خلا میں ملنے والے اجنبی اجسام


حذیفہ احمد

ماہرین فلکیات خلا میں پوشیدہ رازوں اور چیزوں کو تلا کرنے میں سر گرداں ہیں ۔اکی ضمن میں داشوج ا خل میں تلا سفر کرتے ہوئے یہ اجنبی چیز ” ویگا ” کی سمت سے آئی تھی ۔ویگا ایک اجنبی ہے جو زمین سے 237 کھرب کلو میٹر دورہے۔ اس اجنبی چیز کی ہئیت لمبے سگار کی طر ح ہے جو ایک غیر معمولی جہاز جیسی ڈسک میں ڈھلا ہوا ہے۔

جب تک یہ اجنبی چیز ماہرین میں آئی اس یہ ہمارے نظام شمسی میں موجود سامنے سے گزر چکی .اور اس نے لے کرایک مختلف سمت اجنبی شے کا نام ” اومواموا ” (Oumuamua) رکھا گیا ہے .سب سے رابرٹ ویرک نے اس کا پتہ لگایا تھا اور کی رفتار جاننے کے بعد کا کہنا تھا یہ شے علم طبیعیات .یہ کوئی عام دار ستارہ سیارچہ نہیں تھا بلکہ یہ دوردراز کسی نامعلوم شمسی نظام سے آنے والی کوئی چیز تھی.

سائنسدانوں کو اس سے جڑے دو حقائق میں سب سے زیادہ دلچسپی ہے۔سب سے پہلے اس کی پراسرار رفتار تھی جاجا سورج سے دور اور اس رفتار کی وجہ سے اس کے بارے میں نظریہ قائم کرنا تھا کہ یہ شے کس مادّے کی بنی ہوئی ہے۔دوسری بغ ب ب ب س عجیب اندازوں کے مطابق یہ چیز جتنی چوڑی ہے اُس سے 10 گنا لمبی ہے۔ اومواموا سے پہلے خلا میں ملنے والی اس طرح چیز جتنی چوڑی تھی اس سے لمبی تھی۔ماہرین کو کہ ہماےرے نظام سے ا.

جن میں سے بہت ساری اربوں سالوں تک ایک دوسرے ستاروں کے درمیان گھومتی ہوں گی.لیکن چوں کہ رات سینکڑوں جدید آلات کی نگرانی کر ہوتے ہیں, جن میں لگے ٹیلی اسکوپ لے کر چلی کے اینڈیس پہاڑی سلسلے میں سورج کی کرنوں سے پرنور ایٹاکاما لارج ملی میٹر ارے (الما) شامل ہیں۔ لیکن ان میں سے کسی نے اس سے ساخت کی کا مشاہدہ نہیں کیا تھا.پھر اوموامواکے ہونے کے بعد ہوا بالکل غیر تھا.ماہرین کا کہنا دار ستارے یا سیارچے کے پرقطعی درجہ بند ی نہیں کی جاسکتی.

لیکن سائنس دانوں نے ہمیشہ قیاس کیا ہے کہ درمیان سفر کرنے والی زیادہ تر ستارے ہو سکتی نظام شمسی کے واقع کچھ کہ اصل میں مختلف کہکشاؤں کے درمیان سفر کرتے رہے ہوں, تاہم زیادہ تر دم دار ستاروں کی دم ہوتی ہے.

روشن دھواں خارج کرنے والی دم, جو ان کے ہے اور جو اس وقت ہے جب وہ سورج گزرتے ہیں اور یہ کی وجہ سے اندر جمی ہوئی گیسوں ہیں, مگر اجنبی خلائی اومواموانے ایسا نہیں کیا.یہ حیرا ن کن بات تھی کہ اس کو شمسی گہرائی میں سورج کی طرف گیا اور اس کا سورج سے فاصلہ صرف 00:26 اے یو تک رہ گیا تھا, یہ زمین کا ایک بنتا ہے.آوی لوئب کے مطابق جب اعداد و شمار سامنے آئے تو انتہائی حیران کن تھے.

پہلے سائنس دانوں کا خیال تھا کہ شاید اس ہے کہ اومواموا ایک پتھریلا ہے, بعدازاں ایریزونا ا ماہر فلکیات اور سیاروں سائنسدان ایلن جیکسن کہنا ہے کہ اس تیزی آئی ہے.واپس ہوئے سیارچوں کی رفتار میں تیزی بالکل ہے سورج کے قریب پہنچ کر واپس تیز رفتاری کی اُن کی اس کے پیچھے سے گیسوں خارج ہونا وہی کام کرتا ہے جو راکٹ پر لگا انجن اسے دھکیلنے کے لیے کرت ہے۔۔

آوی لوئب کا کہنا ہے کہ سورج کی کشش طاقت کے اسے اور طاقت دھکا دے کر (سورج سے) دور لے جا رہی تھی.اس کو سمجھنے کے لیے اس کی مقدار کے دسویں حصے کو بخارات بن کر اڑ کی ضرورت تھی.ایک خیال یہ بھی ہے کہ شاید یہ چیز ایک ہائیڈروجن سے بنی برف کی چٹان تھی۔ منجمد ہائیڈروجن کا ایک دیو ہیکل تودہ جس کی ایسی دم بن سکتی تھی جو زمین سے نظر نہیں آتی۔

