سستی بجلی کیلئے نیا طریقہ

برطانیہ کی ایک نجی کمپنی انرجی فیو ژن ری ایکٹربنانے پر کام کررہی ہے (فیوژن ٹھوس مادے کو پگھلا کر مائع میں کرنے کا عمل ہے جس کے دوران دوہلکے نیو یاایٹم کے مرکزے باہم کر نسبتا بھاری نیو کلئیس بناتے ہیں, جس سے بہت زیادہ توانائی پیدا ہو تی ہے .فیوژن ہی ہے جو سورج اور ستاروں روشنی اور حرارت دیتا ہے.کمپنی کہنا ہے کہ اگر یہ عمل میں ہوگئی تو جلانے توانائی بہت بڑا ذریعہ میسر آ جائے گا اور اس عمل کی خاص بات یہ ہو گی کہ میں کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس بھی پیدا نہیں ہوگی۔ اس کا اصول سمجھنے میں بہت سادہ ہے۔

ہائیڈروجن کے ایٹموں ، مناسب حرارت اور دباؤ کو فیوژن کے ذریعے ہیلیم میں بدلا جا سکتا ہے۔ اس عمل کے دوران ہائیڈروجن کی کچھ کیمیت حرارت ہو جاتی ہے, جس سے بجلی کی جا سکتی ہے.مشکل یہ کہ یہ عمل زمین کے لیے کے آسوٹوپس کو کئی گرم کرنا پڑے گا جب تک وہ ٹوٹ کر مادے وہ شکل نہ اختیار کر لیں جسے ” پلازما ” کہتے ہیں.اس پلازما کو ایک محدود یا بند جگہ ہمیشہ مسئلہ رہا گریویٹی کشش کے ذریعے اسے قابو میں رکھتے ہیں, مگر زمین پر ایسا کرنے کے لیے سب سے عام طریقہ طاقتور مقناطیسی ہیں.اس لیے سب سے بڑا چیلنج ایسے طاقتور مقناطیسوں کی تیاری ہے۔

ان کے اندر اتنی طاقت ہونی چاہیے کہ وہ مادے کو بکھرنے سے روکیں, مگر زیادہ بجلی بھی استعمال نہ جتنا کہ اس عمل میں پیدا اور ان کی ٹیم سسٹمز (سی ایف ایس) میں ایک ایسے نئے مقناطیس کریں گے, جس کے بارے میں ان کا کہنا کہ یہ اس میدان بہت بڑی جست ہو ٹن وزنی اور بڑا ہے کہ اس میں سے ایک آدمی با آسانی گزر سکتا ہے۔ اس کے گرد تقریباً 300 کلو میٹر لمبی خاص قسم ٹیپ لگائی گئی ہے۔اس ٹیپ کو بنانے میں کئی لگیں ۔ااسے کدھات کی یکاکا ھدھات کی ایک ار م تسیر

اس سے بنائے گیے یخ بستہ لچھوں کے اندر سے بجلی نہایت کفایت کے ساتھ گزرتی ہے۔ یہ اس لیے ضروری ہے ، کیوںکہ اس میں سے 40,000 ایمپئر کرنٹ گزرے گا۔ بجلی کی یہ مقدار ایک چھوٹے شہر کو روشن کرنے کے لیے ہے۔فیوژن کی صنعت میں یخ بستہ سے ہے کہ اساس ٹیپ کو منفی گاجا و منفی گاجا و منفی گاجا و منفی گاج ری سینت گا ری سین آپ کو شاید یہ بات عجیب مگر اس کا قدرے گرم اشیا میں ہوتا ہے.سی ایس کے شریک بانی اور ایگزیکٹیو ڈاکٹر ممگارڈ کے اس استعمال کریں گے آپ کے کچن کے اندر سما سکتا ہے.اس سے پہلے کام کے لیے جس ریفریجریٹر کی ضرورت تھی کی جسامت آپ کے جتنی ہوتی۔سی ایف ایس اس طرح کے منصوبہ بندی کر رہی ہے. اس شکل کو ٹوکامیک کہتے ہیں۔

ڈاکٹر ممگارڈ کا کہنا ہے کہ کسی تجربہ گاہ کی میز سے پرے اتنا بڑا مقناطیس صرف ہم نے ہی بنایا ہے۔ ہم اب اس مرحلے پر پہنچ گئے ہیں فیوژن مشین ٹیکنالوجی کے میدان میں یہ پیش برطانیہ میں ٹوکامیک انرجی کے پراجیکٹ کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے.ڈاکٹر برٹلز کو یہ تیار کرنے میں 5 سال لگے ہیں .اب وہ مشین بنانے میں مدد دے رہے ہیں ، جس میں کئی طاقتور مقنا طیس ایک ساتھ مل کر کام کریں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بہت سارے کوائلز کا مجموعہ ہو گا جو مل کام کریں گے اور باہم پیدا کرکے ایک دوسرے کریں گے عمل کو کنٹرول میں رکھنا کا بگڑ ان مقناطیسی میدانوں سے پیدا ہونے والی قوتیں دماغ چکرا دینے والی ہیں. یہ مقناطیس ایک فیوژن ری ایکٹر میں نصب کیے جائیں گے۔تحقیق کے طرح ری ایکٹر کو چلانے کے لیے کے مقابلے میں زیا۔ا کی واا کےتحقیق پید تواکے تحقیق پید یہ سی ایف ایس اور دوسروں کے زیر استعمال گول ٹکیہ نما ٹوکامیک سے زیادہ توانائی پیدا کریں گے۔

ڈاکٹر ڈیوڈ کِنگھم جو ٹوکامیک انرجی کے بانیوں کا کہنا ہے کہ ‘اصل چیلنج تجارتی فیوژن ہے۔ اور یہ بات ہمارے لیے کشش کا باعث ہے۔ ہم اسی لیے بیضوی ٹوکامیک پر توجہ دے رہے ہیں ، کیوں کہ اس طویل المدتی فوائد زیایدہ ہیں۔یہ ٹیکنالوجی 2030 جایں دہ لب۔

اس کا سب سے بڑا منصوبہ اس وقت جنوبی فرانس میں زیرِ عمل ہے ، جس پر اب تک ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔ یہ مقررہ رفتار سے سست چل رہا ہے.تاہم زیادہ جیسا کہ ٹوکامیک انرجی اور سی ایف کے ہیں, اب نجی کی توجہ اپنی کروا رہے بنیادوں پر کام کر سکیں گے.ڈاکٹر وال وین لائروپ کے مطابق روایتی طور پر اس شعبے میں سرمایہ کاری کی کمی رہی ہے ، اب صورتحال بدل رہی ہے۔

اب لوگوں کو یہ بات سمجھ میں آ رہی ہے یہ ٹیکنالوجی کا بہت بڑا شعبہ ہے اور اس کے بارے میں ہتیبذب نہیںا ا ا کہ م اس بجلی کی عالمی کھپت اس وقت تین ٹریلین ڈالر سالانہ قریب ہے, جس میں اضافہ ہی ہوگا.اگر یہ (فیوژن) کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے یہ اس شعبے میں اتنی تبدیلی کا باعث ہوگا جو ہم نے کبھی نہیں دیکھی.



About admin

Check Also

حیاتیاتی ارتقاء اور انسانی آنکھ

ڈاکٹر فراز معین اسسٹنٹ پروفیسر،پروٹیومکس سینٹر،جامعہ کراچیحیاتیاتی ارتقاء کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published.