سوچا اور کام ہوگیا ، مصنوعی دماغ تیاری کے مراحل میں


تمام ممالک خواہ وہ ترقی یا فتہ ہوں یا ترقی پذیر سب ہی ٹیکنالوجی کی دنیا میں انقلاب برپا کررہے ہیں۔ اس ضمن میں اب تک کئی ممالک مصنوعی ہاتھ مصنوعی, مختلف کام کرنے والے روبوٹس اور متعدد چیزیں چکے ہیں.اس سلسلے میں مزید ہورہی ہے .ان میںسے چند چیزوں میں ذیل میں پیش ہے.

سوچ کے ذریعے کنٹرول ہونے والے ، مصنوعی ہاتھ

اس وقت دنیا بھر کے ماہرین سوچ سے کنٹرول ہونے والےآلہ جات بنا رہے ہیں ۔اب ایک معذورافراد محضاکے کیں ر راد محض اکے ذر ر ر وہیر یہ مصنوعی ہاتھ Ryerson College کے طالب علموں نے تیار کیا ہے .یہ ہاتھ مکمل پر سوچ سے کنٹرول ہوتا ہے .اس کو compressed air سے طاقت دی جاتی ہے اورا س بنانا بھی نسبتا آسان ہے, جس میں مشکل سرجری کی ضرورت نہیں جو کہ عام طور پر خراب ہاتھ کو مصنوعی ہاتھ سے تبدیل کرنے کے لیے کی جاتی ہے۔

اس ہاتھ کو استعمال کرنے والا شخص کھوپڑی پر پہنی ہوئی ٹوپی کے ذریعے اس مصنوعی ہاتھ کو ہدایات جاری کرتا ہے۔ اس ٹوپی میں سینسر لگے ہوتے ہیں جو کہ دماغ میں گردش میں ہونے والی تبدیل کا کر لیتے ہیں اور اس بعد سوچ کے ذریعے احکامات منتقل کر دیے جاتے یہ سگنلز ہاتھ میں نصب مائیکرو پروسیسرز تک منتقل کیے جاتے ہیں, جس اوپر, نیچے یا دائیں بائیں جیسے سگنلز کے نمونے پہلے ہی سے ذخیرہ دیے جاتے ہیں۔ یہ مائیکرو پروسیرز دماغ سے آنے والے سگنلز کا موازنہ ذخیرہ کیے ہوئے آنے والے سگنلز سے ہم آہنلز احکامات ترت ترت

روبوٹس کے ذریعے کچرے کی ری سائیکلنگ

مغربی ممالک میں کاغذ, کار بورڈ, شیشہ, پلاسٹک اور دھاتوں ری سائیکل کیا جا تا ہے یہ کام گھریلو خواتین انجام دیتی ہیں فن لینڈ کی کمپنی Zen robotics نے ایسے روبوٹس بنائے ہیں جو کہ قسم کے سینسرزکی مدد سے یہ کام انجام دے سکیں گے۔ روبوٹس کو ایک متحرک conveyor belt بیلٹ پر نصب کرکے اس پر کچرا رکھ دیا جائے گا۔

یہ مختلف اشیاء کی جانچ کرکے ان کو مناسب بکس میں ڈال دیں گے۔ روبوٹس پر لگاحسی (sensor know-how) نظام ، مختلف اقسام کے کیمرں ، دھاتی detectors اور دوسری اشیاء کے لیے مکم۔م شناختی نظات پر جو کہ تاروں ، شیشے کے بلب ، ڈبوں ، کپڑے کے ٹکڑوں اور دیگر چیزوں میں فرق کر سکیں گے۔

اوزون کی مدد سے کھانوں کے ضیاع کو کم کرنا

ہر سال کاشت کیے گئے پھلوں اور سبزیوں کا 30 فی صد ان پر لگنے والی پھپھوند کی وجہ سے ضائع ہو جاتا ہے۔ ماضی میں غذائوں کو محفوظ کرنے کے لیے بے شمار طریقوں کیا جاتا تھا ، جس میں مصنوعی کیڑے مار مصنوعی کیڑے مار ایشمل شلون شمل یمل شون یمل یمل ون یمل ممون موون للون اون مکون پہلون ین سے. اب نیوکاسل یونیورسٹی کے Dr.Ian Singleton اور plant biologist Prof. Jerry Barnes نے دریافت کیا ہے کہ اگر ٹماٹر, خوبانی, انگور دوسرے پھلوں کو ایسے ماحول دیا جائے اوزون ہو تو ان کے گلنے سڑنے کی کو بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے.

