حلوہ کا مزہ ، تب بھی تھا آج بھی ہے

حلوہ قدیم روایتی ڈش ہے۔ شادی بیاہ, عید, دعوت چاہے کوئی بھی تہوار ہو حلوہ ہمیشہ ہی اولین ترجیح رہا ہے.بلکہ صرف ہی کیوں عام طور پر جب کبھی حلوہ کھانے کی ہوتو خواتین حلوہ بناتی ڈش اپنے بھر میں مقبول ہے.مغربی ممالک میں بھی مختلف حلوے بنانا اور کھانا پسندکیے جاتے ہیں۔ہمارے ہاں پاکستان میں اب طرح طرح کے جارہے ہیں ۔چند حلوہ جات کی تراکیب

اخروٹ کا حلوہ

حلوہ کا مزہ ، تب بھی تھا آج بھی ہے

:

اخروٹ. 100 گرام

دودھ ۔2 لیٹر

چینی. 400 گرام

انگوری. 50 گرام

گھی. 50 گرام

بادام. 50

پستے. 50 گرام

میدہ. 100 گرام

ٹاٹری. 1 چٹکی

گلوکوز. 100 گرام

زردے کا رنگ۔ 1 چائے کا چمچ

(الائچی ، جائفل ، جاوتری)۔ 1/2 چائے کا چمچ

:

1۔دودھ کو اُبال کر ٹاٹری شامل کرکے پھاڑلیں۔

2۔اب اسے ململ کے کپڑے میں چھان کر چیز بنائیں۔

3۔ایک پین میںگھی ڈال کر اس میں چیز ڈالیں اور پکائیں۔

4۔اسکے ساتھ چینی ، انگوری ، میدہ ، گلوکوز ، زردے کا رنگ ، الائچی ، جائفل اور جاوتری شامل کرکے خوب بھونیں

5۔آخر میں اخروت ، بادام اور پستے ڈال کر پکائیں۔ اب اسے ٹھنڈا کرکے پیش کریں۔

کھوپرے کا حلوہ

حلوہ کا مزہ ، تب بھی تھا آج بھی ہے

:

دودھ. ایک کلو

سوجی. آدھا کپ

الائچی. ایک چائے کا چمچ (پسی ہوئی)

چینی. ایک پاؤ

ہرا رنگ۔ ایک چٹکی

کھویا. آدھا کلو

کھوپرا ۔دو کپ (پسا ہوا)

:

ایک پین میں سوجی ڈال کر بھون لیں۔

پھر اس میں دودھ ، پسی الائچی اور چینی ڈال کر اچھی طرح مکس کر لیں۔

ایک پیالی میں پانی ڈال کر اس میں ہرا رنگ ڈال کر اچھی طرح مکس کریں اور دودھ والے پین میں شامل کرلیں۔

اب اس میں کھویا ڈال کر اچھی طرح سےمکس کر لیں اور چمچ ہلاتے رہیں۔

پھر اس میں کھوپرا ڈال کر اچھی طرح سےمکس کریں اور چمچ مسلسل ہلاتے رہیں۔

اتنا پکائیں کہ آمیزہ گاڑھا ہو جائے۔

پھر اسے ایک سانچے میں نکال لیں۔

پسے ہوئے کھوپرے سے سجاوٹ کریں۔

کھوپرے کا حلوہ تیار ہے۔

پشاوری حلوہ

حلوہ کا مزہ ، تب بھی تھا آج بھی ہے

:

سوجی. تین پیالی

پسا ہوا گڑ۔ دوپیالی

مکھن. ایک پیالی

پستا بادام ۔سجانے کیلئے

:

1۔کڑاہی میں مکھن گرم.

2۔اس میں سوجی کوسنہرا رنگ آنے تک بھونیں۔

3۔پھراس میں گڑ ڈالیں۔

4ْ۔تیزی سے چمچ ہلاتے ہوئے حلوے کو کناروں سے علیحدہ ہونے تک پکائیں۔

5۔اس میں پستے بادام ڈال کر ڈش سجا کرپیش کریں۔

کھجور کا حلوہ

حلوہ کا مزہ ، تب بھی تھا آج بھی ہے

:

کھجور. آدھاکلو

دودھ. دو کلو

چینی. حسب ضرورت

۔4 / 1 کلو

بادام ، پستہ ، کیوڑہ سبز الائچی ۔حسب ِضرورت

:

1۔کھجوریں دھو کر گٹھلیاں نکال دیں۔

2 ۔کڑاہی میں گھی اور الائچیاں کڑ کڑائیں۔

3۔اوپر سے کھجور ڈال کر تھوڑی دیر بھونیں۔

4۔پھر دودھ ڈال دیں اور پکنے دیں۔

5۔جب دودھ خشک ہونے لگے تو چینی ڈال دیں۔

6۔خشک ہونے پر ایک بار پھر بھون لیں۔

مونگ دال حلوہ

حلوہ کا مزہ ، تب بھی تھا آج بھی ہے

:

زردمونگ دال ۔1 کپ

گھی ۔6 کھانے کے چمچ

دودھ گرم ۔1 کپ

1 کپ

زعفران۔چند تاریں

خشک دودھ ۔1 کھانے کے چمچ

الائچی دانہ سفوف ۔1 چائے کا چمچ

کے لیے: 1 بادام 2 پستہ

:

1۔مونگ کی دال کو پانی میں بھگو دیں۔

2۔ Three تا Four گھنٹے تک اسے بھگوئے رکھیں اور پھر نچوڑ لیں

3 ۔دھوئیں اور ایک مکسر میں بہت تھوڑا سا پانی استعمال کرتے ہوئے گرائینڈ کر کے ایک رف سی پیسٹ بنا لیں

4۔ ایک جانب رکھ دیںپھرایک چوڑے نان اسٹک پین میں گھی پگھلائیں۔

5۔ مونگ دال پیسٹ گھی میں شامل کریں۔

6۔مکسچر کو دھیمی آنچ پر پکائیںجب تک یہ سنہری براؤن رنگت اختیار کر لے۔اس دوران مسلسل چمچ ہلاتے رہیں۔

7۔گرم دودھ اور 1 کپ گرم پانی شامل کریں۔ اس وقت تک پکائیں حتیٰ کہ مائع بخارات بن کر اڑ جائے۔

8۔اس دوران مسلسل چمچ ہلاتے رہیںاورچینی شامل کرلیں۔

9۔اس وقت تک بھونیں کہ گھی علیحدہ ہو جائے۔

10۔زعفران مکسچر شامل کریں اور الائچی دانہ کا سفوف بھی شامل کرلیں۔ پھراچھی طرح سے مکس کرلیں۔

11۔بادام اور پستہ کے ساتھ گارنش کریں۔

12۔گرما گرم کھانے کے لیے پیش کریں۔

مکھنڈی کا حلوہ

حلوہ کا مزہ ، تب بھی تھا آج بھی ہے

:

سوجی. 250 گرام (ایک گھنٹے کے لئے پانی میں بھگو دیں)

چینی. 250 گرام

پسا ہوا ناریل۔ 2 کھانے کے چمچ

پستہ. 25 گرام

گھی. 250 گرام

سبز الائچی پاؤڈر۔ 1 چائے کا چمچ

بادام. 25 گرام

پانی. 1 کپ

:

کڑاہی میں چینی اور پانی ڈال اتنا چینی پانی اچھی طرح سے گھل جائے پھراسی شیرے میں گھی اور پاؤڈر ڈال ہوئی سوجی کا اور سوجی ہوجائے کچا ناریل اور آدھا ڈرائی فوٹ ڈال کر مکس کرکے چولہے سے اتار لیں.اب میں ڈال کراوپر باقی بچا ہوا ڈرائی فوٹ ڈال کر گرم گرم کھانے کے لئے پیش کریں۔

سوہن حلوہ

حلوہ کا مزہ ، تب بھی تھا آج بھی ہے

:

500 گرام (باریک کٹا ہوا)

چینی۔دو کلو

بادام۔ 125

اخروٹ کی گری۔ 125

پانی ۔دو کلو

جائفل پسی ہوئی۔ ایک عدد

چھوٹی الائیچی پسی ہوئی۔ دس عدد

ٹاٹری۔ 4th

جاوتری پسی ہوئی۔ چوتھائی چائے کا چمچ

زردے کا رنگ۔ چوتھائی چائے کا چمچ

گھی. 500

:

کوٹے ہوئے گندم کو دو کلو پانی میں ایک گھنٹے لئے دیں.پھر اس میں چینی, ٹاٹری, جائفل, جاوتری اور زردے کا رنگ شامل پانی ڈال کر چولہے دیں اور مسلسل چمچ چلاتے رہیں.جب گندم گل کر لئی کی طرح گاڑھا ہوجائے تو تھوڑا تھوڑا گھی شامل کرتے جائیں, جب آمیزہ گھی چھوڑنے لگے پتیلی کے کناروں سے ہوجائے تو اسے کی ٹرے الٹ اخروٹ کی گری اور ثابت بادام اوپر لگا دیں .تھوڑا سا ٹھنڈا ہونے پر ٹکڑے کاٹ لیں.لذت سے بھرپور سوہن حلوہ تیارہے.

پھول مخانے کا حلوہ

حلوہ کا مزہ ، تب بھی تھا آج بھی ہے

:

پھول مخانے۔ 250 گرام

سوجی. 1 کپ

کشمش. 2 کھانے کے چمچ

پِسا کھوپرا۔ 1/2 کپ

گھی. 1/2

دودھ. 2 کپ

کنڈنسڈملک. 1 کپ

الائچی پاؤڈر۔ 1/2 چائے کا چمچ

پستہ گارنش۔کے لئے

بادام-۔گارنش کے لئے

چاندی کا ورق۔ گارنش کے لئے

پیلا اور اورنج کلر۔ چند قطرے

کیوڑہ. ایک کھانے کا چمچ

:

ایک پین میں گھی گرم کرلیں۔پھر اس میں پھول مخانے فرائی کریں ، اتنا کہ گولڈن کرسپی ہو جائیں۔

اب الگ پین میں دودھ ، سوجی ، الائچی پاؤڈر اور پیلا رنگ ڈال کر مکسچر گاڑھاہونے تک پکائیں۔

پھر اس میں کنڈنسڈ ملک ، پسا کھوپرا ، کشمش ، کیوڑہ اور فرائی مخانے شامل کردیں۔

پستہ ، بادام اور چاندی کے ورق سے گارنش کرکے سرو کریں۔

کابلی حلوہ

حلوہ کا مزہ ، تب بھی تھا آج بھی ہے

:

کابلی چنے۔ تین سو گرام (اُبلے ہوئے)

دودھ. ایک کلو

گھی. ایک سے ڈیڑھ کپ

چھوٹی الائچی۔ دس سے بارہ عدد دانے

کھویا. ایک پاؤ

کھوپرا ۔ایک کپ (کدوکش)

چینی. ایک پاؤ

بادام پستے ۔آدھا کپ

:

کابلی چنوں کو دھوکر صاف کرکے بھگو دیں۔

پھر نکال کر خشک کرکے دودھ میں ڈالیں اور پکنے کے لئے چھوڑ دیں۔

جب چنے گل جائیں تو دودھ خشک کریں اور اُتار کر بلینڈر میں پیس لیں۔

اب ایک سے ڈیڑھ کپ گھی میں الائچی کے دانے ڈال کر اور اس میں پسے چنے ڈال کر اتنا کہ کاکچا پن ختم ہو جائے الم ہو جائے اور رن

اب اس میں چینی اور کھویا شامل کرکے بھونیں۔

ساتھ ہی کھوپرا کدوکش کرکے شامل کریں اور بھون لیں۔

جب حلوہ گھی چھوڑ دے تو اُتار لیں۔

اسے سرونگ ڈش میں نکالیں اور بادام پستے سے گارنش کرلیں۔

مزے دار کابلی حلوہ تیار ہے۔



About admin

Check Also

ماہِ صیام کی الوداعی اتوار اور افطار دستر خوان

اللہ کے پیارے بندے رحمتوں ، برکتوں کا خوان سمیٹتے ہوئے ، اب ماہِ صیام …

Leave a Reply

Your email address will not be published.