” توہّم پرستی ” اسلامی تعلیمات کے منافی عمل

اسلام دین فطرت اور دین انسانیت ہے, یہ ایک کامل مکمل دین اور ابدی ضابطۂ حیات نے انسان کی ہر سطح کامل رہنمائی کی ہے.اللہ پر ایمان, اعتقاد اور توکل کا تقاضا یہ اسی سے ہونے کا یقین انسان کے قلب و ذہن راسخ ہو .کسی شے کے بارے میں, نحوست اورتوہم پرستی کا نظریہ ایک غیراسلامی سوچ اوراسلامی تعلیمات عمل ہے.ہمارے معاشرے میں بدفالی, نحوست اور سمجھی جاتی ہے, وہاں ماہ صفر کے متعلق عموما لوگ بے شمار الاعتقادی, بدفالی اور توہم پرستی کا آتے ہیں, جس کا حقیقت اور اسلام دور کا بھی واسطہ نہیں۔ ” صفر المظفر”اسلامی سال کا دوسرا مہینہ ہے م اسلام ن م اسلام ن ن مد سے ے اسلام نے اس کے نام کو برقرار رکھا۔

اس کا تاریخی پس منظر یہ ہے کہ اسلام اس مہینے کے بارے میں کئی مشہور تھیں ، مثلاًلوگوں کہ اس مہیکنے یںل۔ا نل ت نا وہ اسے جنگ وجدال کا مہینہ شمار کرتے تھے اور جوں ہی محرم کا مہینہ ختم ہوتا ، میں جنگ شروع کردیتے تھے۔ (تفسیر ابن کثیر)

اسلامی تعلیمات سے دوری کے سبب آج کے مسلمانوں میں بہت سی باتیں رواج پا چکی جن کا نہ صرف یہ و شریعت سے کوئی ملتا, بلکہ وہ شریعت و سنت کی تعلیمات بھی ذیل میں ان کا مختصر ذکر کرکے ان کے حوالے سے احادیث وفقہ سے رہنمائی پیش کی جارہی ہے۔

عموماًمعاشرے میںصفر المظفرکی ابتدائی تیرہ تاریخوں کو منحوس تصور کیا ہے اور ان دنوں میں نہ صےرف یہاا ا ن ف ر بیع اب تو رفتہ رفتہ پورے صفر کے مہینے کا نام ہی رکھ دیا گیا ہے اور پورے مہینے کو اس میں کسی بھی نئےا ام جکا تتا اس کی بظاہر وجہ یہ بیان جاتی تیرہ اکرم ﷺ کے مرض الوفات میں نظریہ اپنا لیا کہ صفر اور ہر قسےم کیا خیر ہےر قل سی سی ر برکت سے حالانکہ اس بات کی کوئی اصل نہیں ، بلکہ آپﷺ کے مرض میں شدت صفر کے آخری ایام میں ہوئی تھی ، جس کا ذکر آگے آتا ہے۔

عوام میں یہ بات بھی مشہور ہے کہ اس لولے, لنگڑے اور اندھے جنات کثرت سے آسمان سے لوگوں کو نقصان پہنچاتے وجہ سے بعض اس مہینے میں صندوقوں اور کہتے ہیں اس طرح ہم ان ضرر رساں جنات کو بھگارہے بناء پر بالخصوص خواتین اپنے بچوں کے معاملے میں خوف زدہ رہتی ہیں کہیں یہ جنات نقصان نہ پہنچادیں.بعض علاقوں پر خواتین مکڑی جالے صاف کرتے ہوئے کہتی ہیں: ‘! اے صفر دور ہوجا’. ” ان تمام باتوں کی بنیاد اس مہینے میں بکثرت کے زمین پر اترنے اور لوگوں کو نقصان کوئی اصل نہیں۔

اسی طرح عوام میں مشہور ہے کہ صفر کے آخری کو حضور اکرم ﷺ کی بیماری میں افاقہ تھا اور آپﷺ نے صحت فرمایا تھا, لیے گھر گئے: بعض خواتین گھی, چینی یا روٹیاں پکا کر کرتی ہیں اور جواز یہ پیش کیا جاتا کہ حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اکرم ﷺ کی عمل کیا تھا.بعض لوگ اس بدھ اہتمام سے سیرو تفریح ​​کے لیے باغات اور پارکوں میں ہیں اور جواز یہ پیش کرتے ہیں کہ روز اپنی صحت یابی خوشی میں حضور فرمائی تھی.بعض اور جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ ہم کی خوشی میں یہ عمل کرتے ہیں.بعض میں باقاعدہ تہوار جاتا اور کاریگر سے اس دن ان تمام رسومات کی غلط اعتقاد ہے کہ حضور اکرم ﷺ صفر کے آخری بدھ کو یاب ہوئے, حالانکہ صفر کے آخری بدھ کو اکرم کی بیماری میں افاقہ نہیں ، بلکہ آغاز ہوا اور بیماری میں آپ ﷺ نے دنیا سے پردہ فرمایا۔ ذیل میں چند نا قابلِ تردید حوالہ جات نقل کیے جاتے ہیں: مورخ اسلام محمد بن سععدؒ لکھتے ہیں: ” صف و برو بردھ و برو برد (طبقات ابن سعد صفحہ 206)

