شاہ فیصل مسجد


پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد میںواقع شاہ فیصل مسجد اپنی رنگت کے لحاظ سےپوری دنیا کے لیے اسلام امن و محبت, رواداری و بھائی چارےاور احترام انسانیت کی علامت ہے. اسے جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی مسجد ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اپنے انوکھے طرز تعمیر کے باعث یہ تمام مسلم دنیا میں معروف ہے۔

تاریخ

شاہ فیصل مسجد تعمیر کرنے کی تجویز سابق سعودی فرمانروا عبدالعزیز نے 1966 ء میں اپنے دورہ اسلام آباد میں دی ۔باد میں دی ۔باد میں دی ۔باد میں دی۔ بین الاقوامی مقابلہ منعقد کرایا گیا ، جس میں ماہرین نے مسجد کے ڈیزائن کے لیےاپنے نمونے. چار روزہ مباحثے کے بعد ترکی کے ویدت دالوکے (Vedat Dalokay) کا پیش کردہ نمونہ منتخب کرلیا گیا۔

مسجد کی تعمیر

ویدت دالوکے کی زیر نگرانی مسجد کی تعمیر کے کام کا آغاز ہوا۔ تعمیر کا ٹھیکہ پاکستانی فرم ” نیشنل کنسٹرکشن کمپنی ” کو دیا گیا۔ مسجد ، قدیم و جدید تعمیر کا حسین امتزاج ، ماضی و حال کا لاجواب سنگم ، فن تعمیر کا مثاال ظہلقد جلور جمونہ مور مسجد کا کام دو مراحل میں مکمل کیا گیا۔ اس کی خشتِ اوّل 12 اکتوبر 1976 ء کو شاہ خالد بن عبد العزیز کے ہاتھوں رکھی گئی۔ 146 مربع ایکڑ رقبے پر محیط ہے۔ اس کی تعمیر میں بے شمار تعمیری اور تکنیکی خوبیاں موجود ہیں۔ مسجد کے ہال کی پوری چھت کو ، جو بغیر کسی سہارے کے بنایا ہے ، صرف چار بڑے بڑے لوہے اور کنکریٹ ہا اشہت نکریٹ ہا ت ن رو د ا یتر رو د سعودی حکومت کی مدد سے سے زائد کی لاگت سے بنے والی اس مسجد کی تعمیر کا آغاز 1976 ء میں کیا گیا۔ مسجد کے تعمیری اخراجات میں بڑا حصہ دینے پر مسجد اور کراچی کی اہم ترین شاہراہ کو 1975 ء میںراہ بعوا ء میں م معوا۔ مکم معوا۔ وم م عوا۔ و م دود کی سون د فیصل مسجد کا تعمیراتی کام 1986 ء میں مکمل ہوا ، اس کے احاطے میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی بنائی گئی ہے۔

مسجد کا اندرونی منظر

مسجد 5 ہزار مربع میٹر پر محیط ہے اور بیرونی احاطہ کو شامل کرکے اس میں بیک وقت three لاکھ نمازیوں کی گگ ائش بن جات یہ دنیا کی بڑی مساجد میں سے ایک اور برصغیر کی سب سے بڑی مسجد ہے۔ اس کا فن تعمیر جدید ہےلیکن ساتھ ہی یہ روایتی عربی فن تعمیر کی نمائندگی کرتا ہے ، ایک ۔مپمکا ما م میم را مے وت رر روایتی مساجد کےنمونوں سے مختلف اس میں کوئی گنبد نہیں ہے۔ ایک خیمہ کی طرح مرکزی عبادت گاہ کو چار میناروں سے سہارا دیا گیا ہے۔ اس کے مینار ترکی فن تعمیر کے عکاس ہیں ، جو عام مینار کے مقابلے میں پتلے ہیں۔ مسجد کے اندر مرکز میں ایک بڑا برقی فانوس نصب کیا گیا ہے۔ 0 پچی کاری مغربی دیوار سے شروع ہوتی ہے ، جہاں میں کلمہ گیا کا فن تعمیر عرصہ دراز ہاونے کروع یازا الے جنزاب ا تر م عر رت تےع

