ہم ہیں تو کہانی

ڈاکٹر فاطمہ حسن

ڈاکٹرآصف فرخی کے طرزِ زندگی اور تحریروں پر نظر ڈالیں دونوں ایسی ہم آہنگی نظر آتی ہےا کسی جینویا کا سی جینویا کدیب یںوم ھوب م ت ت ت ع چار عشروں پر مشتمل ادبی سفر میں اس کااسلوب وہی رہا جو ابتدا میں تھا۔ اپنی زندگی کے تجربوں اور مشاہدوں کو, کردار میں اس انداز سے بنتا قاری پوری جزیات کو حیرت اور دلچسپی سے پڑھے اور میں بین السطور لکھی کہانی تک پہنچ آصف کی شخصیت بھی ایسی ہی تھی. ایک ہی شخص ، لیکن متعدد کردار۔ اور ہر کردار اتنا واضح کہ اپنی نمایاں شناخت کے ساتھ نظر انداز یا اوجھل نہ ہونے پائے۔

میری یادوں میں اس کے اتنے روپ ہیں کہ لکھوں تو کئی کہانیاں بن جائیں۔ ویسی ہی کہانیاں جیسی آصف لکھتے تھے یا شاید ویسی کہانیاں جو میں لکھتی رہی ہوں۔ جن کے لکھتے رہنے اور گم نہ ہو جانے میں وہ خود کو ” داخل دفتر ” گردانتے ہیں۔ اس کی یادیں امڈی چلی آرہی ہیں تو ان مختلف روپ کی جھلکیاں دکھا دوں جو میرے تصور میں بہت واضح ہیں۔ پہلی جھلک ، نثری نظم کے معرکے میں قمر جمیل صاحب کی محفلیں ہیں ، آصف نثری نظم سنا رہا ہے۔ اس کی بحث میں شریک ہے ، پھر بزم طلبہ میں مذاکرے میں موجود ہے۔ بہت سنجیدہ گفتگو کرتے ہوئے۔

یہ طالب علم آغا خان اسپتال کے کمیونٹی میڈیسن کے شعبے میں ڈاکٹر آصف اسلم کے روپ ملا تو ایک دوسرا ہی کوا ۔ر محسوو بہت پروفیشنل ، مصروف اپنے پیشے پر حاوی ، پھر ملاقاتوں کا ایک سلسلہ یونیسیف کے حوالے سے بھی رہا۔ 1988 سے 1993 تک میں کچی آبادی اتھارٹی میں یونیسیف کے ایک پروجیکٹ پر فوکل پرسن تھی اور آصف یونیسیف سے وابستہ تھے۔

دفتری رابطوں نے ادبی رابطوں کو بحال کر دیا۔ وہ ادبی دوستوں ، مہمانوں اور کتابوں سے متعارف کرواتے رہے۔ دفتری رابطوں کی بات نکلی ہے تو اس کے ایک اور کردار کو بھی لکھ دوں۔ سیلاب کے زمانے میں مہیڑ میں کام کر رہی تھی ، آصف بھی امدادی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔

اس وقت مجھے جہاں جہاں ضرورت محسو س ہوتی اپنے دوستوں اور عزیزوں سے تعاون طلب کرتی۔ آرٹس کونسل میں احمد شاہ اور یونیسیف میں آصف فرخی مسلسل اشیاء اور دوائیاں مہیا کرتے رہے۔ آصف کے والدین سے احباب تک اتنی مشترکہ یادیں ہیں کہ لکھوں تو مضمون طویل ہو جائے گا۔ مجھے تو اس کی اس کتاب پر لکھنا ہے جس پر کا اظہار میں نے اس وقت جنوری 2020 میں کر دیا تھا جب آصف نے اپنا نیا تنقیدی مضامین کا مجموعہ ” ایک کہانی نئے مضمون کی ” دیا تھا.

آصف کی تحریر پر اس تمام عرصے میں نا لکھنے کی سب وجہ یہ تھی کہ ان کے مطالعے کی وسعتیں کی متقاضی تھیں جو سرسری نہیں لکھا گہرے مطالعے کے بعد تہ در تہ معانی اور حوالہ جات کے سباق سے گزرتے ہوئے اس کے مضامین جہتوں کو سمیٹ کر اظہارِ خیال کرنا ہمیشہ مشکل لگا۔ مگر اب جبکہ میں نے اس کے تنقید ی مضامین کے مجموعے پرقلم ہے تو یہ ایک ایسا عہد ہے جسے پورا کرنے کی میں پوبن

مجموعے کا پہلا ہی مضمون ” سارا شگفتہ اور رنگ چور ” میںسارا کی شاعری سے زیادہ اس کی زندگی کی جااا ظہ د گی ہے

” اس نے افسانوی زندگی کیوں اور کیوں کر گزاری۔ درد و غم جمع کرتے کرتے اپنی کتاب کو میر ؔ کا دیوان کیوں بنا لیا۔ لوگوں کی زبان کے گھائو سہتے سہتے لہو لہان ہو کر ریل کی پٹڑی پر خون کے چھینٹوں میں کیوں بدل گئی۔ سارا کے ساتھ سوالوں کے بہت سلسلے ہیں ، یہ سوال جس قدر فطری ہیںا س قدر مشکل بھی۔ ان سوالوں کا تسلی بخش جواب ملے یا نہ لیے اتنا ہی کافی ہے کہ جہاں ایک گہرا ، بھید تھی وہاں اومی کہ ایسن ہیںمہوہن کہ ایسن مموہن اس کی جیون کتھا اس عہد کا ایسا تجربہ بن ہے کہ اس کے بارے میں سوچنے اتنا پھیل جاتا ہے اا اع اجا ”

اس مضمون میں وہ شاعری سے زیادہ شاعرہ کی ذات اور اس کے فن پر معاصرین کے تنقیدی رویوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ ان تمام لکھنے والوں کا حوالہ بھی دیتے چلے جاتے ہیں جنہوں نے سارا شگفتہ کی شاعری پر اظہارِ خیال کیا ہے۔ ان بکھرے ہوئے خیالات میں ان کی اپنی تنقید محض تاثراتی جملوں محدود رہتی ہے اور یہ نہیں پتا وےق اہےاکی شا م اا ا می وکر بہرحال یہ مضمون ان رویوں کا ضرور جو اس متنازعہ شاعرہ کے ساتھ آصف کا کمال کہ انہوں یہیںتو کہانی. ر کام آتا ہے۔

دوسرے مضمون کا عنوان ” ایک کہانی وقت لکھے گا نئے مضمون کی”ہے جو اس کتاب کا عنوان بھی ہے ا۔ان بھی ہے اوا ظ وم ظع بجم من شعر مضمون کے پہلے پیراگراف میں ہی واضح ہو جاتا ہے کہ یہ سیمینار میں پڑھنے کیلئے لکھا گیا ہے۔ اس مضمون میں جامع مطالعہ ، جوش پر لکھی جانے والی تحریروں اور سے روا رکھے گئے ساااوک کا ہے جے باوریک بن سع انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اردو تنقید پر جوشؔ کے کئی قرض باقی ہیں۔ جوشؔ کے اپنے ہی شعر کے مطابق صرف یہ کہہ کر عہدہ برا نہیں ہوا جا سکتا:

کہانیاں ہیں سرِدوش سیکڑوں اے جوشؔ

اب اُن پہ بار نہ ڈال اِک نئے فسانے کا

کتاب کے آغاز میں دو شعرا پر تاثراتی مضامین کے بعد آصف کی کا جوہر کھلتا ہے جب وہ افسانوں کی جانب آتے ہیں۔ یہی ان کا اصل میدان ہے۔ ” اثرات کا دائرہ ” بین الاقوامی افسانے کے اردو افسانوں پر اثرات کے حوالے سے منعقد ایک یککھریب وور ور ور ت ب آصف چونکہ اسی دریا کے شناور ہیں اس لیے معانی خیز افسانوں سے متعلق رویوں کے ایسے تمام خ

اس مضمون کے فورا بعد ابو صدیقی جیسے نگار پر مضمون ‘گل, کوشش پیہم کی جزا دے’ معلوم نہیں ایسا دانستہ دانستہ مگر آصف کی سوچ سچائی کا عکس ادب کو جو ہماری روایات اور بودوباش سے جڑا ہوا ہے, دوسروں کے اثرات سے بے نیاز ہو کر دیکھنا چاہئے۔ ہم جانتے ہیں کہ ابو الفضل صدیقی ایسے افسانہ نگار تھے جنہوں نے معنوں میں اپنے خطے ، ماحول اوےا یہاں کی بو۔وب ل لکدوب ان کے مضامین اور اسلوب دونوں ہی اپنی منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ ابوالفضل صدیقی پر مضمون کا آغاز آصف نے اس جملے سے کیا ہے۔

