ذہنی دباؤ پر قابو پاکر امتحانات کی تیاری کریں


ہمارے ملک میں کووڈ -19 کی تیسری لہر کے باعث کچھ جماعتوں کے امتحانات ملتوی کردیے گئے ہیں جبکہ کچھ ککو امتحان دی امتحن دی کووِڈ -19 کے باعث تعلیمی سال کے بیشتر حصے میں طلبا روایتی طریقہ تعلیم کے بجائے آن لائن کلاسزلیتے رہے۔ ایسے میں طلبا کی اکثریت کا کہنا ہے کہ وہ طرح تیاری نہیں کرپائے جیسے کہ وہ حالات یںہ کرتے۔ ، ی ب

موجودہ حالات کا سامنا کرتے ہوئے دباؤ سے نجات حاصل کرنے کی ضرورت تاکہ امتحانات کی تیا۔رکی جالکےاکے تجہ سور پدوری تجہجہ سور یدوری تتجہ سور یدوری توی سور اس کے لیے آپ روزانہ پڑھنے کا معمول بنائیں اور امتحانات کے آغاز سے تین ہفتے قبل بھر ایک کرکے بھیںرپاور طریقے سےر در بس یہ بات یاد رکھیں کہ اگر امتحا ن اچھے نمبر سے پاس ہے تو پھر ذہنی دباؤ کو کم سے کم رکھنا ہوگا۔

امتحانات کی فکر اور دباؤ میں فرق

لوگوں کی اکثریت کا کہنا ہے کہ جب تک امتحانات کی فکر سر پر سوار نہیں کریں تب تک اس کی تیاری نہیں کی جاسکتی۔ یہ بات کافی حد تک درست ہے مگر آپ کو اس مثبت انداز میں لینا ہوگا یعنی غیر وقت کے ضیاع سے ہوگا, زیادہ سونے سے گریز کرنا ہوگا, جنک سے پرہیز کرنا البتہ اگر یہی فکر منفی انداز ذہن جائے دباؤ کا باعث بن جاتی ہے, علم بہتر طریقے امتحانات کی سونے جاگنے اور کھانے پینے معمول بھی متاثر ہوتا ہے۔

ذہنی دباؤ کا ایک آئیڈیل لیول ہونا چاہیے ، جو بہتر کام کرنے میں مدد دے سکے۔ آئیڈیل لیول دباؤ میں بہترین کام کرنے کی طرف راغب کرتاہے لیکن اگر دباؤ زیادہ ہوجائے تو ذہن کام اکنا چھ چھ س۔ت امتحانات میں بہتر کارکردگی دکھانے اور اچھے نمبر لانے کے لیے طلبا خود تو ذہنی دباؤ لیتے م ، ادو ب بر ر اکثر طلبا پڑھائی کی فکر کرنے کے بجائے بیرونی دباؤ کا زیادہ شکار ہوجاتے ہیں۔ امتحانات میں بہترین کارکردگی دکھانے کے لیے آپ مستعد رہیں ، صحت بخش خوراک بالخصوص صبح کا ناش۔تہ پموی یا نمطتہ پمویمی ہریں لورد مطمی ہریں لونر

غیرنصابی سرگرمیوں میں حصہ لینا

ایک بات یاد رکھیں کہ بھی نہیں پڑھ سکتا ، پڑھائی پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے کچھ وقت اپنے لیے بھی نکالیں جیں ا طلبا کو چاہیے کہ ذہنی دباؤ سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے تفریحی ، معلوماتی اور اپنے مضامین سے مز ملق پروگر مم م ر م

یوگا, آرٹ تھراپی, سلائی کڑھائی, کریون آرٹ, مہندی لگانے کا مقابلہ, سوئمنگ, والی بال, سائیکلنگ اور کرکٹ سرگرمیوں میں حصہ لے کر ذہنی دباؤ کو دور کیا جاسکتا ہے. جسمانی ورزش سے آپ کو اپنی پڑھائی پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد ملتی ہے۔ تاہم ، غیرنصابی سرگرمیاں انجام دینے کے لیے وقت کا تعین کریں۔ اگر آپ مقرر کردہ وقت سے زیادہ غیرنصابی سرگرمیوں پر خرچ کریں گے تو پھر آپ کی پڑھائی کا حرج ہوگا۔

صحت بخش غذا کا حصول

جیسے جیسے امتحانات قریب آتے ہیں طلبا کے کھانے پینے کا شیڈول متاثر ہوجاتا ہے۔ وقت بے وقت وہ صحت بخش غذائیں کھانے کے بجائے کیفین والے مشروبات اور جنک فوڈ پر زیادہ انحصار کرنے لگتے ہیں۔ پڑھائی کے دوران لگنے والی بےوقت کی بھوک میں وہ جنک فوڈ کھانے کو ترجیح دیتے ہیں سے ان کا معدہ میزااثر ہہے تےب ید تےب

اس طرح کی غیرصحت بخش غذائیں کھانے سے توجہ و ارتکاز میں کمی آتی ہے ، نتیجتاً طلبا دباؤ کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ سب سے بہترتو یہ ہے کہ آپ پھل اور سبزیوں کے ذریعے مٹائیں کیونکہ یہ غذائیت سے بھرپور ہونے کے س اتھ مختلااف بیم تر وہ

صبح سویرے اُٹھنا

طلبا کی اکثریت رات کو جاگ کر پڑھنے کو ترجیح دیتی ہے ، ان سے صبح اٹھ کر پڑھا نہیں جاتا۔ اس کی بنیادی وجہ ہماری عادتیں ہیں ، جس کی وجہ سے ہمیں رات کو جلدی سونا اور سویرے بیدار ہونگا نہایت مہےل ل تاہم ، امتحانات میں عمدہ کارکردگی دکھانے کے لیے آپ کو یہ عادت ڈالنی کیونکہ رات کاو ھرپور نیآناہےا زہرپور نیناغ د د م ور نین د جھم م م م م م سدت دم صبح کی سیر یا چہل قدمی ، آپ کے دماغ کو توجہ مرکوز کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اس کے علاوہ تازہ ہوا ذہنی دبائو کو کم کرتی ہے اور آپ دم ہو کرامتحانات کی تیاری کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔

فون کا استعمال ترک کرنا

امتحانات کی تیاری کرتے وقت کچھ وقفہ لینا بھی ضروری ہوتا ہے تاکہ آپ تازہ دَم ہوجائیں۔ دو سے تین گھنٹے پڑھانے کے بعد دس سے پندر ہ منٹ کا لیں مگر اس دوران اپنے اسمارٹ فون کو ہاتھ نہ لگائیں۔ امتحانات سے قبل اپنے فیس بک ، انسٹاگرام او رٹوئٹر وغیرہ کے اکائونٹس ایکٹیویٹ کردیں تاکہ آپ کی توجہا میں انتشار

مشاہدے میں یہی آتا ہے کہ آپ نوٹیفکیشن دیکھنے کے لیے ہیں اور پھر اس کے بعد دوسری چیزیں مشغول ہوجاتے ہیں کہ وقت گزہیانے کک تحسا ہ تحسا

والدین کا کردار

والدین کو چاہیے کہ امتحانات کے آغاز سے قبل بچوں کو گھر پر پُرسکون تعلیمی ماحول فراہم کریں۔ گھر پر کسی بھی قسم کی سماجی یا نجی تقریبات منعقد نہ کر یں اور اسے گھریلوجھگڑوں اور تنازعات سے پاک رکھیں۔ ٹی وی ہلکی آواز میں دیکھیں اور ہر وقت بچوں کو پڑھائی کی تلقین نہ کریں بلکہ کے لیے ایک نظام الاوقات یںا۔۔ ن ر ر تیب نے کر ر تیب نے کر ر تیب نے کر ر تیب نے کر ر




Supply hyperlink

About admin

Check Also

مطالعہ کا ذوق – کامیابی کی کنجی

ہر کوئی کتاب کا مطالعہ کرنا چاہتا ہے لیکن مطالعہ کو عادت بنانے کے لیے …

Leave a Reply

Your email address will not be published.