” موہن جودڑو ” یہاں کے قدیم آثار گوہرِ نایاب سے کم نہیں

آج بھی دنیا کے گوشے گوشے ایسے جن میں والی کی زبانیں کبھی عالمی زبانیں اب نہ وہ اقاوام ہل. جنہوں نے فطرت, حوادث, حملہ آوروں اور تقدیر کے ساتھ لمحے جنگ لڑی ہو, جن کو وقت بپھری ہوئی لہروں سے خاک میں سوئے ہوئے گزرچکے ہیں.چند ایسی ہی تہذیبوں میں سے ایک بھی تاریخ کے دریچوں میں جھانکنے پر یہ معلوم ہوتا وادی سندھ کے معاشی, معاشرتی اور تعلقات اپنی ہم عصر تہذیبوں مصری اور سومیری تہذیبوں تھے, موہن دڑو ہڑپا اس میں ہونے گھروں, گلیوں, محلوں وغیرہ سے یہ تاثر ملتا ہے کہ تہذیب کا اصل مرکز موہن جو دڑو ہی تھا, کہ اس کی ٹائون پلاننگ, فراہمی آب کا نظام اور گھر و ہڑپہ سے بدرجہا بہتر ہیں۔ موہن جو دڑو کو اگر کسی اونچائی سے دیکھا جائے یہ شہر دو حصوں میں منقسم اس کا ایک حصہ جو higher city شہر کہلاتا ہے, ایک طرح کا ایڈمنسٹریشن ہے, اس میں اسٹوپا, بڑا تالاب, ایک جامعہ ستونوں والے ہال کی باقیات موجود ہیں, اس کا دوسرا حصہ نچلا شہر یا زیریں شہر کہلاتا ہے۔ یہ رہائشی اور کاروباری علاقہ ہوگا, یہاں رہائشی مکان, دکان گودام وغیرہ تھے.سرجان مارشل نے اس منصوبہ بندی دیکھ کر حیرت لہجے میں کہا تھا ‘بھی کہ یہاں کے تھے کہ انہوں نے اس شہر کو آباد کرلیا, مجھے تو کی فرسٹ اسٹریٹ اور ایسٹ اسٹریٹ مقام اتصال کو دیکھ کر لندن میں واقع آکسفورڈ سرکس کا چورہا یاد آتا ” تاریخ دانوں کے مطابق اس کا ہی کے باشندوں کو حاصل ہے دنیا بھر میں نکاسی آب مربوط نظام ان پر بنا اور موہن جو دڑو کی ہم نہیں کرسکتی.

