قائد اعظم کے زیرِ استعمال رہنے والے شاندار گھر

ملک بھرمیں یومِ آزادی کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں ، موقع پرہم بانی پاکستان قانی پاکستان قائم م ام ام م ن ن مد عوت عرد

قائد اعظم ریزیڈنسی ، زیارت

زیارت ، بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے شمال مغرب میں فاصلے پر سطح سمندر سے 2,449 میٹر بلند ایک پُرفضا مقام ہے ہے 12,600 ایکڑ پر پھیلا صنوبر کے درختوں کا قدیم جنگل بھی ہے ، جہاں بعض درخت 5 ہزار سال پُرانے ہیں۔ صنوبر ایک قیمتی درخت ہے ، جس کےبارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ سال میں صرف ایک اِنچ بڑھتا ہے۔ زیارت کا پرفضا ماحول دراصل سطح سمندر سے بلندی کے ساتھ ساتھ ان جنگلات کا بھی مرہونِ منت ہے۔

بانی پاکستان, قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی زندگی کے آخری 2 ماہ اور 10 دن اسی پرفضا مقام پر گزارے اور یادگار عمارت میں انھوں نے رہائش اختیار اسے ‘قائد اعظم ریزیڈنسی’ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے. زیارت کی قائد اعظم ریزیڈنسی انگریزوں نے 1892 ء میں تعمیر کی اور اس دور میں جب حکومتِ برطانیہ کے افسران آھےت تھے تھے آت تھے تھے عمارت کے باہر چاروں اطراف میں لکڑی کے ستون ہیں اور اندرونی حصے میں بھی لکڑی کا ستعمال بہت خو بصا ہےور سے کیا eight کمروں پر مشتمل اس رہائش گاہ میں دونوں اطراف مجموعی طور پر 28 دروازے بنائے گئے ہیں۔

قیام پاکستان کے بعد 1948 ء میں اس رہائش گاہ کی تاریخی اہمیت وقت اضافہ ہوا جب یکم کو بانی پاکستان قائد اعظم علی جناح اپنے ذاتی ڈاکٹر کرنل الہی کے باعث یہاں تشریف لائے. ریزیڈنسی میں واقع کمروں میں ایک کمرہ محترمہ فاطمہ جناح اور ایک اعظم کے ذاتی معالج کرنل الہی بخش جبکہ ایک کے ذاتی معتمد کے لیے مختص کیا رہائش گاہ میں ایک کمرہ ایسا بھی ہے جہاں قائد اعظم دوپہر اور رات کا کھانا اور اپنے رفقائے کار کے ساتھ شطرنج کھیلا کرتے تھے۔ پاکستان کے 100 روپے کے بینک نوٹ کے عقبی رُخ پر اس کی تصویر بھی موجود ہے۔ سرد علاقہ ہونے کی وجہ سے ، ہر سال گرمیوں کے موسم میں سیاحوں بڑی تعداد قائد اعظم ریزیڈنسی اور یہ شہر گھتگھمنے آ ر گھتگھمنے آ ر گھتومنے آ یہ عمارت قومی ورثہ ہے۔

2013 ءمیں کچھ دہشت گردوں نے قائد اعظم ریزیڈنسی پر حملہ کیا اور اس کی عمارت کو آگ لگاکر جلا دیا تھا۔ 0

قائد اعظم میوزیم ہاؤس ، کراچی

شاہراہِ فیصل اور فاطمہ جناح روڈ کے سنگم پر واقع قائد اعظم میوزیم دو منزلہ عمارت ہے ، جمہا و 10 ہزایکر 214 گز پر نو 10 یکایکر 214 گز پر منو یایکن ن نو 10 ہزایکر 214 پر محیطو ایکر 214 گز پر محیطو یایکر 214 گز پر محیطو یایکن 214 گز پر نو 10 ہزایکر 214 گز پر نو 10 یایکر 214 گز ر محیطا یہ بنگلہ ، اُس وقت کے معروف معمار ایچ سوماک نے اپنے ذاتی استعمال لیے تعمیر کروایا تھا ک ااس کا تھد م سر م اد م م کچھ محققین کے مطابق ، اس کی تعمیر 1865 ءمیں کی گئی۔ ایچ سوماک کی وفات کے بعد 1922 ء تک اس عمارت کے مالک رام چند جی کچھی لوہانہ تھے۔ بعد ازاں برطانوی فوج نے عمارت کرائے پر لے لی اور ان کے مختلف جرنیل اس عمارت میں مقیم رہے۔ اس وجہ سے اسے فلیگ اسٹاف ہاؤس بھی کہا جاتا ہے۔ ڈگلس ڈی گریسی آخری جنرل تھے جو یہاں مقیم رہے ، وہ بعد میں رائل پاکستان آرمی کے چیف بھی رہے۔ 1940 ء میں یہ بنگلہ پارسی تاجر سہراب کاؤس جی نے خرید لیا۔ 1943 ء کے بعد اس عمارت میں رہائش پذیر کمانڈرز نئے مالک کے کرائے تھے ، کرائے کی رسیدوں سے واضح ہویںتا ہےا کہ ن رسید ا کہ ن ر رسید بانی پاکستان نے 1943 ء میں اس دیدہ زیب عمارت کو دیکھا تو متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور ایک لیا ۔اد یا وپے میں ر

قائدِاعظم کی وفات کے بعد محترمہ فاطمہ جناح نے یہاں رہائش اختیار کرلی اور 1964 ء تک یہیں رہیں۔ بعد ازاں, حکومت نے یہ بنگلہ ٹرسٹی آف جناح سے خرید کر اسے قومی ورثہ قرار دے قائد اعظم ہائوس میوزیم کا نام یہ تاریخی عمارت محکمہ ثقافت, سیاحت و نوادرات کے ہے اور آج بھی یہاں بانی اور ان کی ہمشیرہ کا روڈ, نئی دلی والی رہائش گاہ لایا گیا سامان موجود مزین دانت بنے ٹیبل لیمپ, انگلستان کی نفیس کراکری, قائداعظم کے تعارفی کارڈ, کافور لکڑی کے باکس, صوفے, کرسیاں, ٹیلیفون, قرآن کریم ٹیبل اور صندل کی لکڑی کے سگار کے باکس شامل ہیں.

بنگلے کی نچلی اور اوپری منزل پر بالکونی سمیت eight سرونٹ کوارٹرز ہیں, اس عمارت کو محکمہ آثار اعظم اور محترمہ فاطمہ کے زیر استعمال ساز و کر رکھا ہے کہ دیکھنے والا یہ محسوس کرتا ہے کہ قائداعظم اور فاطمہ جناح چہل قدمی کے لیےابھی ابھی اپنے کمروں سے نکل کر گئے ہیں۔



About admin

Check Also

سونے ، چاندی اور تانبے کا شہر کھنڈرات میں کیسے تبدیل ہوا؟

فیصل میمن مٹی کے برتنوں کے ٹکڑے, ٹوٹی لال کے ظروف کر نگاہیں وادی سندھ …

Leave a Reply

Your email address will not be published.