” میری روداد ِ سفر میں کچھ افسانے ملتے ہیں اور چند ایک افسانہ نگار بھی آتے ہیں ”۔ آصف فرخی کی اس کتاب میں بہت اہم اور دلچسپ مضمون ” جاسوسِ سلطان درکمیں: آزاد وسطِ ایشیا میں ” ہے۔ اس مضمون میں انہوں نے محمد حسین آزادؔ کے سفر کے حولے سے معلومات مہیا کی ہیں کہ اسے تحقیقی مقالہ بھی قرا سکا جاہے قرا دیت اہے قرا دیت اس سفر کو جو کہ ایک مشن شامل مستند حوالوں سے کروانے کے ساتھ محمد صادق اور اشارف کی صرف شوقِد سیا تقرا. جبکہ آصف خود یہ لکھتے ہیں کہ

” آزاد کی زندگی کا ایک اور محیر العقول اور بھید بھرا واقعہ وسط ایشیا کے سفر کا ہے۔ یہ سفر انہوں نے کیوں اور کن حالات کے تحت کیا۔ آخر وہ وہاں کرنے کیا گئے تھے۔ بہت سی سوانحی تفصیلات کی فراہمی کے باوجود یہ معاملہ پوری طرح حل ہو سکا اور آج بھی ہمیںرہ رہ ک ” حیران کرت

اگلے تین مضامیں میں آصف فرخی نے واضح کر دیا ہے کہ یہ بھی اظہار خیال کی دعوت پر لکھے گئے ہیں تاہم آصف کی فکری گہرائی کے آئینہ دار ” نئی صدی کا پرانا سوال ” میں اکیسویں صدی میں ادب کو کن دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بنیادی سوال ہے جس پر خود آصف نے بھی کئی سوالات قائم کر دیئے ہیں مثلاً کس طرح کے خطرات لاحق ہیں؟ چیلنج کا لفظ کیوں استعمال کیا ہے؟

یہ سوال ہمیں تنگ کیوں کر رہا ہے ؟۔ اس سوال کو بار بار کیوں دہرایا جا رہا ہے؟ دہرانے کے باوجود کیا موضوعات کی جہات پر کوئی فکری بیانیہ قائم کر پائے؟ یا معنویت ہی معدوم کر ددی گئی؟ ہم سوالوں کے دائرے میں کیوں گھومے جا رہے ہیں؟ اتنے سوالا ت کے بعد وہ جس نتیجے پر پہنچتے ہیںان میں بڑی معنویت اور بھرپور فکر موجود ہے۔ وہ لکھتے ہیں

” ہم وقت نہیں گزار رہے ہیں بلکہ وقت ہمیں گزار رہا ہے۔ تصرف میں لا کر استعمال کیے چلا جا رہا ہے ، دیواروں پر بڑھتے سائے دیکھ دیکھ کر ہم مدات کا اندازہ گکا ہیں وت ل ”

اگلا مضمون ” کہانی کھو گئی ” پھر ایسا عنوان ہے جو آصف کی پسندیدہ صنف یعنی سے متعااق ہے ایںمل نو رور 2015 میں کرسا ۔مبر 2015 مک کرس آرور 2015 میں کسر اس میں آصف کا لہجہ شگفتہ ہے اور وہ حسِ مزاح بھی محسوس کی جا سکتی جو سنجیدہ موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے بھی قائم رہی بھی قائم رہی بھی قائم ر بھی قائم ر بھی قائم ر اس مضمون میں کہانی کے حوالے سے ان کے خیالات کی وسعت اور صنف سے ان کے خصوصی لگائو کی نوعیت کا پورا ان سازہ ہا پورا ان سازہ ہورا ان سازہ ورا ہےن سازہ وہ لکھتے ہیں ؛

” کہانی انسان کی بنیادی سرشت کا ایک حصہ ہے۔

میں جو یہ بات کہہ رہا ہوں ، میں بھی کہانی ہوں اور آپ جو یہ بات سن رہے ہیں آپ بھی افسانہ ۔۔۔ ہماری زندگیوں کا ہر عمل کہانی کے مرحلے کی طرح آگے بڑھتا ہے۔ ہمارا کھانا پینا ، سونا جاگنا ، اٹھنا بیٹھنا سب کہانیاں ہی تو ہیں۔ ہم ہیں تو کہانی اور جب نہیں رہیں گے تو کہانی ”