مولانا مفتی رشید احمد گنگوہی فرماتے ہیں: ” آخری چہار شنبہ کی اصل نہیں, بلکہ اس دن رسول اللہ کو کو مرض واقع ہوئی تھی, (ازناقل اور اب مسلمانوں میں بھی.) تو یہودیوں خوشی منائی تھی, وہ اب جاہل ہندؤوں رائج ہوگئی۔ ” (فتاویٰ رشیدیہ صفحہ 15)

بریلوی مسلک کے اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بریلویؒ فرماتے ہیں کی کوئی نہیں ، نہ ﷺ کی صحت یابی ک ا ‘۔ ج ف (احکام شریعت three صفحہ 183)

مفتی اعظم امجد علی صاحب لکھتے ہیں: ” ان دنوں میں رسول اللہ ﷺ کا مرض شدت تھا ، صفحہدت تھا ، صفحہصفحہب

ان حوالہ جات سے یہ بات واضح ہوئی کہ صفر کے آخری بدھ کو سرکار دو عالم کے مرض الوفات کا آغاز اوا اس میں تد یہود نے اس دن خوشیاں منائی تھیں ، ان سے یہ تہوار ہندوؤں کی طرف منتقل ہوا۔ پھر مسلمانوں کو یہ مغالطہ دیا گیا کہ اس دن حضور اکرم ﷺ صحت یاب ہوئے تھے۔ آپ ﷺ نے غسلِ صحت فرمایا تھا اور مدینہ منورہ سے باہر تفریح ​​کی غرض سے تشریف لے گئے تھے۔

افسوس کہ اسلامی تعلیمات سے دوری کی وجہ سے مسلمان بلاتحقیق باطل حربے میں آگئے اوطر اپنے مپبوب نبی ﷺ کی کے دور ر ر ر کے دون ر

اسی طرح عوام کی ایک بڑی تعداد اس مہینے میں بیاہ کو ممنوع سمجھتی ہے اور مشہور ہے ‘میں ہوگی, وہ صفر ثابت ہوگی’ ‘, لہذا بعض لوگ اس مہینے میں شادی سے انتہائی گریز کرتے ہیں اور طے شدہ تاریخوں تک کو محض کی تبدیل کردیتے طرح خوشی کی دوسری کوئی تقریب منعقد کرنے سے قصدا کیا جاتا ہے.اس بنیادی وجہ یہ بتائی جاتی صفر (نعوذباللہ) اور منحوس, لہذا اس میں کیا جانے والا کام بھی نامبارک و منحوس اعتقاد سراسر غلط اور خلاف شریعت و سنت ہے.سال مہینوں میں سے کوئی مہینہ بھی منحوس متعدد احادیث میں سرور کونین ﷺ نے اس بات واضح طور پر فرماتے ہوئے ارشاد کہ کسی بھی نفسہ کوئی نحوست نہیں بن معاویہ سے ہے اکرم ﷺ نے گھر, عورت, سواری (جس کو لوگ منحوس سمجھتے ہیں) ان سے بھی برکت ہوتی ہے۔ (ترمذی)

عارف کبیر علامہ عبدالحق محدث دہلوی اس موضوع پر متعدد نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ” خلاصہ یہ کہ نحوست کوئی چیز نہیں ہے. ” مزید فرماتے ہیں: ” اس سے مزید ثابت ہوا کہ نحوست اور شگون رسول اکرم ﷺ نے انکار فرمایا ہے۔ ” اس تفصیل سے واضح ہوا کہ کسی چیز میں اس کی ذات کے اعتبار سے کوئی نحوست نہیں ہے۔

اب آئیے چند ان احادیث پر نظر ڈالیں, جن سے صفر کے مہینے کے منحوس ہونے معلوم ہوتی ہے: حضرت جابر بن عبداللہ کرتے ہیں حضور اکرم ﷺ نے بھوت پریت وغیرہ کا نزول نہیں ہوتا. (مسلم شریف)

امام بخاریؒ نقل کرتے ہیں: ماہ صفر میں بیماری ، بدشگونی و نحوست ، شیطان جنات کی گرفات کے ثلوخات کییث کوئی ل بوہیں ع لوخ عد و حقیقت نہیں ع

خلاصہ یہ کہ شریعت نے سال بھر کے ہر دن اور ہر نکاح اور شادی بیاہ کو جائز رکھا ہے اور یا دن میں ان امور کی ممانعت ہر صاحب عقل اس بات کا اندازہ کہ صفر کے متعلق جتنی بھی باتیں میں سے کسی بھی تعلق ان سب باتوں کی واضح پر تردید فرما ئی ہے, بلکہ آج کے زمانے ملت اسلامیہ کے اندر پائے والے تمام مکاتب فکر انہیں بے اصل قرار ہوئے یکسر مسترد ہے.اس کے باوجود اگر ہیں تو یہ کے زمرے میں آتی ہیں جو انسان کے ایمان کے لئے بھی انتہائی خطرناک ہے۔ اس لیے کہ بے عمل یا بدعمل کا آخرت میں کسی نہ کسی وقت چھٹکارا ہوجائے گا ، لیکن کا چھٹکارا انتہائی مشکل ہے۔ اللہ تعالیٰ مجھ سمیت تمام مسلمانوں کو شریعت اسلامیہ اور عقائد و اعمال حوالے سے حق و و.




Supply hyperlink

About admin

Check Also

شہیدِ منبرومحراب سیدناعمربن خطاب رضی اللہ عنہ

محمد عبدالمتعالی نعمان امیر المومنین, خلیفہ دوم, مراد پیمبر, عشرۂ مبشرہ کے بزم فاروق اعظم, …

Leave a Reply

Your email address will not be published.