پہلے تو یہ کہ کسی نے بھی اس سے پہلے خلا میں ہائیڈروجن کی برف نہیں دیکھی تھی۔ آوی لوئب اور ان کے ساتھیوں کا استدلال تھا کہ یہ مادّہ اتنی دیر کے لیے اتنا نہیں رہ سکتا ہے کہ ڑی اوموا مو جیسی۔ اوموا مو جیسی۔ اوموا تول اور یہ کہ اس کا نقطہ انجماد جو منفی 295 ڈگری سینٹی گریڈ ہے کائنات کے تحولی درجۂ حرارت سے تھوڑا سا زیادہ ہے۔

اسٹیون ڈیسچ کا کہنا ہے کہ یہ کچھ ایسی چیز جس جس بارے میں سوچا ہی نہیں تھا۔ان کا مزید کہنا تھا ہائیڈروجا گکا ہائیڈروجا گکا ہائیڈروجا ھیکا ائیڈروجب ھیک نکت تہو ھیک نکت ت ن ھیک نہیںت تن ھیک نکت ت اس خیال کی تائید کے لیے انہوں نے اس بات کا کہ اومواموا کی سطح کتنی چمکیلی اور یہ کتنی روشنی منعکس ہے اور اس کا موازنہ منجمد نائٹروجن کے ساتھ اس موازنے سے پتا چلا ہے کہ دونوں کے نتائج کم و بیش ایک جیسے ہی ہیں.

ماہرین نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس بات کا امکان ہے کہ یہ منجمد نائٹروجن کا ٹکڑا ہو۔ ہمارے اپنے نظام شمسی کی ارتقا کائپر بیلٹ کے برفیلی علاقے میں ہزاروں ایسے ہی سیاروں کے ساتھ ہوئی تھی۔ اسٹیون ڈیسچ کا کہنا ہے کہ بالآخر نیپچون اس خطے سے گزرا اور اس سے بہت سارا مواد خارج ہوا۔ اور یہ سب شروعات میں ہوا تھا۔

ان کا خیال ہے کہ اومواموا تب سے ہی انتہائی سرد اور وسیع خطے میں ہے.گرچہ یہ چیز سال پہلے شمسی بیرونی کنارے کے سفر میں بہت لمبا عرصہ ہو گا.یہ غیر معمولی اس کی تیزرفتاری کی وضاحت کرتا کیوں کہ اس خارج والی نائٹروجن بخارات سے ایک نے اسے آگے بڑھنے میں دی. ایلن جیکسن کا کہنا ہے کہ ہمارا ماحول زیادہ تر نائٹروجن گیس پر مبنی ہے اور آپ اس آر پار دیکھ سکتے ہیں۔ نائٹروجن گیس کا پتا لگانا مشکل ہوتا ہے۔

پلوٹو کی سطح اس کے حجم کا صرف چند ہے.اس وقت ہم صرف ایسے سیارے جو بالواسطہ دوسرے مدار میں گردش یہ بات ستارے کی کتنی روشنی روک پاتے ہیں جب وہ اس سامنے سے گزرتے ہیں تو ان کی ثقل ستارے کی روشنی کو متاثر کرتی ہے ۔یہ بہت زیادہ ہیں ۔ہم ترین ستارہ پراکسیما سینچوری ہے جو 4.2 نوری سال (25 ٹریلین میل) دور ہے۔ اس تک کا سفر کرنے میں موجودہ دور کی ٹیکنالوجی کے ساتھ ہزاروں سال لگیں گے۔

اگر وائیجر جیسا خلائی جہاز جو اس وقت ہمارے نظام سے بالکل باہر کی جگہ کی چھان بین رہا ہے اس وقت سے روانہ ہو تو یہ وہاں 75100 میں پہنچے گا.ماہرین کے مطابق اومواموا جب ہمارے نظام شمسی میں داخل. تو وہ تب بھی نسبتاً کافی بڑا تھا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ اُس وقت بھی ویسا ہی تھا جیسا یہ جس سیارے ٹکرا ہے اس کا حصہ ہوتے وقت اپنی اصلی حتلت اصلی حتلت

یہ خلا کے برفیلی ماحول میں ایک ارب سال کے نصف حصے تک سفر کے دوران محفوظ رہا ہے۔ اس تمام عرصے میں اس کا سامنا کبھی بھی کسی دوسرے ستارے سے نہیں ہوا سوائے اس کے جب وہ ہمارے ستارے کے پان آن

اسٹیون ڈیسچ کا کہنا ہے کہ یہ شاید ایک کے تھوڑے سے حصہ میں درجنوں شمسی نظاموں سے, مگر یہ ہمارے سورج دوسرے کسی ستارے قریب سے گزر کر منجمد نائٹروجن کی کے طور پر شناخت سے پتا چلتا ہے کہ دوسرے شمسی نظام بھی ہمارے نظام شمسی کی طرح ہی ہیں۔




Supply hyperlink

About admin

Check Also

’’سائبر کرائم‘‘ اس کے جال میں سب کا نمبر آسکتا ہے

دور جدید میں روز مرہ زندگی کی بہت سی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *