دبستانِ شعر

تاروں کی جیسے دیکھیں ہیں آنکھیں لڑانیاں

میر تقی میر

تاروں کی جیسے دیکھیں ہیں آنکھیں لڑانیاں

اس بے نشاں کی ایسی ہیں چندیں نشانیاں

پیری ہے اب تو کہیے سو کیا کہیے ہم نشیں

کس رنج و غم میں گذریں ہیں اپنی جوانیاں

ظلم و ستم سے خون کیا پھر ڈبا دیا

برباد کیا گئیں ہیں مری جاں فشانیاں

میں آپ چھیڑچھیڑ کے کھاتا ہوں گالیاں

خوش آگئیں ہیں اس کی مجھے بد زبانیاں

سنتا نہیں ہے شعر بھی وہ حرف ناشنو

دل ہی میں خوں ہوا کیں مری نکتہ دانیاں

باتیں کڈھب رقیب کی ساری ہوئیں قبول

مجھ کو جو ان سے عشق تھا میری نہ مانیاں

مجلس میں تو خفیف ہوئے اس کے واسطے

پھر اور ہم سے اٹھتیں نہیں سرگرانیاں

عالم کے ساتھ جائیں چلے کس طرح نہ ہم

عالم تو کاروان ہے ہم کاروانیاں

سررفتہ سن نہ میرؔ کا گر قصد خواب ہے

نیندیں اچٹتیاں ہیں سنے یہ کہانیاں

میں تو میں غیر کو مرنے سے اب انکار نہیں

الطاف حسین حالی

میں تو میں غیر کو مرنے سے اب انکار نہیں

اک قیامت ہے ترے ہاتھ میں تلوار نہیں

کچھ پتا منزل مقصود کا پایا ہم نے

جب یہ جانا کہ ہمیں طاقت رفتار نہیں

چشم بد دور بہت پھرتے ہیں اغیار کے ساتھ

غیرت عشق سے اب تک وہ خبردار نہیں

ہو چکا ناز اٹھانے میں ہے گو کام تمام

للہ الحمد کہ باہم کوئی تکرار نہیں

مدتوں رشک نے اغیار سے ملنے نہ دیا

دل نے آخر یہ دیا حکم کہ کچھ عار نہیں

اصل مقصود کا ہر چیز میں ملتا ہے پتا

ورنہ ہم اور کسی شے کے طلب گار نہیں

بات جو دل میں چھپاتے نہیں بنتی حالیؔ

سخت مشکل ہے کہ وہ قابل اظہار نہیں



About admin

Check Also

بعض الفاظ کی دلچسپ اصل اور اشتقاق

لفظوں کی اصل اور ان کی تاریخ کا کھوج ایک دل چسپ علمی مشغلہ ہے۔ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *