سُپر ​​ہٹ فلم ” تم ملے پیار ملا ”

برصغیر پاک و ہند کی فلم انڈسٹری پر اگر جائے, تو یہاں پر بننے والی تر فلموں میں انداز کو ہر دور اہمیت دی گئی, محبت کے موضوعات پر بھی گئیں, اس باوجود بھی عوام الناس میں مقبول و پسند کی گئیں, تو اس کی سب سے بڑی ان کی دل نواز موسیقی کو کہا جاسکتا ہے۔ بار بار ایک ہی موضوع پر بنائی جانے والی یہ فلمیں اپنے سدا بہار گانوں کی وجہ سے بے حد کام یاب رہیں۔ پاکستان اور بھارت میں کچھ رومانی فلمیں ہالی وڈ کی فلموں سے متاثر ہو کر ہی بنائی گئیں۔

آج ایک ایسی ہی فلم کو موضوع تحریر بنایا گیا ہے, یہ فلم 1969 میں ” تم ملے پیار ملا ” کے نام سے ریلیز ہوئی, ایشین بینر تلے بننے والی ایڈونچر فلم میں زیبا اور محمد علی نے مرکزی کردار ادا کیے. فلم کے پروڈیوسر قدیر خان اور محبوب خان تھے ، جب کہ اقبال یوسف فلم کے ہدایت کار تھے۔

اقبال یوسف جو جاسوسی اور ایکشن فلموں کے حوالے سے ایک خاص تعارف رکھتے تھے, فم رات راہی, زمانہ کیا کہے گا, میں کالا, نیلہ پہ دہلہ جاسوسی فلمیں ان کے کریڈیٹ پر ہیں, ” تم ملے پیار ملا ” بے حد مختلف فلم تھی ، جس کے مصنف ذاکر حسین یہ ایک ایسی کہانی پر مبنی فلم تھی ، جو یہ رومانی کامیڈی ٹائپ مووی تھی۔

یہ فلم ایک ناول ” night time bus ” سے ماخوذ تھی۔ اس کہانی کو ہالی وڈ میں 1985 میں ” The certain factor ” کے نام سے بنایا۔ اس فلم کا موضوع بنایا گیا۔نامور اداکار راج کپور اور نرگس نے 1956 میں فلم ” چوری چوری ” میں ودد م اد م اد م اد میں بود لد باد لد بیاب یہ فلم اسی انگریزی فلم سے کر بنائی گئی تھی, بھارتی فلم ” چوری چوری ” اپنے سپرہٹ میوزک اور منظر نامے کی سے ایک سدا بہار کامیڈی نے اس انگریزی لواسٹوری کامیڈی کہانی پر کام شروع کر دیا تھا, اس ان کے میں ہیرو میں اداکار کمال کا نام تھا ، اس میں کمال اور زیبا ہٹ ہوئی ، لیکن بعد میں محمد فلم انہوں نے مکمل

اس فلم کی تکمیل میں چار سال کا عرصہ لگا ، کچھ عرصے تک کا تمام کام بند ہوگیا ، اس دوران فلم یا بہت م کا 1966 میں جب محمد علی اور زیبا کی شادی ہوئی فلم میں وہ کام کر رہے تھے ، ایسٹرن اسٹوڈیو میں اس فلہیم کی بند تہو ر موسیقار ناشاد نے اس فلم کے تمام نغمات کو اپنے سریلے اور سازوں سے اس قدر خوب صورتی سے کمپوز کیا کہ گیت اس دور میں جگہ جگہ سنائی خاص طور پر احمد رشدی کا گایا ہوا یہ عوامی گیت ” گوری کے سر پہ سج کے, سہرے کے پھول کھلیں گے تم ملے پیار ملا رہے ” کی سب سے آگے رہی۔

اس گیت میں نغمہ نگار تسلیم نے شادی اور نہایت ہی دل کش علی نے اس اور دل خوشیاں نظر. پر آتی ہیں۔ فلم کے دیگر نغمات میں بے حد اعلی اور عمدہ تھے, جس میں ” آپ کو بھول جائیں ہم ” (نورجہاں, مہدی حسن) ” اپنے پہلو میں میرے دل کو مچل جانے دو ” (نور جہاں, منیر حسین) ‘ ‘مجھ کو الفت میں نہیں مجھ کو عداوت میں سہی’ ‘(مجیب عالم)’ ‘یہ حسین وادیاں یہ سماں’ ‘(آئرن مشویاا رن مر کشاا و م ن مر ن کو ت ن ت تل ت تل

