مہمان پرندوں کی منتظر ” ہالیجی جھیل ”

نعیم میمن

تاحد نگاہ بہتا ہوا پانی, لہراتی تازہ درختوں کی بھری اور خوب صورت چہچہاتے پرندے کے ماحول میں ایسی پیدا کر رہے کہ دیکھنے نہیں سکتا.یہ ذکر ہورہا, ” ہالیجی جھیل ” کا, جوکراچی سے ٹھٹھہ جانے والی شاہراہ پر تقریبا 85 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ ٹھٹھہ سے پہلے شمال کی جانب یہ جھیل اپنی نوعیت انمول جھیل ہے.اگر آپ جھیل کی صورتی اور دل کشی ہیں, تو یہاں علی یہاں کے مناظر کو کے دور میں جہاں زندگی اتنی تیز ہوگئی ہے, کہ کو کسی کا کچھ خیال ہی اس قدر پُرسکون ماحول ، اپنی تمام تر مایوسیاں ، ناکامیاں ، غرض زندگی کی الجھنیں بھول جاتا

کہا جاتا ہے کہ اس جھیل کی لمبائی 685 مربع میل ہےاور گہرائی اوسط 17 فیٹ تک ہے۔ اس جھیل میں کینجھر جھیل سے بھی پانی چھوڑا جاتا لیکن اب یہ سلسلہ بند کردیا گیا ہے 70 ء کی دَہائی میں اااا ان فا و ر تر ہر

اس جھیل کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ہجرت کرنے والے پرندوں کی پسندیدہ آماجگاہ تھی۔ 1972 ء میں اس جھیل کو جنگلی حیات کی مکمل پناہ گاہ (سینکچوری) کا درجہ دیا گیا تھا۔ 70 ء سے 80 ء کی دہائی تک ہالیجی وائلڈ بورڈ کےزیر ِ انتظام میں ہوا کرتی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب یہاں نقل مکانی کرنے والے پرندوں کی تعداد لاکھوں میں ہوا کرتی تھی۔ اس وقت بین الااقوامی ادارے کی ٹیم نے یہاں سروے کیا تھا, جس میںانہوں نےتقریبا 255 پرندوں کی اقسام یہاں سے کی .سروے کے بعد جھیل کو ” پرندوں کی جنت ” کا لقب بھی دیا گیا تھا. اسی طرح ہالیجی جھیل میں دلدلی مگرمچھوں کی بھی افزائش ہوتی تھی۔

2004 ء میں مگرمچھوں کی تعدادتقریبا 100 تھی, لیکن حالیہ سروے ہو رہا ہے کہ ممکنہ طور پر یہاں دو مگرمچھ ہی بچے, جنہیں وائلڈ لائف والوں نے جھیل سے منسوب طور پر رکھا ہوا ہے.ایک وقت تھا کہ ہالیجی جھیل کی سیر کے لیے سیاح, بہت محتاط طریقے سے کی سیر کرتے تھے ، کیوں انہیں ڈر ہوتا تھا سے کوئی نکل کر آجہائے ، لیکن اہیم شکاے اوجن ام شکاےد او ن گوجم یہ وم ے کہوںس وںم ویسے یہ بات درست بھی ہے ، کیوں کہ پوری جھیل گھومنے کے بھی یہاں صرف دو مگرمچھ نظر جو پانجرے میں قیود ا د جگہد د جگہد جگہرکچھ فرصلر گزشتہ کئی برسوں سے ہالیجی جھیل تباہ حالی کا شکار ہے۔

وسائل کی کمی اورمقتدر حلقوں کی عدم توجہی کی وجہ سے جھیل اپنی رونقیں اور شناخت کھو بیٹھی ہے۔ کینجھر جھیل سے پانی کی بندش کے بعد ہالیجی جھیل پانی کی سطح دن بہ دن کم جارہی ہے ، جس کے باثعث گنےا کاو ا ہا کر در ت ر تر صرف یہی نہیں بلکہ گندے پانی کی وجہ سے مچھروں کی بہتات جھیل سے سیاحوں کو بھاگنے پر مجبور کردیتی ہے۔ اگرہ الیجی جھیل کی طرف توجہ دی جائے ، تو اِس کی رونقیں دوبارہ بحال سکتی ہیں۔کہا جاتا ہے کہ فنڈز کی کمچی ہے وجہ ک و ِن وجہ سِ جھین ِ ِ

لب جھیل تین کشتیاں بھی نظر آئیں, جن کے ذریعے جھیل کی کا کام سر انجام دیا جاتا ہے, لیکن اتنی بڑی صفائی ستھرائی کے لیے صرف تین کشتیاں اب بھی یہاںسیاح تو آتے ہیں, لیکن ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے. یہاں آنے والوں میں اکثریت ایسے افراد کی ہے ، جو مچھلی کے کے شوقین ہیں۔اگر ہالیجی جھیل پر توجہ دی جائے ،. تو



About admin

Check Also

سونے ، چاندی اور تانبے کا شہر کھنڈرات میں کیسے تبدیل ہوا؟

فیصل میمن مٹی کے برتنوں کے ٹکڑے, ٹوٹی لال کے ظروف کر نگاہیں وادی سندھ …

Leave a Reply

Your email address will not be published.