ادبی تخلیق اور تنقیدی رویے

ایک ناقد پہلے درجے میں فن پارے کا قاری ہوتا ہے مگر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ ایک فن پارے کے متآعلق ناقد ن ت مآت ناقدین کیت مخت اس ضمن میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ تنقید فن پارے کے باب میں تعین قدر اور کا فریضہ سرانجام دے ہوتی ہے وہیں ناقد کو بھی بے نقاب کررہی ہوتی صاحب نہج البلاغہ نے فرمایا تھا: ” بولو کہ پہچانے جائو, کیوں کہ کی شخصیت اس کی زبان کے نیچے چھپی ہوتی ہے۔ ” لکھنا بھی ، بولنے کی ایک توسیعی صورت ہے۔ لکھا ہوا لفظ جہاں وہ نکتہ سمجھاتا ہے جسے سمجھانے کا قصد لکھنے والے نے کیا ہے ، ہیںوہیں لکھنے واملے ی اپنی وت وکا ب اپنی شخصیت انے ب اپنی شخصیت وےا ب

ایک ناقد کے باب میں تو فوراً اندازہ ہو جاتا کہ وہ اُتھلا ہے یا گہرا ، کہاں سے ہاو کر ہےاں سے او ر بات کک ہےا مر سر ت ر ہے ث مرعوب ت ت تاہم یہ بات ایک حد تک ہی درست کہی جا سکتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ناقد کا ایک فریضہ یہ بھی ہے کہ وہ وہاں سے فن پارے کو دیکھے جہاں وہ خود ہہوتا ہے ، تھوڑی اُٹھے رور.

مصنف کے زمانے میں پہنچنا, زمین ہے قدم رکھنا, جس کلچر اور ہے اسے سمجھنا یہ سب فریضے کو تب تک سر نہیں دیا جاسکتا جب تک ناقد اپنی ‘میں’ نہیں مارے گا, اپنے آپ کو بھول اور تخلیق کار کے نقطہ نظر کو سمجھے گا اور اپنے تجربے کی اسیری سے کے جتن نہیں کرے گا۔

یاد رہے ہر شخص اپنے اپنے تجربے کا قیدی ہوتا ہے مگر ایک عمدہ ناقد اس قید یا پنجرے کو توڑنے کیا استطاعت رکھ اچھا ، یہیں یہ بھی کہنا ہے کہ سب انسان ایک جیسے نہیں ہوتے۔ سب کی پسند ناپسند ایک سی نہیں ہوتی۔ سب نے زندگی کو ایک انداز میں نہیں برتا ہوتا۔ جب ہر ایک کا تجربہ اور ذوق الگ الگ ہے تو کسی فن کی بابت اُن کی ایک سی رائے کیسے ہو سکتی ہے؟ دیکھیے فن ماپنے یا آنکنے کا ایسا نہیں کہ ایک محلول پارہ اس میں ڈال کر اس پیمانے پا بنے نشان کاایں

تاہم یہ تشویش بھی اپنی جگہ بجا ہے کہ رائے دینے کے معاملے مثبت اور منفی کا ادل بدل ہمارے ہاں فداک ہون تکی حداک ہون تکی حدح ادب میں یہ انتہا پسندی یا محض ذوقی رائے نہیں چلتی ایک فن پارے کو جانچنے کے کئی قرینے ہیں۔ کہانی کیا ہے؟ پلاٹ کیسا ہے؟ پلاٹ ہے بھی یا نہیں؟ کہانی علامت بنی ہے یا محض ایک واقعہ ہو کر رہ گئی ہے؟

جس تیکنیک کو برتا گیا ہے کیا اس میں کہانی اپنا تخلیقی جو ہر دکھا رہی ہے ؟، برتی جانے والے زبان کیسی ہے؟ کرداروں اور ماحول سے مناسب رکھتے ہوئے جتنا ترفع موضوع کو دیا جا سکتا تھا دے لیا گیا حیات سے جڑت, مجموعی طور پر کی جمالیات کی تشکیل توکہنے کو بہت ہوتاہے ہر ناقد اپنے مطالعے, مزاج اور فکری فنی روشنی میں فن پارے کا متن ہے اور اپنے تئیں فیصلے ہے جو محض منفی نہیں ہوتے کئی سطحوں پر تعبیری اورفنی باب ہوتے وارث علوی نے کہیں لکھا تھا ” تعبیر ایک خود سر ‘خود پسندمغرور حسینہ ہے.’ ‘اور درست لکھا تھا, کیوں کہ ایک فن پارہ ایک پرت نہیں ہوتا ، جس طرح آپ کو گھائل کرتی ہے ، ایک اعلیٰ فن پارہ بھی ایسے ہی پرت در پرت کھلتا ہے۔

محض معنی اور مفہوم کی سطح پر نہیں اپنی مرتبہ جمالیات کے حوالے سے بھی۔ جمالیات کے اپنے اصول ہیں۔ ایک ناقد کو وہ قرینہ تلاشنا ہوتا ہے جو اِس مہین پردے کی طرح فن پارے کی جمالیات قائم کر رہا ہوتا ہے۔ یہ سب فیصلے جس سطح کی سنجیدگی اور جس قسم کا سلجھا ذہن مانگتے ہیں وہ کسی فن پارے کو ” اعلیٰ ” یا ‘ا ا ن موا ن ن مئوا ر



About admin

Check Also

قوم اور قومیت کے تصورات اور سر سید احمد خان

سرسید کے حوالے سے عام طور سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ متحدہ ہندوستانی …

Leave a Reply

Your email address will not be published.