فلم مکمل ہو کر 1969 میں کراچی کے لیرک سنیما ہوئی اور سپرہٹ ثابت ہوئی ، فلم کی مختصر کا خلاصہ یہ کدا ا لاصہ یہ ھدا ا نیک ندولب مر بچی کی ماں ان کی کم عمری میں انتقال کر چکی ہوتی ہے۔ ماں نے بچی کی اچھی اور مشرقی تربیت کے وفادار ملازمہ کو وصیت کی, لیکن کی وفات کے بعد نواب نے ملازمہ اور اس بیٹے سے امتیازی سلوک کیا کہ وہ کر میں بچی مغربی تہذیب میں پل کر خودسر اور ضدی ہو گئی, جوان ہوئی تو نواب صاحب کو اپنی غلطی کا احساس ہونے لگا۔ نواب نے اس کی شادی اپنی مرضی سے طے کرنے کا ارادہ تو بیٹی اپنی ضد میں آکر گھر چھوڑ نواب نے اخاشار میں بیٹید ااشد کم بگد ی در

لڑکی بھاگ کر ایک انجانے سفر کی طرف چل پڑی۔ راستے میں اس کی ملاقات ایک نوجوان کہانی نویس سے ہوجاتی ہے, جو باتوں میں لڑکی کے بارے وہ سب کچھ جان لیتا جو وہ اس سے چھپا رہی ہوتی نوجوان اس لڑکی کی بھر پور مدد بھی کرتا ہے, اس لڑکی کے ساتھ مختلف دل چسپ خطرناک واقعات بھی رونما ہوتے جس میں نوجوان اس کی بھر پور مدد کرتا یہ وہی نوجوان ہیوتا ہے ، جسم بچپ اا یہ لڑکی جس کا نام رخشی ہوتا ہے, اس نوجوان مدد سے اپنے عیار اور لالچی دوست حنیف پاس جب پہنچتی ہے, اسے حنیف کی چل جاتا اپنی ڈیڈی کے پاس آتی ہے اور اس مددگار نوجوان کا بتاتی ہے. نوجوان اس لڑکی کی کہانی لکھ کر ایک اخبار میں دینا چاہتا ہے۔

نواب صاحب نوجوان سے ملتے ، اس کے گھر جاتا ہے اس اس ماں کودیکھ کر جان جاتا کہ یہ اس کی امسی بیٹا ہے جو اد کیع اس بالاخر رخشی کو اس کہانی نویس سے محبت ہو جاتی ہے اور پھر دونوں کا ملاپ ہو جاتا ہے, ان دونوں کا ملاپ میں اقبال کا کردار بہت اہم ہوتا اس فلم میں زیبا اور محمد علی کے بعد اقبال یوسف, آزاد اور سنوش رمل کے کردار بہت اہم تھے۔ آزاد نے زیبا کے دولت مند باپ کا کردار کیا تھا ، جب کہ اقبال یوسف نے مزاحیہ میں زیبا کے کزن کا کردار اد ا کردار اد اداکارہ سنوش رمل نے محمد علی کی ماں کا رول کیا۔

دیگر اداکاروں میں رنگیلا ، حنیف ، فیضی ، رنگیلا ، نومی ، سمعیہ ناز ، ساقی ، ارسلان ، ناز بیگم ۔ااوا نم بیگم ،ا ال نم بیگم شا ال نہم بیگم ،ا الب نہم بیگم ،ا ب ننم بیگم ،ا سا نہمہ بیگم ،ا سا نہمہ بیگم ،ا سا نہم بیگ م اقبال یوسف نے اس ڈگر سے ہٹ کر ایک دل چسپ رومانی کامیڈی فلم بنانے میں جو کی ، وہ ان کی بہت کا کی کیم سکیو ڈا ر سکیو ہیر

ڈائریکشن کے بعد موسقی کے شعبہ میں ناشاد صاحب نے کمال کی دھنیں بنائیں اور ان پر فاضل کے لکھے ہوقق گیت بے حد موقب فلم کی آئوٹ ڈور اور ان ڈور فوٹو گرافی میں کامران مرزا ، نبی اور محبوب علی نے بھی پنے کشدا میں بہت رع آج بھی”تم ملے پیار ملا ” علی زیب کی ایک خوب صورت ، نعماتی اور کام یاب فلم کا درجہ رکھتی ہے۔




Supply hyperlink

About admin

Check Also

‘میری کامیابی میں والدہ نے اہم کردار ادا کیا’

قابل اجمیری نے اپنے ایک شعر میں بہت خوب صورت بات کہی ہے کہ؎ ” …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *