سُریلے گائیک ” مجیب عالم ”


” کبھی آہ بن کے لب تیرا نام نہ آئے ” نامور انقلابی عوامی شاعر حبیب جالب کی لکھی یہ معروف موسیقار حسن لطیف نے سریلی کے حامل مجیب عالم برس کی عمر میں ان ریلیز فلم ” نرگس ” کے لیے گوائی. انہوں نے مجیب عالم کو کسی پروگرام میں نامور گلوکار محمد رفیع کا گاتے سُنا ،ا اتو فیصلہ کییقا اتو فیصلہ کیکی ود کل م ود اع س سرل ” نرگس ” مکمل نہ ہوسکی اور لوگوں تک مجیب عالم کی گائی مذکورہ غزل نہ پہنچ سکی۔ ریلیز کے تناظر میں مجیب عالم کی آواز سے آراستہ پہلی فلم ” مجبور ” (1966 ء) میں ریلیز ہوئی۔

اس فلم میں ان سے موسیقار تصدق حسین نے شاعر قتیل شفائی کی لکھی یہ خُوب صورت گوائی جو فلم میں سگئیلاوش کم ر ر م ر ر ” آجا میری نندیا آجا ، آجا چوری چوری سوئے میرا لاڈلہ ، میں دیتا جائوں لوری ”۔ سال 1966 ء میں فلم ” مجبور ” کے علاوہ مجیب عالم کی سُریلی آواز فلم ” جان پہچاچن ” ، ” لگئیم ” ، ‘وا’ لو و لوکم ا و ل ر ست عير : ” راز اشکوں میں چھپانے کا ہنر کیا کہنا ” (جان پہچان, ناصر کاسگنجوی, مصلح الدین) ” میں خوشی سے کیوں نہ گائوں, میرا دل بھی گا رہا ہے ” (لوری, حمایت علی شاعر, خلیل احمد) ۔ ” وہ نقاب رخ الٹ کر یوں سامنے نہ آئیں ، کوئی جاکے ان کہہ دے ہمیں یوں نہ آزمائیں ” (جلوہ ، د ہمراہ ناہید نیازی, حمایت علی شاعر, خلیل احمد), ” ہم متوالے ہمت والے, البیلے راہی ” ‘(حسن کا چور ہمراہ شوکت علی, حمایت علی شاعر, خلیل احمد) .سال 1967 ء میں مجیب عالم کی آواز سے سجی فلموں میں بےرحم ، چکوری ، حاتم طائی ، لاکھوں میں ایک شامل ہیں۔

سُریلے گائیک '' مجیب عالم ''

” گیت چھیڑ پیار کا دھڑکتے دل کے ساز پر ” (بےرحم ، ہمراہ مالا ، مظفر وارثی ، کمال احمد)۔ ” وہ میرے سامنے تصویر بنے بیٹھے ہیں, میرے ہر خواب کی تعبیر بنے بیٹھے ہیں ” (چکوری, اختر یوسف, روبن گھوش ,. اس گیت کی عمدہ کے عوض مجیب عالم کو نگار ایوارڈ کیا گیا, جو ان کا اکلوتا ایوارڈ ثابت ہوا اور موسیقار روبن گھوش کے ساتھ مجیب عالم کا یہ واحد نغمہ بھی ہے)۔ ” خدا نے حسن دیا ایسا بے مثال تمہیں ” (حاتم طائی ، مسرور انور ، نثار بزمی)۔ ” ساتھی کہاں ہو ، آواز تو دو پل پل میرا پیار پکارے ، پیار پکارے ” (لاکھوں میں ایک ، ہمرمی نزقاں ، ن تنویر بقوی ، نتنویر

1968 ء:. ” تھکی تھکی سی زندگی ، بجھی بجھی سی شام ہے ” (آوارہ ، احمد راہی ، مصلح الدین)۔ ” یُلدین)۔ ” یُشکاوں کھو گئے ش ” چونکہ ان پڑھ رہنا برا ہے اس لیے تھوڑا پڑھ لکھ لو ” (بیٹی بیٹا ، قتیل شفائی ، منظور اشرف)۔ ” واہ ری قسمت تیری دہائی تیری دہائی ” (بزدل ، فیاض ہاشمی ، خلیل احمد)۔ ” اے جان آرزم مجھےا ان آمشفم مجھے ن م سن رزا زمجھے ن ٹسے تن تر تن ” کھو گئے تم کہاں لٹ گئے ہم یہاں ” (جنگلی پھول ہمراہ ناہید نیازی ، اختر لکھنوی ، کریم شباب الدین)

