعلیم کے بنیادی فلسفہ میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ تعلیمی اداروں کو ایسے گریجویٹس پیدا کرنے کی ضرورت ہے جو زیادہ لچکدار اور ہوش مند ہوےم ساتھ او ت ساو تھ م بور ایسے گریجویٹس پیدا کرنے کے لیے ان میں ‘پاور اسکلز’ پیدا کرنی ہوں گی۔ آج کے گریجویٹس میں ایسے رویے پروان چڑھانے ہوں گے کہ زندگی بھر نت نئے ہنر سیکھنے کی ججستجو دیگر ٹیکنالوجیکل جم ن وجیکل جدت کی دود جدت کی دوڑ دت کی دو



About admin

Check Also

بچوں کی پرورش اور دنیا کے امیر ترین افراد

’امیر افراد میری اور آپ کی طرح نہیں ہوتے‘، یہ بات ایک صدی قبل امریکی …

Leave a Reply

Your email address will not be published.