‘ہوم اسکولنگ’ کا بڑھتا رجحان

وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کی سوچ میں تبدیلی آتی جاتی ہے۔ بالخصوص کووِڈ -19 کے نتیجے میں روزمرہ زندگی میں رونما والی تبدیلیوں نے نہ صرف کافی کچھ بدل ڈال ا کی و ن س ال ک بدل مڈال کی کو ن س ب بوئے ک ب ن س ب ب ب

ایسا ہی کچھ تعلیمی میدان میں بھی دیکھا جارہا کورونا وبائی مرض کے باعث لگنے میں اسکولوں کی بکندش ایاا د بورد ل بورد لا وٹے بور د ساتھ ہی وہ بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے حوالے سے بھی پریشان ہیں۔ ایسے میں کچھ والدین اپنے بچوں کے لیے ہوم اسکولنگ کا انتخاب کررہے ہیں۔

ہوم اسکولنگ

ہوم اسکولنگ ، دنیا بھر میں ایک ترقی پسند تحریک ہے ، جس میں والدین بچوں کو ریوایتی سکےاری یی ا م م م م ال م م م م م ال م بھیجل رع والدین کی جانب سے مختلف وجوہات بناء تعلیم کیا جاتا ہے ، جن میں دستیاب اطمینان ، مختلف یا تعل میت تل ا علہیںمیت تل ا تعلیمتت تلم

ہوم اسکولنگ کا ایک فائدہ یہ ہے کہ بچے اپنے مزاج اور ٹائم ٹیبل کے مطابق آگے بڑھ سکتے ہیں۔ یہ تعلیم اس وقت تک جاری رہ سکتی ہے جب تک کہ کوئی طالب علم کالج میں داخلہ نہ لے لے۔ ہوم اسکولنگ کے ذریعے بچوں کو مکمل طور پر تعلیم و تربیت کی جاسکتی ہے یا پھر چند سال ہوم کے بعد بچوں کو مرکزی دھارے میں شامل تعلیمی نظام (اسکول) میں شامل کروایا جاسکتا ہے.

آغاز

بنیادی طور پر ہوم اسکولنگ کی تحریک کا ء میں ہوا, جب کچھ مشہور مصنفین اور محققین – جیسے جان ہولٹ, ڈوروتھی اور ریمنڈ مور – مور تعلیمی اصلاحات کے بارے میں لکھنا شروع کیا. انھوں نے متبادل تعلیمی آپشن کے طور پر ہوم اسکولنگ کی تجویز پیش کی۔ امریکا کے نیشنل ہوم ایجوکیشن ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے مطابق ، امریکا میں 20 لاکھ سے زائد بچچوں کو گھروں پپا۔ااگھ گھروں پپیاگھا روں پپیا رو پر تع سر سر سر سر سر تیر سر ب

ہوم اسکولنگ کے تقاضے

جان ہولٹ, بیسٹ سیلنگ کتاب “Educate Your Personal” کے مصنف ہیں, ان کے مطابق, ” والدین کا اپنے بچوں کی ہوم اسکولنگ کے انھیں پسند کرنا, ان کی, بے وقوفی, جذبے اور ان کے ساتھ سے لطف اندوز ضروری ہے. والدین اپنے بچوں کی ساری گفتگو اور سوالات سے لطف اٹھائیں ، اور ان کے جوابات بھی اسی طرح دینے کی یکسں کوشش کی یکسں کوشش کی یکسں کوشش ک یکسں کوشش ” ہوم اسکولنگ کے لیے صرف ایک ہی شرط ہے وہ یہ کہ تعلیمی عمل میں لگن کے ساتھ ایسا کرنے کی خواہش ہونا۔

نظام الاوقات

کچھ لوگ ہوم اسکولنگ کے لیے روایتی اسکولوں کی طرح صبح سویرے تربیتی شروع کرےتے ہیں جبکہ کچھ افکھزیال اور گھہب کھر ت ت اگر بچہ بستر پر جانے سے پہلے سائنسی تجربے سے پُرجوش ہوتا ہے تو کچھ والدین یہ ہیں کہ بچے کا جوش و خروش کہجاں ت

ہوم اسکولنگ پر عمل کرنے والے جس تعلیمی فلسفہ انتخاب کرتے ہیں وہ ان کے روزمرہ کے معاملات نمایا طموت پر ہم میں سے زیادہ تر لوگ صرف ایک طرزِ تعلیم سے واقف ہیں جس میں درسی کتب روایتی نظام ، قطار میں حالاا میزیں اور ت م

تاہم, دنیا میں کئی طرح کے تعلیمی فلسفے موجود ہیں, جن میں مانٹیسوری, شارلٹ میسن, کلاسیکی, قائدانہ تعلیم, مطابق تعلیم, یونٹ کا مطالعہ وغیرہ ہوم اسکولنگ میں ان تمام نظریات کی آمیزش کی آزادی میسر ہوتی ہے, جو بچوں کی ضروریات کو طور پر پورا کرسکتی ہے۔

ہوم اسکولر (والدین / استاد) تعلیمی کیلنڈر کی پیروی کرنے یا نہ کرنے میں آزادہوتے ہیں۔ بہت سے لوگ روایتی اسکول کیلنڈر کی پیروی کرتے ہیں جبکہ کچھ ضرورت پڑنے پر مخصوص ہفتوں لیے اس میں رددوبدل کرل۔تے ردوبدل کرل۔تے دوبدل کرل۔تے

نصاب کی منصوبہ بندی

ہوم اسکولنگ کے رجحان میں تیزی سے اضافے کے نتیجے میں متعدد نصاب اور وسائل دستیاب ہیں۔ کیٹلاگ مختلف تعلیمی فلسفوں, سیکھنے کے نقطہ نظر اور ہوم اسکولنگ کو روزمرہ کی تعلیم کے لیے کتنا وقت دینا پر مبنی اختیارات کی کثرت سے بھر عام طور پر جن مضامین کو پڑھایا جاتا ہے, ان میں روایتی پروگرام کے ساتھ ساتھ ادب, تہذیب وضبط کی تربیت شامل ہے ساتھ ہی وہ بھی جو بچوں کے دیں۔

کین رابنسن اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ”تعلیمی تبدیلی کی کلید تعلیم کو معیاری بنانا نہیں بلکہ اسے ذاتی ہے, ہر بچے کی انفرادی صلاحیتوں دریافت کرنے میں کامیابی حاصل ماحول رکھنا جہاں وہ سیکھنا چاہتے ہیں اور جہاں وہ فطری طور “The aspect” پر اپنے حقیقی جذبات کو دریافت کرسکیں ”۔

ہوم اسکولنگ کا ماحول ایک فطری ترتیب مہیا کرتا ہے ، میں کو انفرادی نوعیت کا طااا تےلیم کیا ااااز م کیا جاااسکا د بر د دور فد ر سن ستوو ن ہوم اسکولنگ میں بچوں کو اکثر مضامین ساتھ جاتے ہیں یا عمر کا تعلق نہیں ہوتا کہ, ادب اور فنون اس میں ہر کی قابلیت کا امتحان سے دیے ریاضی جیسے مضامین کے مطالعے کے لیے ہر بچے کی انفرادی ضروریات کے مطابق سکھایا جاتا ہے. دریں اثنا ، ہر بچے کی عمر کے لحاظ سے علیحدہ علیحدہ اسائنمنٹس دیے جاتے ہیں۔




Supply hyperlink

About admin

Check Also

بچوں کی پرورش اور دنیا کے امیر ترین افراد

’امیر افراد میری اور آپ کی طرح نہیں ہوتے‘، یہ بات ایک صدی قبل امریکی …

Leave a Reply

Your email address will not be published.