اس طریقے کے ذریعے سبزیوں اور پھلوں کے سڑنے کی رفتار کو 95 فی صد تک کم کیا جا سکتا ہے کہ اوزون کے بغیر زیادہ سے زیادہ مدت تو اس کے اندر پھپھوند کے حملہ کے خلاف مزاحمت پیدا ہو جاتی ہے, یہاں تک کہ جب اوزون سے باہر نکالا جاتا ہے تو کے بعد کچھ اس ویکسین کے عمل کی پروان چڑھتی ہے جو سے مزاحمت کا باعث بنتی ہے۔

مصنوعی دماغ ، تیاری کے مراحل میں

انسانی جسم کا سب سے حیرت انگیز حصہ دماغ ہے۔ دماغ میں تقریباً 100 بلین نیورون ہوتے ہیں۔ یہ برقی طور پر متحرک ہونے والے عصبی خلیے برقی کیمیائی عمل کے اطلاعات منتقل کرسکتے ہیں.دماغ میں موجود 100 بلین عصبیے دوسرے عصبیوں (نیورونز) سے 7000 کنکشنز کے ذریعے منسلک ہوتے ہیں (synapses) ایک بالغ دماغ کے اندر 100 سے 500 ٹریلین اس طرح کے کنکشن پائے جاتے ہیں جو دماغ کے مختلف افعال کی انجام دہی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

مصنوعی دماغ کی تیاری میں مصنوعی کنکشن کی اہمیت کلیدی ہے۔ شمالی کیلی فورنیا یونیورسٹی کے کامیاب ئے یہ سرکٹ ایک ساتھ لگے ہوئے نینو ٹیوب سے بنایا گیا جو ہے بالکل انبان بالکل انبان

اس میں داخل کی جانے والی موجی شکل (enter waveform) اور اس سے باہر آنے والا سگنل حقیقی عصبیوں سے تشکیل پپایا وال ست مصنوعی دماغ کو تجربہ گاہ کے اندر تیار کرنے کئی دہائیاں درکار ہوں گی ، تاہم حاوالے ےے اہہم اٹھا ی

سمندری پانی سے بیٹری چارج

اسٹین فورڈکے سائنس دانوںنے ایک نئی بیٹری تیار کی ہے ، جو کہ میٹھے اور نمکین پانی کے فرق سے چارج کی جاتی ہیں۔ ان بیٹریوں میں نئے قسم کے الیکٹروڈز استعمال کیے گئے ہیں جو کہ میگنیز آکسائیڈ اور سلور کی بنی ہوئی نینو ۔فہاااک نو ہےگاا نو یکگاا ور گئیگ ور گئی ور گئی ور گئی ور سن ن تسے بال سن ن تسے بال سن ہےور بگ ور گئیگ ور گئیگ ور گئیگ ن ب ان الیکٹروڈز کو تازہ اور نمکین پانی میں بالترتیب ڈبویا جاتا ہے ، تا کہ ان میں برقی طاقت پیدا ہو سکے۔

اس طریقہ کار میں پہلے بیٹری کو نمکین یا میٹھے پانی میں چارج کیا جاتا ہے اور تازہ پانی کو نمکین پا۔اد سے جر دیل کا۔اد سے تر دیل پا۔اد سے تر دیل ک اس سے آئن کی تعداد میں 100 گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ چناں چہ بیٹری زیادہ بڑے وولٹیج کے ساتھ ڈسچارج ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں بجلی پیدا ہوتی ہے۔

بعدازاں یہ چکر دہرایا جاتا ہے ۔یہ تخمینہ لگایا گیا ہے کہ اس کے پاور پلانٹ کو ایسے مقام پو اگسے مقام مپ لگایا جا یںم جہسا د ما ل جہر د م ن یںم جہسا د م ن م جہسا د. اگر 50 مکعب میٹر فی سیکنڈ تازہ پانی اس میں سے گزرے تو 100 میگا واٹ بجلی تیار کی جا سکتی ہے کہ ایک لاکھ گھروں کی بجلی ضروریات پوری کرنے لیے کافی ہو گی.سمندری اصول, اوسموسز کی بنیاد پر ابتدائی کام ناروے کی کمپنی نے شروع کردیا ہے۔

اوسموسز کا اصول اس حقیقت کی پر گیا ایک نیم نفوذ پذیر جھلی جس طرف نمکین پانی ہوےکیا ہے طا ، ااا ن ا اس عمل میں نمکین پانی والے حصے میں دبائو ہےا ور اس دبائو کو ٹربائن کے لیے استعمال کیا جا ہے, جس سے بجلی ہے.سمندر کے کا صاف ستھری قابل استعمال میں اہم پیش رفت ثابت ہو گی.

