توکّل کی حقیقت اور اس کے آداب

ارشاد ربانی ہے: ” اورکام میں ان سے مشورہ لے لو, پختہ ارادہ کرلو تو اللہ پر بھروسا رکھو, (توکل کرو) بے شک, اللہ (توکل کرنے والوں) بھروسا کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے, اگر اللہ تمہارا مددگار ہو تو کوئی تم پر غالب نہ آسکے گا وہ چھوڑ دے تو پھر کون ہے ، اُس کے بعد تمہاری مدد سکے اور الہد ۂ اور اللہ ۂ ار چا (بروی 160

ان آیات سے توکل کی حقیقت پوری طرح واضح ہو گئی کہ ” توکل ” بے دست و پائی اور ترک کا نام نہیں, بلکہ توکل یہ ارادے پورے عزم ارادے اور کے ساتھ اثر اور نتیجے اللہ پر چھوڑ دیا جائے اور یہ سمجھا جائے کہ مددگار ہے تو کوئی ہمیں ناکام نہیں کر اور وہی نہ چاہے کسی کی کوشش آمد نہیں مومن بھروسا رکھے۔

بہ ا لفاظِ دیگر اسلام میں توکل کا مفہوم اور کی حقیقت یہ ہے کہ انسان حصولِ رزق حلال کے الیے تمام وسئائل اور مر تّی. توکل کے یہ معنی نہیں کہ انسان سستی, کاہلی اور بے کمر باندھ لے, ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہے.روزگار تلاش اور کسب معاش محنت, جدوجہد, اور سعی و عمل سے کنارہ ہو جائے.بے دست و پا ہوکر بیٹھ جائے, یہ سمجھ بیٹھے کہ جو کچھ غیب سے ہوگا ، رزق کے حصول کے تدابیر اور وسائل و اختیار کرنے کی کاوئی ض۔لورت اواہے ی م ال م تسل

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بھی غربت وافلاس, بے روزگاری اور بدحالی کی دیگر وجوہ کے علاوہ ایک وجہ تعلیم یافتہ اور ہنر نوجوان طبقے کی سستی, محنت و مشقت سے کنارہ کشی اختیار کرنا ہے. ورنہ اسلام کا نظریۂ محنت تو ہمہ وقت یہ تعلیم دیتا ہے کہ ؎

اُٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے

پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے




Supply hyperlink

About admin

Check Also

شہیدِ منبرومحراب سیدناعمربن خطاب رضی اللہ عنہ

محمد عبدالمتعالی نعمان امیر المومنین, خلیفہ دوم, مراد پیمبر, عشرۂ مبشرہ کے بزم فاروق اعظم, …

Leave a Reply

Your email address will not be published.