امیدوار پارٹی ٹکٹ کیلئے کوشاں

آزاد کشمیرمیں قانون سازاسمبلی کی 33 براہ راست نشستوں پرانتخاب ماہ کے آخری ہفتے میں ہونے کاامکان ہے .کہاجارہاہے کہ شیڈول کا اعلان جون کے میں اس کیاجائے گاکہ جون تک انتخابی شیڈول کااعلان ہوجائے بعد شکل بھی پوری ہوجائے اگرپانچ جون تک شیڈول کا اعلان ہوگا تو 25, 26 جولائی تک انتخابات کاعمل ممکن ہوسکے گاکیونکہ 20 اور 21 جولائی کو عیدالاضحی ہوگی ۔اس تک کط ب پاااتک کطپ ب پاوا ٹیںپ ب پاور ٹیں رد ٹیر د رد

تاکہ اگرکسی پارٹی کے اہم رہنماکوٹکٹ نہ مل سکے توشایدوہ ناراض ہوکرکسی دوسری پارٹی کاانتخاب کرلے۔ پاکستان تحریک انصاف گزشتہ پونے تین سالوں سے وفاق میں حکومت کے پاس اس وقت تک آزادکشمیر ماسوائے چھ حلقوں کے کوئی امیدوارموجودنہیں ہے جوانتخابات میں کسی دوسرے کوٹف مقابلہ دے

عام تاثرماضی میں یہ رہاہے کہ وفاق میں جس پارٹی حکومت ہوتی ہے آزاد کشمیرمیں اسی پارٹی کے امیدواران کرواکرحکومت سازی کی جاتی ہے میں مہاجرین کی جوبارہ نشستیں ہیں وہی سازی میں اہم کرداراداکرتی ہیں. مگر اس مرتبہ پاکستان بالخصوص صوبہ اور کے دورمیں جو ضمنی انتخاب ہوئے ان طرح شکست کا کرنا پڑا نے اکثریت میں ضمنی انتخابات نشستیں حاصل کی ہیں اورکچھ نشستیں پی پی نے بھی لیں ہیں.

ان نتائج کے حوالے سے مہاجرین کی نشستوں کے متعلق قائم کی جاتی تھی اس مرتبہ نتائج اس برعکس ہونے کے امکانات نشست نہ کرسکی تھی تھی سیاسی تجزیہ کرنے والے ذمہ داران کاکہناہے کہ تحریک آزاد آزاد کے صدر بیر سٹرسلطان محمود میرپور کے حلقہ میں چوہدری کے ساتھ زبردست مقابلہ ہے وہاں کچھ بھی ہوسکتے ہیں۔

البتہ پونچھ کی پانچ نشستوں میں ایک تحریک ٹف مقابلہ کرے گاجبکہ مظفرآبادمیں پور ے آزادکشمیرمیں چھ م لآز آزاکشمیر. میں خان سابق وزیراعظم چوہدری عبدالمجیدسابق سینئر وزیرچوہدری یاسین سابق وزیرسردارقمرزمان کاپارٹی سے مطالبہ ہے کہ انہیں ٹکٹ جاری کئے جائیں ایسا کیا گیا تو پی کے بنیادی نظریہ اورگرم سردمیں پارٹی کاساتھ دینے مایوسی

بالخصوص آزادکشمیرکے انتہائی اہم حلقہ راولاکوٹ سابق عابد حسین جنم دن سے آج تک پی کے نظریاتی کارکن چلے ہیں اور کہ راولاکوٹ میں کاکریڈٹ توغلط اگر ہوگا خان جوکہ 2010 ء کے آخرمیں پی پی میں شامل ہوئے تھے کوراولاکوٹ کے دونوں حلقوں سے ٹکٹ دے کر کی گئی تواس عمل سے پی پی پی بنیادی اورنظریاتی کارکنان کوخاصادھچکالگے گا۔ کہاجارہاہے کہ پی پی پی آزاد کشمیرکی موجودہ قیادت اور سینئر رہنما کا ہے کہ ہرایک کو ایکا ہی حلقہ سے ٹکٹ اب ج دیا ا تاورکر

مسلم لیگ ن کے بارے میں کہ پارلیمانی بورڈ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ ممبران اسمبلی کودوبارہ ٹکٹ جائے اورجہاں مسلم ن کاممبراسمبلی موجودنہیں ہے والے انتخابات میں بہترکارکردگی ہ کوٹکٹ جاری کیاجائے.

راولاکوٹ کے حلقہ میں سابق وزیرحکومت سردارطاہرانورایڈووکیٹ اور صدارتی مشیرسردااعجازیوسف کےہ درمیان ٹکٹ کے ود کی ول کی ول کی ول کی ود کی ول کی ود غالب امکان یہی ہے کہ سابق وزیرسردار طاہر انور ایڈووکیٹ حلقے ٹکٹ جاری کیاجارہاہے ۔جے پی پی جاوراولاکوٹ کےا تنول حل.



About admin

Check Also

کیا مشکل معاشی فیصلوں کا نقصان ’’ن لیگ‘‘ کو ہوگا؟

اس حقیقت کے باوجود کہ اپوزیشن کی جانب سے بڑے بڑے عوامی اجتماعات ٗ جلسے …

Leave a Reply

Your email address will not be published.