ایک پہیے والی سائیکل

اس جدید دور میں ایک پہیے والی سائیکل تیار کی گئی ہے ، جس کو ” مونوسائیکل ” کا نام دیا گیا ہے ۔یہ سائیکال دواہم لوحم وحم ایک یہ کہ اس میں پیڈل نہیں ہیں اور دوسرے یہ کہ یہ توازن خود ہی قائم رکھتی ہے۔ اس سائیکل میں کئی سینسرز ، Gyroscope اور ایک ایکسلرومیٹر (accelerometer) لگا ہے جو توازن کو قائم رکھتا ہے اس کے ججاا ہے اس کے و یک ب

آپ کو صرف یہ کرنا ہو کہ آگے چلانا آگے کی طرف جھک کے لیے پیچھے جانب جھک کو دیں. طرف بھیج گے. آپ زمین پر اپنے پیر رکھ کر بھی اس کو روک سکتے ہیں۔ اس کی موٹر ری چارج ہونے والی لتیئھم بیٹری سے چلتی ہے جو کہ 16 km / h کی رفتار اور ایک دفعہ چالی ہےحال چل لل ل لر 20 کتتوم چر ل ر آپ اس کو لپیٹ کر آسانی سے اپنی گاڑی میں بھی رکھ کر سکتے ہیں۔

خود درست ہو جانے والا ، اسمارٹ بستر

اسپین کی فرنیچر کمپنی OHEA نے ایک ایسا بستر متعارف کروایا ہے جس کو ” اسمارٹ بیڈ ” کا ناام یکوا ا پام یکوا ا پا م قآپوا م دیا ا ہے ت ت،سے رد اس میں سرہانے headboard ایک تار کے ذریعے ایک میکنزم کے ساتھ بندھے ہوتے ہیں۔

چادر بستر کے پایوں سے کپڑے کے ہک (Velcro) اور تاروں پر چپکی ہوتی ہے اور اس کو کناروں سے سی دیا جاتا ہے۔ بستر میں وزن کی حس رکھنے سینسر لگے ہیںجن کو کا فورا احساس ہو جاتا ہے کہ بستر میں نہیں جیسے ہی آپ بستر اٹھتے ہیں سرہانے کے اوپر کھینچ کر سیدھا کر دیتا روبوٹک ہاتھ بستر سے شکنیں صاف کر دیتے ہیں اور اس کے بعد تکیہ نیچے کر دی جاتی ہے۔

تصویر لینے کے بعد فوکس کو درست کرنا

اکثر تصویر کھینچے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ تصویر کا فوکس درست تھا ، جس کی وجہ سے لی جانے والی اویر کتو یٹل تصویر کتو کل اب کیمرا ٹیکنالوجی میں ایک انتہائی اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ اب آپ تصویر کھینچنے کے بعد فوکس کو درست کر سکتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے آپ تصویر کے فوکس میں درمیان یا پیچھے موجود اشیاء کے فوکس کو دوباردرست کر سکتے ہیں۔

آپ تصویر کو آسانی سےاس طرح ایڈجسٹ کر سکتے ہیں کہ یہ اچھے فوکس کے ساتھ نظر آئے۔ ایک ہی شاٹ کے ذریعے 2D یا 3D تصویریں لینا ممکن ہے اس کے ساتھ کم روشنی میں بھی تصویر لی جا سکتی ہے۔ عام ڈیجیٹل کیمروں میں روشنی کی شعاعوں کو جمع کر کے ایک خاص مقدار کی روشنی حاصل کر لی جاتی ہے۔ نیا mild discipline کیمرہ روشنی کی شعاعوں کے رنگ ، شدت اور ویکٹر پوزیشن کو علیحدہ علیحدہ ریکارڈ کااکیا ہے ویو جاو وو م اویئم مو م مو م مو م مو اع




Supply hyperlink

About admin

Check Also

حیاتیاتی ارتقاء اور انسانی آنکھ

ڈاکٹر فراز معین اسسٹنٹ پروفیسر،پروٹیومکس سینٹر،جامعہ کراچیحیاتیاتی ارتقاء کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published.