بجٹ مختص کرنا کافی نہیں ، ترقیاتی کام بھی شروع کریں

قومی اسمبلی میں پیش آنے والے ناشائستہ واقعات کے اور حکومت میں کسی حدتک سیزفائر ہے ظاہر کیا جارہا ہے جب بجٹ منظور آئے گا وجہ کہ اسپیکرنے اپوزیشن کو یہ یقین دہانی کرائی تھی دنوں میں جوقانون سازی کی گئی سے دوبارہ مشاورت گی, مگر اگلےہی فوادچودھری اور کہ جو قانون سازی ہوچکی ہے۔

اسے واپس نہیں لیا جائے گا کو اپنی کرنے کے روز لگے, لیکن اس تقریر میں ایسی بات نہیں, جس حوالے سے سوچا جائے کہ دینا چاہ رہے تھے, اس یہ خدشہ ظاہر کیا جارہاہے کہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان جو سیزفائر ہوا ہے وہ کسی وقت ختم ہوسکتا ہے اور پھر وہی جنگ وجدل کے مناظر اسمبلی میں رونما ہوسکتے ہیں۔

سیاسی حوالے سے اس وقت ملک میں ایک بے فضا ہے اور یہ چہ مگوئیاں ہیں کہ بجٹ بھی ہوسکتا ہے, بلوچستان میں جو کچھ بھی سیاسی حلقے تشویش پہلی بار اسمبلی تالے لگائے گئے اور وزیراعلی پربھی جوتے پھینکنے کے, ایسے حالات میں کیا جمہوریت اپنی رفتار سے چل سکتی ہے ممکن نظرنہیں آتا دلچسپ بات یہ کہ اس سارے تناظر میں پنجاب جاری لوگ اسے اسپیکر چودھری پرویزالہی کی ماہرانہ اور قائدانہ صلاحیتوں کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں.

پہلی بار اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز نے بھی اسپیکر پرویزالہی ملاقات کی, یہ گویا مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) سے ایک طویل عرصہ بعد راست رابطہ ہے, شاید اس میں ایک ہم آہنگی دیکھنے میں آرہی ہے, پنجاب حکومت اور پی کے ارکان جن میں ملتان کے بھی شامل ہیں ، بجٹ کو مثالی ہیں ، ان تاریخ پہلے نہیں کیا گیا ہے۔

ملتان اور جنوبی پنجاب کے ارکان اس اس بجٹ مثالی قرار دے رہے ہیں کہ اس میں جنوبی پنجاب کے لئے پہلی بار 35 فی صد بجٹ مختص گیا ہے, بجٹ تو پچھلے بھی مگر بیشتر حصہ صرف نہیں ہوسکا, جس پر وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے دن پہلے شدید تنقید بھی کی تھی کہ 30 جون تک پچھلے مالی سال کا مختص بجٹ ضیائع ہوجائے گا۔

اسے بروقت خرچ کیوں نہیں کیا گیااور جن ترقیاتی منصوبوں اعلان کیا گیا تھا, ان پر شروع کیو ں نہیں گیا گیا ہے کہ اس بار جو کیا جاتا ہے اگر بیوروکریسی اس بار بھی روایتی ہتھکنڈے استعمال کرتی بجٹ کو خرچ نہیں کرتی, تو آئی جنوبی پنجاب کا حق نہیں, اس لئے کیا جائے, بلکہ اس بجٹ کو منصوبوں پر خرچ کرنے کی رفتار بھی بڑھائی جائے, تاکہ ترقیاتی بروقت مکمل ہوسکیں اورعوام کو اپنے علاقوں میں ترقی ہوتے نظرآئے.

تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی یہ شاید کررہے گزشتہ کی مدت میں جنوبی نظرانداز کیا گیا ، سوائے ڈیرہ جنوبی ازالہ. محرومیوں کا نہیں کیا جاسکتا, ڈیرہ غازی خان میں بھی زیادہ صرف کاغذوں تک محدود ہیں ان پر عملی طور نہیں ہوسکا, پنجاب کا بجٹ اس وقت قرار پائے گا, جب سے ریلیف کے عام آدمی تک پہنچیں گے, ورنہ یہ بھی اعداد وشمار گورکھ دھندہ ہی سمجھا جائےگا ، جوصرف کاغذوں حدتک عوام کوریلیف دینے کا ذریعہ ہے مگرعملی طور پر ان کی محرومیوں کا نتہیں کر

جہاں تک محرومیوں کے ازالے کا تعلق ہے, تو کچھ ایسی خبریں بھی آئی ہیں اندازہ ہوتا ہے کہ کے ازالے کے کرائے جارہےہیں مؤثرنظام ہونے کی وجہ سے ایسے پراجیکٹس بننے کے چند دنوں میں پھوٹ کا شکار ہوجاتے ہیں, اس سب سے بڑی مثال وزیرخارجہ شاہ قریشی کے قومی حلقہ میں کا ریلہ برداشت نہ کرسکی اور اس میںعین چوک پر شگاف پڑگیا, ٹرک دھنس, گندے پانی سے سڑکیں اور اردگرد کے علاقے گئے, لوگوں کے گھروں گندا پانی گھس گیا اور لوگ اس تختی کو دیکھتے

جو چندماہ قبل ہی شاہ محمود قریشی کے نام روڈ پر لگائی گئی اور ان کا افتتاح کرایا علاقہ کا کہنا وزیرخارجہ کے میں معیار کہاں آئے گا, یہ جو شہر آباد علاقے ہے اور یہاں سے روزانہ ہزاروں, سینکڑوں گاڑیاں گزرتی, علاقہ کا کہناہے یہ سٹرک جو کی بارشیں شروع ہوئیں تو ہے کہ یہ سڑک کہیں بیٹھ ہی نہ جائے ، حیرت بات کی ہے کہ شاہ محمود قاقایشی ابھی تک ا۔وکا سن بور سر سن سن سن سر



About admin

Check Also

کیا مشکل معاشی فیصلوں کا نقصان ’’ن لیگ‘‘ کو ہوگا؟

اس حقیقت کے باوجود کہ اپوزیشن کی جانب سے بڑے بڑے عوامی اجتماعات ٗ جلسے …

Leave a Reply

Your email address will not be published.