” میری جان میرے ہم سفر نہ رو ، دیکھ اب قریب ہے سحر نہ رو ” (دوسری شادی ، سیف الدین سیف ، ایم اشرف)۔ ” ان حسینوں سے کہہ دو ، ماہ جبینوں سے کہہ دو ” (عصمت ، کلیم عثمانی ، معصوم رحیم)۔ ” اک مدت سے دیوانہ دل خوشیوں کا زمانہ بھول گیا ” (کرشمہ ، تنویر نقوی ، حسن لطیف)۔ ” بجھے نہ دل رات کا سفر ” (گھر پیارا گھر ، حبیب جالب ، نثار بزمی)۔ ” کسی کے بے چین دل کی دھڑکن ، کسی کے ساز وفا کا نغمہ قبول کرلو ، قبول کرلو ” (میں کہاں منزل اکہاں ، ل دن ل تیل لع دن ” بے قرار کرکے ہمیں چل دئیے حضور ، یہ سزا تو نہ دیجئے حضور ” (میری دوستی میرا پیار ، ہمراہ اغضما ا ” سو جارے سو جارے بھیا کی بہنا پل بھر کی رات ہے ” (میں زندہ ہوں ، مشیر کاظمی ، حسن لطیف)۔ ” ہری ہری رت آئی ساون کی آئی رے رت ساون کی ” (میں زندہ ہوں ، ہمراہ مالا ، حبیب جالب ، حسن لطیف)۔

1969 ء مجیب عالم کی ان فلموں کے ساتھ ایا۔ ” گوری درشن دے کے چلی ہے کہاں ” اور ” یہ پھول یا ستارہ کوئی بتا دے مجھے ” (پیفا ، خ ب تم ملے پیارملا ، تسلیم فاضلی ، ناشاد)۔ ” دنیا کے غموں سے گھبرا کر تیرے در پہ سالی م ااا الی م ا

سُریلے گائیک '' مجیب عالم ''

” ذرا تم ہی سوچو ، بچھڑ کے یُوں ملنا محبت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے ” (دل دے کے دیکھو ، فیاض ہاشمی ، سہیل رعنا) سہیل رعنا) ” نور ہی نور ہے زیبائش زیبائی ہے ” (بزم انصاری ، موسیقار ربانی)۔ ” قسم اس وقت کی جب زندگی کروٹ بدلتی ہے ” (قسم اس وقت کی ، جوش ملیح آبادی ، سہیل رعنا)۔ ” یہ ہی سہی تو چلو یوں ہی پیار کرلی ” اور ” بند نہ کر ابھی نین دوارے ” (گیت کہیں ایگیت کہیں ، شاعقاوطفیم یق وقم وطفیم طفیوطفیم طفیوطفیم طفیوطفیم لو م لو م سر م لوقم لوطفیم لوطفیم لو م سم سم سر سم ” تم نے وعدہ کیا تھا آنے کا اپنا وعدہ نبھانے آجائو تم آجائو تم ” (ماں بیٹا ، مسرور انوا ، سہیل رعن)۔ سہیل رعن ” اپنی بکھری ہوئی گھنی زلفوں کے سائے میں ” (ناز ، ہمراہ رونا لیلیٰ ، قتیل شفائی ، نثار بزمی)۔

