اعلیٰ تعلیم میں معاشیات کے نصاب میں کیا پڑھایا جانا چاہیے؟

بزنس لیڈرز کو کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر معاشیات (اکنامکس) کی تعلیم حاصل کرنے سے کیا فوائد حاصل ہوتے تعلیمی اداروں میں معاشیات کے نصاب میں طور پر پالیسی پڑھائے ہیں زری پالیسی اور ریگولیٹری پالیسی. اب ذرا اس بات پر غور کریں کہ ان میں سے علم فارغ التحصیل ہونے کے بعد پارلیمان یاافا رولیٹمں داوںن شولفم ھیںکوہم موہم موم وکم موہم موتیر اےوہم ےموت

جامعات سے فارغ التحصیل طلباکی اکثریت کو مختلف کاروباری اداروں یا غیرمنافع اداروں میں کام کرنے کے مواقع حاصل ہوپاتے ہیں, جہاں اداروں کی آمدنی, اخراجات اور آپریشنز پر اگر کچھ طلبا کو مختلف سرکاری میں موقع تو وہ وہاں جاکر کوئی ریگولیٹری گے, اس کے انھیں آمدنی یقینی بنانے کی ذمہ داری جائےگی.

کئی طلبا کو کھیلوں کے مختلف اداروں ، خیراتی اداروں وغیرہ میں کام کرنا گا ، جن کی انمو کا دار ہےلیوی ا دار لیویر بزم دار لیوزر بم ترت ست موجودہ تعلیمی نظام کے ناقد ین کا کہنا ہے کہ میں اکنامکس کے نصاب کا پالیسی معاملات دینا ایک بےنتیجہ کوشش جس کا مستقبل کے لیڈرز کو بامعنی اور عملی دینے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا.

مختلف شعبہ جات میں شمولیت اختیار کرنے والے افراد کو اکنامکس اور مائکرو اکنامکس کے کچھ بنیادی حقائق سمجھنے جنھیں آنے والے کئی عشروں اپنے پیشہ ورانہ کیریئر میں استعمال میں کی ضرورت پیش آئے گی.

میکرواکنامکس کی مدد سے معاشی سست روی ، معاشی تیزی ، اور افراطِ زر وغیرہ جیسے معاملات کو سمجھجھنہے میں معاشی ملت کسی بھی ملک کی معیشت کے مستقبل سے متعلق کرنے کے معاملے میں ماہرین کا ٹریک ریکارڈ اتنا اچھا نہیں متعلق کئی معاشیات نے ضرور خبردار کیا تھا, تاہم محدود پیمانے پر ہوں گے. ماہرینِ معاشیات کی پیش گوئیوں کے برعکس وہ کساد بازاری انتہائی سخت ثابت ہوئی تھی۔

میکرواکنامکس کے طالب علموں کو بزنس سائیکل کے دوران مختلف شعبہ جات کی ٹائمنگ پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔ مثلاً ، ہاؤسنگ کنسٹرکشن کا شعبہ اُس وقت بھی تیزی دِکھاتا ہے ، جب معیشت کے دیگر شعبہ جات سسر رےوی کا شکار تہ

اس کی وجہ یہ ہے کہ معاشی سست روی میں مرکزی بینک کا پالیسی ریٹ کم سطح پر ایسے وقت میں مستحکم کے حاکوشش پایرتی کا اییتی کا

مائکرواکنامکس, جس میں انفرادی منڈیوں کے رجحانات کو دیکھا جاتا ہے, کے علموں کو یہ بات سیکھنی چاہیے بھی منڈی میں قلیل کے بجائے طویل مدت میں لچک زیادہ دیکھی جاتی بہ الفاظ دیگر اس کا مطلب یہ ہے کہ قیمتوں تبدیلی طلب پر اثر اگلے ایک ہفتہ یا مہینہ دوران ظاہر ہونے کے بجائے کئی مہینوں یا سال بعد دیکھا جاتا ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ، جب پیٹرول کی قیمتیں بڑھتی تو بہت کم صارفین اپنی گاڑی ہیں ، اس کے بجائے اپیی یدوں ۔ی ںوں ی وں وں خ وج جیحر تور تر

اس عمل کا اثر پیٹرول کی کھپت پر کئی مہینوں یا سال بعد ظاہر ہونا شروع ہوتا ہے۔ پیٹرول پر چلنے والی موجودہ گاڑیوں کی تعداد کم کرنے یا متبادل پر منتقل کرںنے میں وقت درکاث اظ ق ماا ا ت رت

اسی طرح ، قیمتوں میں تبدیلی کا رسد پر اثر بھی ایک عرصہ بعد نظر آنا شروع ہوتا ہے۔ بڑھتی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے فوری طور پر رسد بڑھانا نہیں ہوتا ، نئی پیداوار بڑھانے یا میں ہےاانے یا میں یکااا مخصو وم عاو م وقیم وقیم کوم وم عوم عوم عوت عرب

کامل مسابقت (پرفیکٹ کامپی ٹیشن) پر بہت زیادہ زور مائکرو اکنامکس کا نصاب طلبا کو مسابقت کا ہکہیںااا بقت کا حقیقیہاا ب تاہم کامل مسابقت کی عدم موجودگی سے یہ بات بھی اخذ نہیں کرنی چاہیے کہ ایک منڈی میں بالکل بھی نہیں پائی جاتی۔

کئی مصنوعات کے متبادل دستیاب ہوتے ہیں۔ ایک امریکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق 14 بڑی کارپوریشنز دنیا بھر میں 60 سے زائد آٹو برانڈز کو کنٹرول کرتی ہیں اور فہرست میں مستقبل میں متوقع طور ابھر کر سامنے آنے والی کئی کارپوریشنز شامل نہیں ہیں, جیسے ٹیسلا. بہ الفاظِ دیگر ، مسابقت موجود ضرور ہے لیکن وہ انتہائی محدود ہوتی ہے۔

بلاشبہ اعلیٰ تعلیم کی سطح پر معاشیات کے پڑھائے جانے والے نصاب طلبا کے سیکھنے کے لیے بھی موجود ہے کی اود ض ا توہم پتوت ک اد ترت رد



About admin

Check Also

بچوں کی پرورش اور دنیا کے امیر ترین افراد

’امیر افراد میری اور آپ کی طرح نہیں ہوتے‘، یہ بات ایک صدی قبل امریکی …

Leave a Reply

Your email address will not be published.