فلسفہ شہادت حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ

آغا سید حامد علی شاہ موسوی

نواسۂ رسول ؐ امام حسینؓ کی شہادت کوصدیاںبیت چکی ہیں۔ ہر محرم کے قریب آتے ہی ایسے لگتا ہے جیسے نبی ﷺکے لاڈلے نے آج ہی اسلام کے تحفظ کےلیےرختِ سفر باندھا ہے۔ فرزند رسول کی پردرد داستان سن کرآنسو ہیں کہ رکتے ہی صاحب درد رسولﷺ کے گھرانے کی قربانی کا ذکر ایک ولولہ, ایک جذبہ ایک قوت حاصل شہدائے کربلا کے خون کی لافانی تاثیر ہی ہے کہ جتنے آنسو اس واقعے پر بہائے گئے, اگر ان کو جمع تو آنسؤوں کا سمندر وجود میں آ بقول مولانا ابوالکلام آزاد ” جس واقعے نے اسلام کی دینی, سیاسی اور اجتماعی تاریخ پر سب سے زیادہ اثر ہے, وہ امام حسین کی شہادت کا عظیم واقعہ ہے. بغیر کسی مبالغے کے کہا جاسکتا کہ کسی المناک پر نسلِ انسانی کے اس قدر بہے ، امام حسین ” ” شکاہےا ل ب ب ” شکاا س ب ب چک ج ب

قرآن کریم میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ” اور ہم تمہاری آزمائش کر کے رہیں کچھ خوف اور بھوک اور و جان اور پیداوار کے کچھ نقصان سے اور (اے پیغمبرﷺ) صبر کرنے والوں کو (فتح و کامرانی) کی بشارت دے دیجیے. (سورۃ البقرہ)

تاریخ گواہ ہے کہ اس آیت میں جن آزمائشوں کا ذکر کیا گیا ہے ، سوائے فرزند رسول اماگزم حسینؓ کےکوئی بہ یکا وقت ےو بم یکا وت ےن ن سم حر نواسۂ رسول الثقلینﷺ حضرت امام حسین نے دین اسلام کی کی خاطر دشت کر بلا میں امتحان کا سامنا کیا, اپنا گھر لٹا دیا, اپنے اصحاب باوفا کی دی, اپنے پیاروں کو اور پیاس ان کی لاشوں کو پامال ہوتے دیکھا, حتی کہ اپنی مخدرات کی چادریں بھی قربان کردیں ، لیکن پائے استقلال میںذرا لغزش نہ آئی۔

دوشِ نبیؐ پہ خود کبھی ، نوکِ سناں پہ سر کبھی

عشق کی بارگاہ میں ، یوں ہوا سرفراز عشق

دینِ خداوندی ، شریعتِ مصطفوی ؐاور اقدار کے کے لئے ان صبر کرنے والے حسین ؓ یوں فا ہ و کایم ،ہانی نصیب کہر در نصیب کہن رد

آج ہر باضمیر حسین کو اپنا پیشوا سمجھتا پسند کردار سے جذبہ کشید کرتا ہے, محروم و مظلوم کے سے وابستہ باعث نجات سمجھتا و زوال کی داستانیں والا مورخ ایڈورڈ گبن یہ کہنے مجبور ہو جاتا ہے ‘شہادت کا پردرد واقعہ رحم اور سنگ دل کو بھی متاثر کردیتا ‘ہند کی تحریک کے دوران گاندھی کہتا نظر آتا ہے آتا عمل کرکے انسان نجات حاصل کرسکتا ہے “ہیروز اینڈ ہیرو ورشپ کا مصنف کارلائل اعتراف کرتا ہے”. شہادت حسین کے واقعے پر جس قدر غور و فکر کیاجائے گا, قدر اس کے اعلی مطالب روشنی میں آتے جائیں “واشنگٹن ارونگ حیران نظر آتا ہے: ” حسین پر پڑنے والی مصیبتیں ایسی تھیں جو بھی فرد کو اپنے ارداے پر رہنے دیتیں, لیکن حسین آخر دم اپنے عزم و ارادے پر قائم رہے ”.

انسانیت کے نام پہ کیا کرگئے حسینؓ

تاریخ کے بلند خیالوں سے پوچھ لو

امام حسین ایسے انسان ہیں, جنہوں نے ذلت و سوائی کو اپنے قریب پھٹکنے نہیں دیا, تلوار سائے میں جرأت و اور شہادت کو کی باوقار درس آموز ہے .خون حسین دین و شریعت کے ماتھے کی ہے, آپ اطہار کی کی صعوبتیں دشمنان دین کی کا باعث اور آپ کاری کی پیروی انسانیت کی تحمل اور جرأت وشجاعت آسمانوں کے فرشتے محوحیرت ہیں.کسی شخصیت کی نقشہ کشی اس کے نمایاں ترین, علم و عمل, جہاد و مبارزہ, ایثار و قربانی, استقامت, طہارت و اخلاص اور زہد و تقویٰ سے ہوتی ہے۔