یوں لگتا ہے جیسے آصف نے اپنے متعلق پیش گوئی کر دی ہو۔

مضمون ” زبان غیر سے شرح آرزو: اردو پر دیگر زبانوں کے اثرات ” میں ان کا انداز بہت تیکھا اور جملے دار ہیں جو بہت سنبھال کر کے باوجود اصل صورتحال کی ستم کو ظاہر کر ہیں. یہ ایک بہت علمی نوعیت کا ایسا مضمون ہے جس میں آصف کا وسیع مطالعہ ان کی سے ہم آمیز نظر آتا ہے۔ آصف فرخی کی تحریر کی سب سے بڑی خصوصیت یہ کہ ان میں حوالے فکر سے کشید ہوئے محسوس ہوتے ہیں اور میں ا ن نا بات م ا ن کیا بات ہیںئقہوںد د ا بات ہیںئقہوںد ت جا بات ہیںئقہوںد د اس مضمون میں آصف نے لگی لپٹی نہیں رکھی مثلاً انہوں نے صاف طور سے لکھا ؛

” اردو یعنی کیا؟ یہ زبان ہے یا قومیت؟ اس زبان کا خود اپنے آپ سے کیا رشتہ ہے ، اپنی پرورش کنندہ تہذیب سے ، اپنے سشرمائے سے اونے اپےوا سے ےو کھےو بون ن تو بون ن تور کیا یہ زبان صرف ایک ٹھپہ لگا دیتی ہے یا فکری و تہذیبی طور پر متعین کرتی ہے اورثروت مند بھی؟ ”

اس مضمون میں آصف نے اردو زبان سے متعلق ایک ایسی جہت کی طرف اشارہ کیا ہے پر مزید توجہ و تحقیق کی ضرورت ہے۔ وہ فارسی اور انگریزی زبانوں کے پر بارے میں ہوئے بتاتے ہیں کہ ان دونوں لسانیاتی و تہذیبی اساس مختلف ہے حوالے سے ایک یہ مختلف زبانیں میں ہیں جن کے سامنے ارد وکی حیثیت عوامی رہی ہے. اس طرح وہ اردو زبان کے حوالے سے ایک ایسے مثبت پہلو کو سامنے لا رہے ہیں جسے پیش نظر رہنا چاہئے۔ وہ لکھتے ہیں ؛

” اردو نے جن دوسری زبانوں سے اخذ اور استفادہ کیا ، اس اثر اردو کی اس حیثیت کو چیلنج کیکیا ہے نا بے اب تاکہ ہےم با ”

آصف کے تنقیدی مضامین کے مندرجہ بالا حوالوں سے اندازہ لگایا جا ہے کہ ان میں ہمارے عاہد کی حسیت ،ااید کی سیت ،اموضو ہے سحت ،اموضو س ست کاموضو عنت رع گہعات گہعو سات رع یہ مضامین ایک ایسے قلمکار نے لکھے ہیں جس کی شخصیت کی جہتیں صحیح معنوں میں ہمہ ہیں.پھر وہ علمیت بھی ہے نسل در نسل ان کے گھرانے میں موجود رہی ایک طرف وہ ڈپٹی نذیر احمد, شاہد احمد دہلوی کے سے ہیںاور محمد حسین آزادسے بھی تین نسلوں ورثے میں ملی ہے تو تاج بیگم اور ڈاکٹر اسلم فرخی کے سائے میں پروان چڑھے۔

وہ والدین جنہوں نے اردو کے کلاسیکی ادب ، علم کی تدریس و تحقیق میں عمر بسر کی تھی۔ پھر آصف نے کسبِ علم کا ہر ذریعہ اپنایا۔ عہد حاضر کے لکھنے والوں کا مطالعہ, ان سے رابطے, کی تخلیقات کے تراجم و اشاعت سے حاصل والی وسعت فکر و ان کے مضامین مجموعے کو صحیح معنوں میں ” ایک کہانی نئی کی ” قرار دینے کے لیے ٹھوس بنیاد بن گئی ہے.



About admin

Check Also

قوم اور قومیت کے تصورات اور سر سید احمد خان

سرسید کے حوالے سے عام طور سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ متحدہ ہندوستانی …

Leave a Reply

Your email address will not be published.