ایکنی ، کیل مہاسوں سے چُھٹکارا کیسے پائیں؟

ایکنی ، کیل مہاسوں سے متاثرہ جلد صفائی دیکھ اس مسئلے میں کافی حد تک ہے جبکہ چنید گھریلو ٹوٹکٹک ہےاچھڑاغا ن ن س ست د نان ن ن س ست ک

ماہرین جلدی امراض کے مطابق ایکنی ایک ہارمونل طبی نام ہے جو بلوغت کے بعد خواتین میں دیکھنے میں آتی ہے, اس اس سے نوچنے, بار جلد کی صفائی نہ رکھنے کے سبب یہ دیر پا رہتی ہے اور چہرے پر بد نما داغ بھی چھوڑ دیتی ہے ۔

ایکنی کی صفائی کے لیے طبی کی سے کیمیکل ڈوز دی جاتی ہیں کا خاتمہ تو ہے مگر مسائل کا. بنتی ایکنی کا علاج گھر میں ہی چند مفید ٹوٹکوں اور صاف ستھرائی کے ذریعے کافی حد تک کیا جا سکتا ہے۔

7 دنوں کے اندر اندر ایکنی کی افزائش روکنے اور دھبوں کے خاتمے کے لیے مندرجہ ذیل مشوروں پر عمل مہیںواا پر عمل مہیںبو ھیر عمو

ایکنی سے جان چھڑانے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر بتائے گئے چند مراحل پورے کرنے ہوں گے جو کہ نہایت آسان ہیں۔

نیم کے پتوں سے بنا ٹونر

سب سے پہلے نیم کی four ٹہنیاں لے لیں اور اب ان پتے الگ کر کے اچھی طرح سے دھو لیں ، اس کے ا ں ڈ

نیم کا پانی ٹھنڈا ہونے پر اس میں ہم وزن عرق کریں اور اسے 7 دنوں کے لیے محفوظ کر لیں, اس محلول سات دن بعد استعمال کے لیے نیا بنا لیں, 7 دن بعد پرانا محلول استعمال نہ کریں.

اب اس پانی سے بنے ٹونر کو صبح منہ بعد چہرے پر لگا لیں, اس آنکھوں کو بچائیں, یہ صبح اور رات سونے قبل استعمال کریں, نر ہی سوکھنے دیں, ٹونر سے اچھی طرح چہرہ گیلا کریں.

دوپہر یا شام میں لگانے کے لیے فیس ماسک

four سے 5 پتے نیم کے لے اچھی طرح دھو اب ان نیم کے پتوں میں ایک چمچ اور آدھا یا پونا چمچ کا آٹا اااا م کا آٹا یکجیکجاا ا ا آٹا ڈڈال ڈ

اب اس فیس ماسک کو چہرے پر 20 منٹ کے لیے لگائیں ، 20 منٹ بعد نیم سے بے ٹونر کی مدد ا۔ے گیلا کوئے چہاہد یںلا کوک لر ہنتھ سے م

فیس ماکس کے بعد آلو کا استعمال

فیس ماسک اتارنے کے بعد ایک قاش آلو کی لیں اور اس میں کچھ کَٹ لگا لیں تاکہ با آسانی باہر نکل آئے۔

اب اسے ہلکے ہاتھ سے چہرے پر لگا لیں یا آلو کا رس نکال کر روئی کی مدد بھی لگایا جا سکتا ہے۔

حیرت انگیز نتائج حاصل کرنے کے لیے نیم کے پتوں سے بنے ٹونر ، فیس ماسک اور آلو کے پانی کا باےلا باوا ا باںلا باوایا گیا بم 7 باوا گیا بم 7



About admin

Check Also

ملیریا کے علاج کیلئے نئی اینٹی باڈی تھراپی کے حوصلہ افزاء نتائج

—فائل فوٹو ملیریا آج بھی دنیا بھر میں ایک جان لیوا بیماری ہے جو ہر سال …

Leave a Reply

Your email address will not be published.