خود مرمت کرنے والا کنکریٹ

امریکی سائنسدانوں نے ایسا ماحول دوست کنکریٹ ایجاد کیا ہے ہوا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرکے دراڑوں کی خود ہی کرتا ہے اور اپنی پائیداری پولی ساتھیوں نے یہ کنکریٹ انسانی خون میں پائے جانے والا ایک خامرہ (اینزائم) استعمال کرتے ہوئے ایجاد کیا ہے. تجربات کے دوران ” سی اے ” خامرے نے کنکریٹ سے بنی اینٹوں میں ملی میٹر جسامت والی دراڑوں اور سوراخوں کو 24 گھنٹے میں مکمل طور پر بند کردیا, جب کہ کی مضبوطی بھی برقرار رہی.

اس سے پہلے کنکریٹ کو خودکار طور پر اپنی کے قابل بنانے کےلیے کیے جاچکے ہیں میں کسی کے پُر جاتا تھا جب کہ یہ. بہت مہنگے ثابت ہوئے.سی اے خامرے والے کنکریٹ میں جب کوئی دراڑ پڑتی یہ خامرہ ہوا میں موجود کاربن ڈائی سے کیمیائی عمل کرکے کیلشیم کاربونیٹ (چونے) کی قلمیں بناتا ہے جو کنکریٹ جیسی ہی مضبوط ہوتی ہیں.

یہ قلمیں سوراخ یا دراڑ کو تیزی سے پر کرتے وہاں مضبوطی سے جم جاتی ہیں اور یوں کی پائیداری بھی متاثر ہوتی.ماہرین نے اندازہ لگایا ہے ان کی وضع کردہ ٹیکنالوجی سے کی والے کی 80 سال تک کا اضافہ کیا جاسکے گا, جب کہ کنکریٹ صنعت سے وسیع مقدار میں خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ بھی (دوبارہ جذب کرے ہاوئے) من الحب یںاہےو ۔م لحب حکےا تک کم کی ا



About admin

Check Also

شمسی طوفان

عمیر فاروق گذشتہ کئی بر سوں سے سائنس دان خلا میں نت نئی در یافتوں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *