ادب پارے: اختر شیرانی

مشہورمحقق ، حافظ محمود شیرانی ، حیدرآباد دکن گئے ، ایک تقریب میں ایک صاحب نے اُن سے کہا: ” شیرانی صاحب! آپ کی ایک نظم مجھے بہت پسند ہے۔ ”

” کون سی نظم بھائی! …. ” مولانا نے استفسار کیا۔

وہی ، جس کا مصرعہ ہے۔ ” بسی کی لڑکیوں میں بدنام ہورہا ہوں۔ ”

مولانا نے ٹھنڈی سانس بھری اور بولے: ” یہ نظم میری نہیں ، میرے نالائق بیٹے اختر شیارانی کی اوک ‘ہ وک’ ہ وک ‘ہ مو وک’ م مو وک مو ر اہو سر ست بسد

…………..

اختر شیرانی اور مجاز ، علی گڑھ ریلوے اسٹیشن پر گھوم رہے تھے۔ اُن کی نظر سکینڈ کلاس کے ایک کمپارٹمنٹ پر پڑی ، جہاں دو لڑکیاں ترکی برقعے اوڑھے بیٹھی تھیں۔ ایک لڑکی نے دوسری سے کہا: ” وہ دیکھو! اختر شیرانی! ”

اختر نے مجاز سے کہا: ” بھاگ اور ٹکٹ خرید کر لا! ”

ابھی یہ کسی فیصلے پر نہیں پہنچے تھے کہ گاڑی چل پڑی۔ اختر کے ہاتھ کوئی کمپارٹمنٹ تو نہیں آیا ، گارڈ کا ڈبا آگیا۔ جب اختر گارڈ کے ڈبے میں داخل ہونے لگے تو گارڈ نے روکا۔ اختر نے گارڈ کو ڈانٹ کر کہا:

“Shut up, it is a matter of affection and romance.”

” خاموش! یہ محبت اور رومان کا معاملہ ہے۔ ”

…………..

اختر شیرانی ، لاہور کی ایک دکان میں جوتے خریدنے پہنچے ، دکان دار نے اُن کے سامنے جوتوں کا ڈھیر لگادیا۔ اختر شیرانی نے ایک جوڑا دیکھا ، مگر کوئی جوڑا پسند نہیں آیا۔ قیمتوں پر بھی انہیں اعتراض تھا ، دکان دار طنزیہ لہجے میں بولا:

ـ”اتنے جوتے پڑے ہیں ، آپ اب بھی مطمئن نہیں ہوئے؟ ”

اختر شیرانی ایک جوڑا پہنتے ہوئے بولے:

” بارہ روپے لیتے ہو یا اتار وں جوتا؟ ”

…………..

لاہور کا ذکر ہے, ایک بار اختر شیرانی, جوش کے ساتھ میں مال روڈ سے گزر رہے حرماں نصیب, حرماں خیر ساتھ تھے شیرانی نے عورتوں کو دیکھ دیکھ ” ہائے مار ڈالا ” کے نعرے لگانا شروع کردئیے. ہر شخص انہیں عجیب نگاہوں سے دیکھنے لگے ، جوش نے موٹر رکوائی اور بھاگ کھڑے ہوئے۔




Supply hyperlink

About admin

Check Also

ادب پارے

سید ضمیر جعفری ایک تقریب میں پاکستان کے فوجی حکمراں ، جنرل ضیاء الحق کی …

Leave a Reply

Your email address will not be published.