”ڈیبورا ڈوگن” گریمی ایوارڈز کی پہلی خاتون سربراہ

MeToo# مہم کے سب سے اثرات دنیا شوبز پر دیکھے گئے ہیں، جہاں نہ اپنے حقوق کے لیے بلند کررہی ہیں بلکہ کے نتیجے میں خوش قسمتی سے سے بھی لیا جارہا

موسیقی کی دنیا میں ‘گریمی ایوارڈز’ کا بڑا نام ہے، تاہم بھی خواتین کے ساتھ جس طرح کا کیا جاتا ہے، اس باعث گریمی ایوارڈز کے پیچھے فرما ادارے ‘ریکارڈنگ اکیڈمی’کو کئی بار تنقید کا نشانہ بنایا جاچکا ہے . اب ‘ریکارڈنگ اکیڈمی’ نے مثبت سمت میں پیش رفت کرتے ہوئے گریمی ایوارڈز کی میں پہلی بار ایک کو کا سربراہ یعنی چیف اور صدر والی خوش قسمت خاتون کا نام ‘

ڈیبورا ڈوگن کون ہیں؟

ڈیبورا ڈوگن اس سے قبل، میوزک بینڈ U2سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ گلوکار ‘بونو’ (اصل نام پال ڈیوڈ ہیوسن) کے قائم کردہ غیرمنافع بخش ادارے ‘رَیڈ’ کی سربراہ رہ چکی ہیں۔یہ غیر سرکاری اور غیر منافع بخش ادارہ دنیا سے ایڈز او ردیگر مہلت بیماریوں کے خاتمے کے لیے کام کرتا ہے۔ ڈیبورا ڈوگن، بطور سی ای او/صدر گریمی ایوارڈز اپنی ذمہ داریاں یکم اگست کو سنبھالیں گی۔ اس حوالے سے ڈیبوران ڈگن نے اپنے فالورز کے شیئر کرتے ہوئے لکھا، ‘ بات شیئر کرتے ہوئے انتہائی پُرجوش کررہی ہوں کہ میں ریکارڈنگ کمپنی (گریمی ایوارڈز) کو آئندہ سی ای او/صدر کے طور پر جوائن کررہی ہوں۔ میں اسے اپنے لیے ایک اعزاز سمجھتی ہوں اور اپنی ذمہ داریوں کے لیے پوری طرح تیار اس نئے باب کے لیے میں بہت پُرجوش ہوں”۔

ڈیبورا ڈوگن نے اپنے کیریئر کا آغاز امریکا کے مالیاتی مرکز وال طور پر کیا، جب کہ ماضی وہ ای ایم آئی کے ریکارڈ ایگزیکٹو اور ڈزنی پبلشنگ ورلڈ وائیڈ کی ڈیبورا ڈوگن کا ریکارڈنگ اکیڈمی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں تھا، ‘ کا مقصد میوزک کمیونٹی کام کرنے والے افرادکی سپورٹ کرنا، کی حوصلہ افزائی کرنا اور حقوق کے لیے کام کرنا ہے۔ میں اس کمیونٹی میں کام کرنے والے ہر فرد کو سُنوں گی اور کے حقوق کے لیے کام کروں گی اور اس عظیم ادارے کو کے لیے تیار کروں گی۔ میں نئے کردار میں کام کرنے کے لیے پُرجوش ہوں”۔

ڈیبورا ڈوگن

گریمی ایوارڈز کے سابق سربراہ پر تنقید

گریمی ایوارڈز کے سابق سربراہ نِیل پورٹ ناؤ نے جون 2018ء میں گریمی ایوارڈز کی سربراہی سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔ 2018ء میں گریمی ایوارڈز کی ہونے والی تقریب میں کو کم تعداد میں ایوارڈز دیے گئے تو کے دنیا کے ایوارڈز شمار ہونے کو کیا گیا تھا۔ اس تنقید کے جواب میں نِیل پورٹ ناؤ نے ردِعمل ہوئے کہا تھا، ‘ موسیقی کی دنیا میں اپنی شناخت حیثیت منوانے اور اپنے کام معیار کو بہتر بنانے کے مزید محنت کی ضرورت ہے”۔ نیل پورٹ ناؤ کے اس ردِ عمل نے ناقدین کو مطمئن کرنے کے بجائے انھیں مزید طیش دِلانے کا کام کیا۔

یہی وجہ ہے کہ اس سال کی گریمی ایوارڈز تقریب دو ایوارڈز جیتنے والی گلوکارہ لِپا دُعا نے ایوارڈ وصول کرنے کی تقریر میں کہا، ”میرا خیال ہے اس ہم نے زیادہ محنت کرکے خود ثابت کردیا ہے”۔ اس سال ‘بی دی وَن’ گانے سے شہرت حاصل کرنے والی یہ گلوکارہ ‘بیسٹ نیو آرٹسٹ’ اور ‘بیسٹ ڈانس ریکارڈنگ’ کے دو ایوارڈز جیت کر کے بعد دوسری بن گئی ہیں، جنھوں دو گریمی حاصل کیے ہیں۔

لپا دعا کا مزید کہنا تھا، ‘ زیادہ خواتین آرٹسٹوں ایواڈز کے لیے نامزدگی ایک بڑی تبدیلی ہے یہ ایک ایسی تبدیلی ہے جسے ہم آنے کئی دیکھنا چاہتی ہیں۔ یہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں بڑی تبدیلی ہے۔ مجھے آج بہت اچھا محسوس ہورہا ہے کیونکہ آج اتنی ساری آرٹسٹوں اچھے کام کو تسلیم کیا گیا ہے جنھیں میں بہت پیار ہوں اور ان کے کام کی معترف ہوں”۔

نِیل پورٹ ناؤ کی معافی

یقیناً، گزشتہ سال دیے گئے اپنے بیان کے باعث کے سربراہ ابھی تک دباؤ کا ہیں اور یہ دباؤ ہی نتیجہ تھا کہ سال گریمی ایواڈز تقریب اسٹیج ”اس گزشتہ ایک سال نے مجھے یہ احساس دِلایا ہے کہ آپ کا کسی مسئلے سے سامنا ہوتا ہے تو اس کے تبدیلی لانے کے لیے آپ کو مزید کمٹمنٹ دِکھانے کی ہوتی ہے”۔

ایک نیا دور، ایک نئی دنیا

گزشتہ سال گریمی ایوارڈز کی نامزدگیوں سارے مرد آرٹسٹوں دیے جانے پر اُٹھنے والے منفی بعد ریکارڈنگ اکیڈمی نے اوباما کی آف اسٹاف قیادت میں تاکہ ان نہیں تھی، اس بابت رکاوٹیں اور غیرارادی تعصب کی شناخت کی جاسکے’۔ ڈیبورا ڈوگن کو گریمی ایوارڈز کا سی ای او/صدر بنانا اسی سلسلے کی کڑی ہے اور توقع کی جارہی کہ مستقبل میں گریمی میں خواتین کی نمائندگی کو مزید اہمیت دی جائے گی۔



About admin

Check Also

”سنبل اقبال” جاندار اداکاری اور بے مثال شخصیت پہچان بنی

شوبز انڈسٹری میں کامیابی کے لیے ضروری نہیں کہ آپ کا تعلق بیک گراؤنڈ سے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *