20 سال بعد نظامِ تعلیم کیسا ہوگا؟


حقیقت یہ ہے کہ مستقبل ہر بار انسان کو حیران کرتا آیا ہے۔ اگر شعبہ تعلیم کی بات کریں تو تھے, اساتذہ روایتی فیس-ٹو-فیس تعلیمی ماحول میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا کررہے تھے, طلبا وقفہ کے میں ایک دوسرے کے ساتھ کھیل اور 2020 ء کے آتے ہی یہ ساری باتیں ماضی کا حصہ بن گئیں اور کورونا وبائی مرض نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

ایسے میں دنیا کے نظامِ تعلیم کے لیے ہمارا ویژن کیا ہونا چاہیے اور اسے ہم مستقبل کے کس طرح تیار کرسکتے ہیں ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمیں ناصرف ان تبدیلیوں کے تیار تیار ہے جو ممکنہ طور پر ہیں بلکہ ائیور ۔عو ن روتر ہعضو ن ض تبوتر ہعو ن ض تروتر ہعو ن ض تروتر ہعو ن ض تروتر ہعو ن ض تروتر ہعو ن ض تروتر ہعو ن ض تروتر ہعو ن ض تبجا

اسکولوں کے مستقبل کا ممکنہ منظرنامہ

اقتصادی تعاون تنظیم (او ای سی ڈی) نے اسکولوں کے مستقبل کے مختلف ممکنہ منجرنامے کھینچے ہیں اورود بل م اور اسی منسب تت

اسکول کی تعلیم موجودہ شکل میں جاری رہتی ہے۔ رسمی اور باضابطہ (فارمل) نظامِ تعلیم ناصرف جاری رہتا ہے بلکہ اس میں اضافے کا رجحان بھی جاری رہتا ہے۔ بین الاقوامی اشتراک اور ٹیکنالوجی کی جدت کے باعث انفرادی حصولِ تعلیم کی نئی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔ رسمی اور باقاعدہ نظامِ تعلیم کے خدوخال اور طریقہ کار برقرار رہتا ہے۔

تعلیم کی آؤٹ سورسنگ

معاشرہ اپنے بچوں کو تعلیم یافتہ بنانے کے لیے براہِ راست میدان میں اُتر آتا ہے اور ا۔ول ہااا اوٹ کپھوٹ کپھوٹ کپھو تور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی مدد سے تعلیم ایک متنوع ، نجی اور لچکدار انتظام کے تحت حاصل کی جاتی ہے۔

اسکول بطور تربیتی مرکز

اسکول اپنی موجودہ ساخت میں برقرار رہتے ہیں لیکن تنوع اور نئے تجربات کرنا ایک روایت بن چکی ہے۔ اسکولوں کی دیواریں ختم ہوجاتی ہیں ، جس کے نتیجے میں اسکولوں کا ساتھ رابطہ بڑھ ججاتا ہے اوور سیکھنے

چلتے پھرتے تعلیم کا حصول

ہر وقت اور ہر جگہ تعلیم کا حصول ممکن ہے۔ باضابطہ اور غیر رسمی تعلیمی نظام کے درمیان فرق ختم ہوجاتا ہے کیونکہ معاشرہ مشین کی طاقت کے اجاعم ل کی رف ف

نئی سوچ تخلیق کرنا

بنیادی سوال یہ ہے: اسکول کی تعلیم کا موجودہ نظام کس حد تک تعلیم کے مستقبل کے لیے ہماارے یژعباا حصکل میں ر کیا موجودہ نظام تعلیم کی تزئین ِ نو اس سلسلے مددگار ثابت ہوگی ، جس کا مطلب یہ اوا کے وکل کےائےاوا کے حصوکل کے ایےاد ے وصل کے الیے ڈھن وب تر ی الیے ڈھن بت تر د کیا نظامِ تعلیم میں لوگوں ، جگہ ، وقت اور ٹیکنالوجی کو منظم رکھنے کے لیے ایک مکمل طور پر نئی س؟وچ کی ضرورت ہے ضرورت ہے

موجودہ تعلیمی نظام کو جاری رکھنے اور اس میں جدت پیدا کرنے کا یہ ہوگا کہ ہم نظاامِ ہتےلیم م یکسا ن میںو ر ب ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی موجودگی مسلسل بڑھ ہے اور موجودہ تعلیمی تحت استعمال کیا جاتا ہے, جس مقصد روایتی نصاب ترسیل ہے, اسے تعلیم میں انقلاب کیا جارہا.تعلیم کے مستقبل کے تمام منظرناموں کے تعلیم کی گورننس اور مستقبل کی افرادی قوت کو تربیت فراہم کرنے پر اثرات مرتب ہوں گے۔ کئی ممالک میں اسکولنگ سسٹم نئے شراکت داروں ، مرکز سے مقامی گورننس طرف اور تیزی سے بین الاقوامیت ہے ۔رف بڑھوامیت کی طرف ڑھ طرف

ہم تعلیم کے مستقبل کے لیے لاتعداد ممکنہ منظرنامے کھینچ سکتے ہیں۔ درحقیقت ، تعلیم کا مستقبل ان میں سے کئی خصوصیات کا امتزاج بھی ہوسکتا ہے اور دنیا کے ملکوں میں اس کی ہئیت مخوتلف ہس کی ہئیت مخوتلف ہس کی ہئیت مخوتلف اس کے باوجود ، ممکنہ منظرناموں پر بحث کے ذریعے ہم کچھ نتائج پہنچ سکتے ہیں ، جن سے سیکھیتے ہوئے ہم خود آج

تعلیم کے مستقبل کی منصوبہ بندی کرنے کے لیے تصور ، تخیل اور جذبہ درکار ہے۔ ہمیں یہ نہیں کرنا کہ چونکہ ہمیں ایسا مستقبل پسند ہے ، اس لیے اس کی خواہش کریں اور اسی کے لیے تیاری کریں۔ ایک ایسی دنیا, جہاں توقع کی جارہی ہے کہ کورونا مرض اور ماحولیاتی تبدیلی کے باعث موسموں سختی, سماجی بے چینی اور سیاسی مزید بڑھے گی, ہم بھی غیرمتوقع صورت حال رکھنے کی استعداد نہیں رکھتے.

یہ مایوسی کی گونج نہیں ہے بلکہ یہ کچھ کرگزرنے کے لیے وقت کی بروقت آواز ہے۔ ہم اپنی پوری زندگی کے دوران سیکھنے اور آگے بڑھنے کی اہمیت سے اچھی طرح واقف ہیں۔ ہمیں تعلیم کو عوامی بہبود کے ایک اہم ترین ذریعے کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے ، مستقبل میں او مھیو ول سی ب کا حصول کسی ب ا حصول کسی ب ا حصول کسی ب




Supply hyperlink

About admin

Check Also

بچوں کی پرورش اور دنیا کے امیر ترین افراد

’امیر افراد میری اور آپ کی طرح نہیں ہوتے‘، یہ بات ایک صدی قبل امریکی …

Leave a Reply

Your email address will not be published.