وزیر اعلیٰ محمود خان انتخابی وعدوں کی تکمیل کیلئے سرگرم


اور آخر کار صوبائی وزیر مال حاجی قلندر لودھی کی کی بدولت خیبر پختونخوا حکومت ایک آئینی بحران سے بچ گئی رواں رواں سال اپریل میں 2 برطرف صوبائی وزرا کی واپسی کیساتھ 2 نئے وزرا نے حلف اٹھایا تھا جس کے بعد صوبائی تعداد 16 کی تھی, اگر وزیر اعلی کو شامل جائے کی تعداد اسی وقت آئینی قانونی شروع کردیا وزرا بعد یہی معاملہ اسمبلی کے اجلاس میں اتھایا۔

تاہم بعض صوبائی وزرا کا یہ تھا اراکین آئین کے مطابق ہی ہے مگر جب میں اٹھا اور ایڈووکیٹ کی رائے مانگی انہوں نے اپنا ہوئے واضح کیا کہ کی وزرا بشمول وزیر اعلی خیبر پختونخوا کابینہ کی تعداد ہونی چاہیے یوں صوبائی حکومت کے سرپر ایک آئینی کےخطرات منڈلانے لگے تھے یہ آمر طے ایک صوبائی اور. کار یہ نے دیتے ہوئے 2 جون کو صوبائی وزیر کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔

جس کے جواب میں انہیں استعفیٰ منظوری کے صوبائی اسی محکمہ کا قلمدان اس سے قبل وزیر کی نے صوبائی. اٹھاتے ہوئے وزیر قانون, پارلیمانی امور اور حقوق کے دو حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے ان پارلیمانی اور انسانی حقوق شعبہ لیکر صوبائی اکبر ایوب خان کی آئینی تعداد کے پر پہلے ہی فضل شکور خان نہ صرف صوبائی اسمبلی میں جواب جواب میں ناکام رہے تھے بلکہ اسمبلی اجلاس کے دوران ہی فون پر ویڈیو گیم کھیلنے کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔

جس کا وزیر اعلی محمود خان فوری نہ کی سرزنش کی بلکہ ان سے پارلیمانی کے لیکر کابینہ کے رکن کے حوالے اس سے قبل مستعفی ہوئے تھے تو ایوب اضافی چارج کے طور پر محکمہ قانون اور پارلیمانی امور کے معاملات خوش اسلوبی کیساتھ چلائے تھے.

وزیر اعلی کے اس بروقت اقدام یہ کہ اب وقت ضائع کرنے والوں کیساتھ مزید رعایت رکھنے کے قائل اور یہی وجہ گزشتہ دنوں جب تھا تو اس میں نے تمام صوبائی وزرا, مشیروں اور معاونین خصوصی کو سختی تاکید کی تھی کہ عوامی مسائل حوالے سے دفاتر ہوئے موثر کردار نے صوبائی شرکت کے تسلسل کو یقینی بنانے کا بھی پابند بنایا جبکہ اراکین صوبائی پر بھی واضح کیا کہ اسمبلی اجلاس کے دوران وزیر اعلی ہاؤس آنے کی کوشش نہ کریں.

اس وقت صوبہ میں تحریک انصاف کے ہونے اور اب حکومت کے پاس دو سال باقی گئے ہیں چنانچہ حکومت کے کپتان سے وزیر اعلی وعدوں کی تکمیل اور یقینی حکمت عملی پر گامزن ہوچکے ہیں جس کا آغاز انہوں رمضان رمضان کے دوران خود ہی کردیا جب انہوں نے متواتر مختلف اور بازاروں ، تھانوں کے اچانک سلسلہ شروع کرکے کیا۔

انہوں نے اسی وقت واضح کیا تھا کہ چھاپوں سلسلہ جاری رہے گا اور بعد اس پر عمل دکھایا, تاہم بدقسمتی سے عملی پر وزیر اعلی کے پے در پے کے کو ہوجانا چاہیے تھا, نہ صرف یہ میدان میں نکلنے کے میں ہچکچاتے رہے نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں سب کو کھری کھری سناتے ہوئے آخری وارننگ دیدی۔

ظاہر ہے کہ پاکستان تحریک انصاف صوبائی حکومت کے وقت ضائع کرنے کا کوئی موقع وعدوں کی تکمیل کےلئے ڈیڑھ کا عرصہ رہ گیا ہے کیونکہ آخری مشکل ہوجاتے ہیں اور اسی امر کا احساس صوبائی حکومت نے بجٹ سے قبل ہی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں رہا کہ وجہ سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں فی الفور قابل ذکر اضافہ کرنا ممکن نہیں۔




Supply hyperlink

About admin

Check Also

کیا مشکل معاشی فیصلوں کا نقصان ’’ن لیگ‘‘ کو ہوگا؟

اس حقیقت کے باوجود کہ اپوزیشن کی جانب سے بڑے بڑے عوامی اجتماعات ٗ جلسے …

Leave a Reply

Your email address will not be published.