ایک روایت ہے کہ چند صحابہ کرام حضور ہمراہ جارہے تھے کہ سامنے سے حسین آگئے, سرکار دوعالمﷺ نے بڑھ کر انہیں پکڑنا حسین ادھر دوڑنے لگے, یہاں تک کہ آغوش اٹھا ایک دست رسالت حسین کی گردن کے پیچھے اور ایک کے نیچے رکھ کر حسین ؓ کے لبوں کر فرمایا کہ حسین مجھ سے حسین ؓ سے ہوں ، پالنے والے دوست (طبقات ابن سعد)

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم آقا ومولیٰ ﷺکے ساتھ نماز عشاء ادا کر رہے تھے۔ جب آپ سجدے میں گئے تو حسنؓ اور حسینؓ آپ ﷺکی پشت مبارک پر سوار ہو گئے۔ جب آپ ﷺ نے سجدے سے سر اٹھایا تو دونوں شہزادوں کو اپنے پیچھے سے نرمی کے ساتھ پکڑ کر نیچے بٹھا دیا۔ جب آپ ﷺدوبارہ سجدے میں گئے تو وہ پھر کمر مبارک پر سوار ہو گئے۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ نے نماز مکمل کر لی۔پھر آپ ﷺ نے دونوں کو اپنے مبارک زانوؤں پر بٹھا لیا۔ (مسند احمد, المستدرک للحاکم, طبرانی فی الکبیر, سنن نسائی) نانا نے حسین کے لئے سجدہ طویل نواسے نے نانا کا قرض اتارتے سجدۂ خالق میں سر کٹا کر سجدے معراج عطا کردی.

ایک روایت کے مطابق راوی کہتا ہے کہ میں خدمت میں شرف یاب ہوا تو کیا دیکھا کہ دوشِ رل۔ولﷺ پر سمیاکے االا ر سمیاکے اد میں نے عرض ،د م نے عرض لد م نے عرض ضد میں نے عرض ،د میں نے عرض لد م نے عرض لد م نے عرض لد م نے عرض لد م نے عرض.

محرم الحرام اپنے دامن میں غم و الم اور کی داستانیں سموئے ہوئے ہے.یہ نواسۂ الثقلین شہزادہ کونین سے خاص نسبت رکھتا جنہوں نے جذبہ کے ساتھ اپنے جد استحکام و دوام کے لئے فساد پیکروں سے نبرد آزما ہوکر اپنے کو گلے لگایا اور ظلم و بربریت ، جبر استبداد نابود کرکے عدل و الٰہی مکتب کی بنیاد رکھ انسانوں کو عملی درس دیا۔

آپ کا مقصد وحید امت کو ضلالت و گمراہی سے نکالنا اور نجات دلانے کے رشدو ہدایت سے اس لیے قیام فرمایا, امت مسلمہ کی کرکے امر بالمعروف او کریں اور اللہ حاکمیت کا بول بالا ہو, چناں چہ بحار الانوار کی جلد کا مقصد قیام اس طرح مذکور کہ میں ظلم و زیادتی و تفریق پیدا کے لئے اور منکرات سے روکنے کے لئے قیام کررہا ہوں .آپ کا حیات حیات نیتی اور خلوص کے ساتھ عالم کے مابین زندگی کو تھا, یہی وجہ ہے کہ بشریت کبھی فراموش نہیں کرسکتی.

حسین ابن علی نے دشت کربلا اپنے انقلاب برپا ثمرات سے دنیا تا روز استفادہ کرتی رہے گی شہادت نے کے ذریعے خلاف جہاد کا درس حسین اس قدر اثر آفریںہے کہ اس کی جہات کا اندازہ آج تک کوئی مفکر و نکتہ داں نہ کرسکا.

حالات کتنے ہی ناسازگار کیوں نہ ہو جائیں, حسین نے ایسے انقلاب کی بنیاد رکھ دی ہے جو حق پرستوں کے حوصلے نہیں ہونے دیتا, کربلا میں بلند رہا ہے.نبیوں کی محنت بچانے والا حسین کسی انسان کی مدد کا محتاج بلکہ اس استغاثہ کا مقصد ہر میں انسانیت کو جب بھی کہیں ظلم والوں سے بیعت طلب گار ہوتو صدائے انکار بلند کردو.حسینکا بیمار قوموں کے لئے نسخہ اکسیر ہے, مظلوموں کی ڈھارس ظالموں کے لئے پیغام اجل ہے, اسی لئے ہو یا فلسطین ہر مظلوم کا نام لے کر ہی موت سے ٹکرانے پاتا ہے کہ:۔

سر کو تو کاٹ سکتا ہے ہر دور کا یزید

لیکن وہ سر جھکا نہیں سکتا حسینؓ کا



About admin

Check Also

شہیدِ منبرومحراب سیدناعمربن خطاب رضی اللہ عنہ

محمد عبدالمتعالی نعمان امیر المومنین, خلیفہ دوم, مراد پیمبر, عشرۂ مبشرہ کے بزم فاروق اعظم, …

Leave a Reply

Your email address will not be published.