محل وقوع

مسجد شاہراہ اسلام آباد کے اختتام پر واقع ہے ، جو شہر کے آخری سرے پر مارگلہ پہاڑیوں دامن یںیں ایک خو رت م ایک خو رت م یہ اسلام آباد کے لیے ایک مرکز اور شہر کی سب سے مشہور پہچان ہے۔ تکونی خیموں جیسی اس مسجد کا اپنے پس منظر میں ابھرتی پہاڑیوں اور ملحقہ وادیوں کے حسن سے را ہے دا کیا گیا ا

ہال اورگیلری

ہال میں خواتین کے نماز پڑھنے کے لیے خاصی بڑی گیلری بنائی گئی ہے ، جہاں مغلیہ طرز کی جالیاں لگی ہیں۔ اس گنجائش کو مزید بڑھایا بھی جاسکتا ہے۔ یہ مسجد کشادگی کے لحاظ سے بھی اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ اس میں روشنی کا بڑا عمدہ انتظام ہے ، دُور سے دیکھیں تو یہ روشنی کا منبع لگتی ہے۔ ہال میں تقریباً ساڑھے چھ ٹن وزنی فانوس کے علاوہ دیگر چھوٹی لائٹیں بھی لگائی گئی ہیں۔ ہر لائٹ کے ساتھ آواز پہنچانے کے لیے دو چھوٹے چھوٹےا سپیکر بھی نصب کیے گئے ہیں۔ وعظ یاتقریر کرنے اور اذان دینے کے لیے ایک اونچا پلیٹ فارم بنایا گیا ہے۔ یہاں حسنِ قرأت وغیرہ کے مقابلے بھی منعقد کروائے جاتے ہیں۔

ہال کے چوبی دروازے اور المونیم کی کھڑکیاں بھی بڑی مہارت سے بنائی گئی ہیں۔ اس مسجد کی ایک خوبی اس کی خیمے سے مشابہت بھی ہے۔ اعتکاف کے لیے حجرے بھی بنائے گئے ہیں۔ وضو کے لیے اعلیٰ پائے کی ٹوٹیاں اور اس کے علاوہ غسل خانے بھی بنائے گئے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ مسجد کے 285 فٹ اونچے چار مینار اس کی رونق اور حسن کو دوبالا کرتے ہیں۔ میناروں کے 193 فٹ بلندی پر مشاہداتی گیلریاں بھی بنائی گئی ہیں ، جہاں سیڑھیوں کے علاوہ لفٹ کا بھی بندوبست کیا گیاہے۔ مینار پر لگے سونے کے ہلال سے ان کا حسن اور بھی نکھر جاتا ہے۔ مسجد کی ظاہری شان و شوکت اور حسن و خوبی کے ساتھ ہی اس کی پائیداری پر بھی توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

زمین کی تبدیلیوں ، زلزلوں اور دیگر ممکنہ حادثات سے بچاؤ کے لیے جدید اصوہیںل اور اعلیٰ تکنیکی ۔ھیواتحقیقی مئی اتیں بھیو تحقیقی مئی رتیں بو تحقیقی مہ رتیں ب نمازیوں کی سہولت کے لیے یہاں سینکڑوں گاڑیاں اور ہزاروں موٹر سائیکلوں اور سائیکلوں کے لیے پارکنگ ا ٹی نڈز ۔پ بہیںا ئے ئے بنن اسلامی ریسرچ سینٹر ، میوزیم ، لائبریری ، پ رنٹنگ پریس ، کیفے ٹیریا ، انتیامف دتاتر اویگم ۔نااشاتر یںمم۔ مسجد کے خوبصورت سبزہ زار ، بنفشی درو دیوار ، ف وارے ، راہ داریاں ، سونے کے چاند ، ی میدان کاحوکد ےمدان کاوکد ےاود ےاوجید ماود ماود ماود میڑکیںداب ادور دا ن سن س،د د




Supply hyperlink

About admin

Check Also

” گھنٹہ گھر ” فیصل آباد کی پہچان

فیصل آباد کاگھنٹہ گھر ، پاکستان میں ایک ایسا گھنٹہ گھر ہے جو برطانوی راج …

Leave a Reply

Your email address will not be published.