اور پھر آیا سال 1970 ء مجیب عالم کے ان سُریلے نغمات کو لے کر: ” تو چندا ہے میرا ، میں ، تیٰرا اجالا ، وم ،موہم موہم موہم موہم موہم قموہم قموہم قموہم ن ” دنیا والو تمہاری دنیا میں یُوں گزاری ہے زندگی ہم نے ” اور ” تم سے مل کر میاای دنیا ہی بدل جاتی ور رعن ور رعن ور ر نی ہےس ‘ نوٹ فلم ” ہمرائی ” میں مسعود رانا نے سات سولو نغمات گائے تھے۔ بعدازاں اس ریکارڈ کو مجیب عالم نے فلم ” اور پروانہ ” میں 5 سولو نغمات اور اک دو گانے کی صورت میں کرنے کی کوشش کی وہ ایک نغمہ کی میں ان سے نثار بزمی نے شان دار نغمات گوائے, جن میں اس سے پہلے نغمے کے علاوہ بقیہ نغمات مسرو رانور نے تحریر کیے۔

پہلا نغمہ سیف الدین سیف نے لکھا۔ ” میرے عزیز تجھے یہ خوشی مبارک ہو نئی بہار نئی زندگی مبارک سے پہلے کہ تیری چشم کرم معذرت کی نگا شہ بہ ‘میں تیوا بن میں تیرا بن’ میں تیوا شہ ” دل تیری یاد میں جب بھی گھبرائے گا ، کون یادوں کو زنجیر پہنائے گا ”۔ ” آمیرے ساتھی دل میرا تجھ کو تڑپ تڑپ کے پکارے, آجا رے آجا رے ”. ” میں تیرے اجنبی شہر میں ڈھونڈتا پھر رہا ہوں تجھے مجھ آواز دے ”. ” ہوائوں میں تیری سانسوں کی مہک ہے, زندگی جھوم کے لہرائے گی آج تو آئے گی ”۔ ” بادلوں کے تلے ہم یونہی شام ڈھلے روز ملتے رہیں ہیں روز ملتے رہیں گے ” (ہمراہ مالا)۔ 1971 ء میں مجیب عالم کی عمدہ کارکردگی ان نغمات میں نمایاں رہی۔

” آرے آرے دل کے سہارے دل کی ہر دھڑکن تجھ کو پکارے ” (دوستی ، ہمراہ ونر جہاں ، کلیم عثمانی ، اے حمید)۔ سال 1972 ء میں مجیب عالم صرف فلم ” میرے ہم سفر ” میں نغمہ سرا ہوئے۔ 1973 ء میں بھی”دلہن رانی ” میں اس سہ گانے میں رجب علی کے ہمراہ نغمہ سرا ہوئے۔ ” ٹوٹ گئے ب خ ” اا گئے م ” اب سہن رو لل سال 1974 ء میں مجیب عالم نے ایک سے زائد فلموں کے لیے نغمات گائے۔ 1975 ء میں مجیب عالم کی کوئی فلم نہ آسکی۔ 1976 ء میں انہوں نے فلم ” تقدیر کہاں لے آئی ” میں یہ دو گانے مالا کے ساتھ گائے۔

سال 1977 ء اور 1978 ء بھی مجیب عالم کی فملوں کے بغیر گزرے ، پھر ان کی آواز فلم ” پیسہ ہ۔ائیا ہے ” کہ سال 1980 ء ، 1981 ء ، 1982 ء بھی مجیب عالم کے نغمات سے خالی رہے پھر 1983 ء میں ان کا گایا ایک دلکش نغمہم فلیم ال نغمہم فلیم ” مانگ میرد ” مانگ میرد ” مانگ مید سال 1984 ء ، 1985 ء میں بھی مجیب عالم فلموں کے بغیر رہے اور سال 1986 ء میں ان کی گائیکی سے آراستہ آخری فلم ” سیاست ” آئی۔

مذکورہ بالا اردو فلموں کے علاوہ مجیب عالم نے پنجابی فلموں کے لیے بھی آواز کا جادو جگایا۔ ان کی پہلی پنجابی فلم ” پیار دا ویری ” (1968 ء) تھی ، جس میں انہوں نے مالا بیگم کے ساتھ دو گانا گایا۔




Supply hyperlink

About admin

Check Also

اپنے دور کے کامیاب مصنف، نغمہ نگار اور مکالمہ نویس ’’حزیں قادری‘‘

پنجابی باکس آفس کی جب بھی تاریخ مرتب کی جائے گی، تو سب سے قدآور …

Leave a Reply

Your email address will not be published.