'' موہن جودڑو '' یہاں کے قدیم آثار گوہرِ نایاب سے کم نہیں

موہن جو دڑو کے بارے میں مطالعے سے ہے کہ لاڑکانہ ضلع لب دریا میں لاڑکانہ شہر سے پچیاس دور اور ےےا فقط پر ” تکہا آرکیالوجیکل محکمےوالوں نے اس نام کے معنی بتائے ہیں Hill of the Lifeless۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ نام ہے ” مہن جہ دڑو ” یعنی ” مرے ہوئے لوگوں کا لوکے ا ” ا لوکھ ئے ” ل ہ ” اور محض غلطی ن تحقیق کرنے سے معلوم ہوگا کہ صحیح تلفظ ” مہن جو دڑو ” اور کچھ لوگ ” مہین جو دڑو ” بھی کہتے ہیں۔ دونوں کے معنی ہیں ” مات ہوجانے والوں کا ٹیلہ۔ ” قدیم دور میں دریائے سندھ مہن جو دڑوکے پا س گزرت تھا سے گزرت تھا سے گزرت تھا سے گزرت تھا وہاں دریائے سندھ اور مغربی کنارے کے درمیان میں تھا.اس جگہ کا جائزہ لینے سے ہوتا ہے کہ وہاں پر پانچ جزیرے تھے, جو دریا کےپاس کرنے اور ان کے ہوگئے اور اب جزیروں کا گویا ایک گچھا ہوگیا ہے. اب وہاں صرف ٹیلے ہی ٹیلے ہیں جو تقریباً اڑھائی سو ایکڑ اراضی لیے ہوئے ہیں۔ کچھ ٹیلے بیس ، تیس فیٹ اونچے ہیں۔ موہن جو دڑو کی تقریباً تیرہ ایکڑ زمین اب تک کھدوائی گئی ہے۔ یہاں سے سات شہر ایک دوسرے کے اوپر دریافت ہوئے ہیں۔ پانی کے دریائے سندھ کے کناروں اوپر برساتی موسم پانی کے تیزی سے نیچے سے یہ ایک دفعہ ہوجاتا تو پانی دوسرا شہر تعمیر اس طرح سے شہرکے اوپر شہر تعمیر کرتے گئے, جن سے سات شہروں کا پتہ چل سکا ہے. لگتا ہے کہ یہ شہر تجارت یا کسی دوسری وجوہ سے اہم تھا ، وجہ سے لوگ بار بار اسی شہر کو آباد کرتے رہے۔ موہن جو دڑو میں سے جو شہر دریافت ہوئے ہیں ، ان کا طرز تعمیر آج کے دور سے بہت مطابقت رکھتا ہے۔ وہاں کے راستے کشادہ اور ہموار تھے ، جو سیدھے شمال سے لے کر جنوب کی طرف جاتے۔ ان راستوں میں سے گلیاں ایک دوسرے کے سامنے نکلتیں ، کی وجہ سے ہر ایک محلہ علیحدہ ہے۔شہر کی کھدئیائی ہیںا،ا کی کھدوظ ہا،ا دوئی آث ا،ور ن جرت ت دور ن جرت ت

: ہر ایک شہر میں ہوئی ہیں ، ان کسی بھی عمارت کے اوپر چھت ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے چھتوں شہتیر ڑبگئیا عصہ جہ ے تمام عمارتیں پکی اینٹوں سے بنی ہیں ، جنہیں نہایت عمدگی سے لگایا گیا ہے۔ تمام مکانات کشادہ اور ہوادار ہیں۔ کچھ مکانات کے صحن میں سیڑھیاں بھی ہیں ، جنہیں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ چند مکانات اوپر منزلیں بھی ہوتی ہوں گی۔ ہر ایک مکان کا علیحدہ علیحدہ کنواں اور غسل خانہ تھا۔ غسل خانوں میں اینٹوں سے فرش بندی کی گئی تھی۔ کمروں میں ایک کونے میں سے پانی کی نکاسی کا اہتمام تھا ، جہاں سے پانی کر گلیوں کی نالیوں میں جا کرتگرت ا گلیوں کی نالیاں ڈھکی ہوئی تھیں ، جن سے اندر ہی اندر سے پانی کی نکاسی ہوتی تھی۔ کچھ غسل خانوں مین اینٹوں کو کوٹ کردہ پائوڈر چونے سے ملا کر سے غسل خانوں کے فارش پر پلا ال کیا ہم پلا سر کیا ہن تن ب دیواروں پر پلاسٹر تین انچ موٹا چڑھا ہوا تھا۔ اینٹوں کو چپکانے کے لیےپتلی مٹی استعمال کی گئی ، لیکن کسی کسی پر جپسم استعمال کیا تھا ، جم۔و ئی گاج میں آج بھید ب

پنچائتی مال: کچھ عمارتیں ستونوں پر کھڑی ہیں ، جن ایک ہال جو تقریباًاسّی فیٹ کا ہوگا ، وہاں شاکٹھےا پا۔ا ھےا اکٹھےا پاقا ھےموی پاوی ئت ت ت ترع ع

