جاپانی ادب میں انسان دوستی

جاپان اپنی تہذیب اور اپنی تاریخ کے تناظر میں ہمیشہ اپنے مذہب اور اپنی تہذیبی و تمدنی روایات سے اہو نظر ۔ا بلکہ مذہب اس کی تاریخ و تہذیب پر اس حد اثر ہے کہ, عقیدے اور مسلک کی اگرچہ جاپانیوں کے لییاہم نہیں لیکن یہاں زندگی کا کوئی معاشرتی پہلو سے دور اور لاتعلق نہیں.

عہد حاضر کے پرہنگام دور میں کہ جنگیں عالمی معاشرے ہوتی ہی ہیں اور جا پان ایسی اور خارجی جنگوں سے ہی عہد حال میں ہر قوم سے زیادہ متاثر ہوا اس کا ایک نمائندہ اظہار ادب میں بھی بہت واضح میں موجود ہے لیکن جس کے ماحصل طور پرانسان دوستی اور بقائے کے احساس بلکہ اس تڑپ نے جاپانی ادب آہنگ سے ممتاز کیا ہے۔

اگرچہ ایسے احساسات ہر قوم اور اس کے تخلیقی مظاہر موجود ہیں لیکن ایک ایسی قوم جس نے ماہ (اواخر نومبر 1944 ء سے 15 / اگست 1945 ء تک) کے عرصے میں ایک بڑی اورمخالف قوم کی بہیمانہ جارحیت کے نتیجے میں اپنی قوم کے پانچ لاکھ ساٹھ ہزار انسانوں کی ہلاکتوں کا, جن فیصد عورتیں اور بچے ہوں, سامنا جس کو اپنے چارسو سے شہری و دیہی مقامات دولاکھ ٹن بموں تباہ کاریوں ذہنی اور عوارض کا کون اندازہ نہ کرسکے گا? یہ کرب اور یہ عوارض عام زندگی طرح متاثر ہوں گے ان کے مظاہر تو اس بچی کچی آنکھوں نے ہوں گے لیکن محفوظ ان تخلیقی کاوشوں کاریوں سے کسی طرح طور جانے اور ساتھ ہی سوچنے سمجھنے کیقابل رہ جانے والے فن کاروں نے اپنی تخلیقات میں محفوظ کرلیا ۔

ایسے فن کاروں کی اْس وقت یا کی کاوشوں اس قوم کے انفرادی کے احساسات نے کے ادب بعض کہ. لازوال ہیں دوسری جنگ عظیم کے بعد تخلیق ہونے والادنیاکا کوئی ادبی کار و فن پارہ, تخلیقی جنگ کے موضوع پر, اپنی اورتاثیر میں شایدان کا مقابلہ اور ادب کے مقبول و روایتی اظہار کے متنوع

ان میں ایک ‘منگا’ manga بھی ہے جو مزاحیہ خاکوں کارٹونوں وسیلہ بناتاہے.طباعت کے آغاز اور اخبارات کی کے ابتدائی دور ہی, جس کا سلسلہ صدی کے شروع ہی معاشرت کے موضوعات کے ساتھ ساتھ ادب اور اس کی چاشنی بھی اس وسیلہ اظہار کا رہی ہے اور زبان نے اس کے مقاصد کی تنظیم میں جاپان میں بڑا اہم کردار بعد کے عہد میں خصوصا دوسری جنگ بعد, ایک نئے معاشرے کی تعمیر اورادب کے زمرے صرف تیزوکا اوسامو ہوگی, جو بعد کے جاپان کے ان ممتاز نامور تخلیق کاروں میں کی شہرت جاپان میں اور جاپان نکل کر عالمی سطح پر کی اپنی اور جاپان شناخت کا باعث کا تخلیق کردہ کردار’استرو بوائے ‘(Astro Boy), ایک اصلاحی و تعمیری انسان نما تصوراتی روبوٹ, پر اسی مقبول و معروف ہے جس طرح شہرت یافتہ ممتاز کارٹون نقاش والٹ ڈِزنی (Walt Disney) کے کردار ‘مِکِی’ (Mickey) اور ‘ماوس’ (Mouse) یا ‘ڈاون ڈک ممم اوم فمےم یںاوا محم یںاو م محم وو م کمحم صو م کمحم صو م کمحم صوا لن تولٹر ع کے سے تخلیق ہوئے ہیں او ر یہی مقصد رکھنے اور کرنے کے سبب ہیں کردار, کے عناصر کے ساتھ ساتھ, جو نوعمر قارئین کے لییپرکشش بنانے کی خاطر ضرور شامل کیے جاتے اضافی طور پرکئی مقاصد کی ترجمانی بھی کرتے ہیں۔

وہ ایک تو اپنے ماحول کے فطری تقاضوں کے ترجمان ہوتے ہیں اور ماحول کی حقیقی عکاسی ان کا مقصد ہوتاہے۔ ان کے ذریعے ہم ان کے ماحول کو بھی ہیں۔اسی ذیل میں اس ماحول میں کردار اس طرح ہیں جو باہم ساتھ اخوت نہیں آتا۔

ورنہ بالعموم مزاح اسی وقت پیدا جب اس کمزوریوں اور فطرت رویوں کونمایاں کیاجاتاہے.اوسامواپنے کرداروں کو طرح بھی پیش کہ کردار روشن اور سبق آموزی ایک واضح فرق وامتیاز ہے کم از کم کارٹونوں پر منحصر ادب سے متعلق شاذ ہی کسی کے ہاں نظر اوصاف اور خصوصیات ساتھ اوسامْو کی سب سے کے جذبات و احساسات ہیں۔

اگرچہ یہ واضح ہے کہ جنگ نفرت خواہش اس ہولناک تجربے اور شدید کرب کے میںہے ان کی تخلیقات نمایاں موضوع بنی سے وہ راست یہ عذاب سہے ہیں ان یا نوجوانی کا دور ہے جب اور شدت عروج پر ہے اس دور کے داخلی و بھرانسان پر طاری و رہتے ہیں اور تخلیقات کا لازمہ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح شاید نقاش اس استقلال کے ساتھ اپنے فن میں جنگ نفرت اور امن سے موضوعات کو اس انداز میں پیش کرنے اس فن کی بنیاد عالمی مقبولیت اور شناخت کے حاصل کرنیکا سبب نہ بن سکا.

جاپان اس لحاظ سے ایک مثال کہ کی اصلاح انسانی محبت و اخوت جیسے فنکاروں نے تخلیقات اور آمیز سے. و کاوش افادی ادب کے زور و اثر کی وہ مثال پیش کی ہے جو اس کے انسانوں اور معاشرے میں عام جلوہ گر ہے۔



About admin

Check Also

بانسری کی سُریلی سُہانی صدا

لیفٹنٹ کرنل ریٹائرڈعادل اختر مسلمان معاشروں میں علم اور شعور کی بہت کمی ہے جس …

Leave a Reply

Your email address will not be published.