'' موہن جودڑو '' یہاں کے قدیم آثار گوہرِ نایاب سے کم نہیں

دکان: کچھ عمارتوں کو دیکھ کر ہے کہ وہ دکان کے پر استعمال ہوتی تھیں ، ایسی ایک عیںمارت سے رنقشگریز بھٹی مل رنر بھٹی مل یکھن باور بھٹی ملی یکھن باور بھٹی ملی یکھن باور بھٹی من رنگریز بھٹی ملی یکھن باور بھٹی ملی یکھن باور بیکھ من کےرگ رد رر کےرد یںر م کےر کےر رر ر ر د

بڑا تالاب: موہن جو دڑو سے دریافت ہونا والا بڑا تالاب ہر کسی کی خاص توجہ کا مرکز بنا رہتا ہے۔ اس کی دیواریں موٹائی کے حساب سے سات آٹھ فیٹ ہیں۔ تالاب کے دونوں اطراف سیڑھیاں بنائی گئی تھیں۔ تالاب 39 فیٹ لمبا ، 23 فیٹ چوڑا اور eight فیٹ گہرا ہے۔ اس تالاب کے ایک سرے پر ایک بڑی نالی بنی ہوئی ہے ، جس سے زائد پانی کی نکاسی ہوا کرتی تھی۔ وہ نالی نہایت ہی عمدہ طریقے سے بنی ہوئی ، اتنی گہری ہے جس میں 6 فیٹ کا شخص کھڑا ہو سکتا ہے۔ پوری نالی ڈھکی ہوئی ہے ، لیکن چھت سے تھوڑا سا ٹکڑاکھلا ہوا ہے ، جس میں سے شخص اندر داخل ہو کر سایکے نالی صساف نالی صساف ن

کنویں: موہن جو دڑو کے ہر ایک مکان میں علیحدہ کنواں ہے۔ کچھ تو چھوٹے کنویں ہیں ، کئی گلیوں اور بڑے راستوں کے پاس سے بڑے کنویں ملے ہیں پکی اینٹوں سے بنے ہوئے اور گول ہیں۔ ایک دو کنویں بیضوی شکل کے بھی ہیں۔ دو کنوئوں کے پاس پکی اینٹوں سے بنے بینچ بھی ہیں۔ یہ شاید اس لئے کہ جب تک کسی کے پانی بھرنے کی باری آئے تب تک اس پر بیٹھ کر انتظار کرے۔

نالیاں: سارے شہر کے گندے پانی کی نکاسی کی ترتیب نہایت ہی اچھی طرح کی ہے۔ اس حوالے سے سر جان مارشل نے ایک جگہ لکھا ہے کہ ” پانی کی نکاسی کا طریقہ غیر معمولی طور پر بہ ترین طرز کا ”

حفظانِ صحت: لوگوں کو صاف و ستھرا ماحول فراہم کرنے کے لئے بھی مناسب انتظامات کیے گئے تھے۔ ہر ایک گھر ایک دوسرے سے اس قدر دور کسی بھی گھر کوہوا اور روشنی میں نہ ہو, جس سے ہوتا ہے کہ کی بھی خواہ تھے اور گندے پانی خواہ برساتی پانی کی نکاسی کے لئے نالیاں نہایت عمدہ طریقے سے بناسکتے تھے. نالیوں کی وقت بوقت صفائی کرنے کے لئے ان میں ” مین ہول ” بھی رکھتے تھے جیسا کہ آج کل انتظامیہ کرتی ہے۔ گھر کے گند کچرے (فضلہ) کو نکالنے کے لیےدیواروں میں سوراخ کردیتے تھے تاکہ کچرا (فضلہ) وہاں سے بہہا۔ا س بہہا کر ب ہر گلر ب ر گلر گلیوں میں کچراجمع ہونے کے لیےگڑھے تھے۔

شکل شبیہ لباس اور زیور: موہن جو دڑو سے جو مجسمے ملے ہیں انہیں دیکھ کر قدیم سندھیوں کی شکل اور شبیہا کا ۔اتدا ا اتد زہ وہ قد کے چھوٹے اور جسم میں بھرے ہوئے تھے۔ ہونٹ موٹے اور آنکھیں چھوٹی تھیں۔یہ شبیہات صرف مہن جو دڑو کے لوگوں تھیں یا عام طرح سارے سندھیوںکی تھیں الوئی بوئی سے متعل ، اس سے متعل مجسموں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ مرد داڑھی رکھتے ہوں گے ، سر کے بال پر سے مےوڑ کے پیچھے سے کر اجہن یں ن ر انن یںن ن سن توت زنانہ شکل کے مجسموں سے پتہ چلتا ہے کہ کچھ اپنے بال گردن سے موڑ کر پیچھے طرف سے کھلے چھوڑ دییتی کی۔اکچھ ک ب با ب

'' موہن جودڑو '' یہاں کے قدیم آثار گوہرِ نایاب سے کم نہیں

وادی سندھ کی عظیم موہن جوڈرو تہذیب کا ایک نے روز اول سے محققین کو کیے رکھا, وہ ان امن پسندی ہے, ہڑپا موہن جو دڑو ہو یا جھکر تہذیب کے جتنے بھی شہر دریافت ہوئے, ان سب کی باقیات سے کسی بھی قسم کے آلات و ضرب برآمد نہیں ہوئے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ سندھ کی یہ عظیم و پرشکوہ تہذیب پورے ایک ہزار برس تک بڑی و شوکت اور آن بان سے زندہ رہی۔ پھر کچھ معاملہ ایسا ہوا, جس کی وجہ سے اس شہر بے پناہ رونقیں اور پرہجوم بازار, ایک بھولا بسرا خواب بن کر گئے اور دراوڑوں کے دور کا خاتمہ اس عظیم دور کے خاتمے کے مختلف عوامل ہیں کی سالانہ اوسط کی کمی, دریائے کا رخ بدلنا شامل لیکن جس نے دراوڑوں اور میں آخری کیل ٹھوکی ، آریائوں کے حملے تھے۔ اس بات میں کتنی صداقت ہے اس سلسلے میں تاریخ خاموش ہے۔ وادیٔ سندھ کی خاک مشک میں قدرت نے کچھ ایسی تاثیر رکھ دی ہے ، کہ یہ خاک ناموں کو نام وری اوی فا۔ و کیو تبد فا۔د کیو تبد فاید یو تبد اس خاک نے ذروں کو آفتاب, جنگلیوں کو مہذب بلکہ اور خانہ بدوشوں کو عظیم سلطنتوں کا وارث, جب نگر نگر کسی خزاں رسیدہ حالتوں کی آوارہ, تو ایسی عظیم سلطنتوں کے موجد ٹھہرے, جن کے نام تاریخ کے افق پر چودھویں کے چاند کی مانند جگمگاتے رہیں گے۔ موہن جو دڑو کے قدیم آثار وادی سندھ کے گوہر نایاب سے کم نہیں, اس میں سندھ بالخصوص سندھ کے کا اولین فریضہ قدیم تہذیب سے کو اپنی حیثیت اور قد کے حساب سے کردار چاہیے, تاکہ جس طرح آج ہم تاریخ و کرداروں کو یاد بالکل اسی طرح والی نسلیں ہمیں کریں کہ ہم نے اپنی دھرتی کام ورنہ تاریخ شاہد ہے کہ جو قومیں اپحنی غلہیںب فایخانی غلہذیب وہیںایخان غ تب واد ن حف رتظ ترد




Supply hyperlink

About admin

Check Also

” گھنٹہ گھر ” فیصل آباد کی پہچان

فیصل آباد کاگھنٹہ گھر ، پاکستان میں ایک ایسا گھنٹہ گھر ہے جو برطانوی راج …

Leave a Reply

Your email address will not be published.