سڈنی اوپرا ہاؤس


سڈنی اوپرا ہاؤس کو آسٹریلیا کے خوبصورت شہر سڈنی کی پہچان قرار دیاجاتا کا طرزتعمیرا تنا خوبصو را کھ ر اگر آپ آسٹریلیا گئے اور سڈنی بناواپس آگئے تو سمجھ آپ نے کچھ نہیں دیکھا.اگر آپ دیکھ چکے ہیں تویقینا بات سے اتفاق گے کہ سڈنی ہی قدم خود بخود بیسویں صدی ” سڈنی اوپرا ” کی طرف اٹھ جاتے ہیں. یہ ثقافتی عمارت آسٹریلیا کی مشرقی سڈنی کے نزدیک بنائی گئی ہے, جو مقامی فنونی کارکردگی کے لیے بنایا اور خوبصورت مرکز عمارت کی خوبصورتی اور انفرادیت کے سبب متحدہ کےادارہ برائے سائنس وثقافت (یونیسکو) کی جانب سے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا جاچکا ہے. تو آئیے آج بات کرتے ہیں کچھ سڈنی اوپرا ہاؤس کی تعمیراتی خصوصیات پر۔

ڈیزائن کا انتخاب

سڈنی اوپرا ہاؤس کی انفرادیت کی وجہ اس کامنفرداور خوبصورت ڈیزائن ہے ، جس کا انتخاب ایک مقابا کے تحت کیا گی تحت کیا آسٹریلیا کی مشرقی ریاست نیوساؤتھ ویلز نے شہر سڈنی فن اور ترویج کے لیے ہاؤس انعقاد کیا. اس مقابلے میں 32 ممالک کے 233 آرٹسٹ ڈیزائنر زنے اوپرا ہاؤس کی تعمیر کیلئے اپنے منفرد ڈیزائن پیش کیے۔ اس مقابلے میں ڈنمارک سے تعلق رکھنے والے ماہر تعمیرات یورن اوتزون کا ڈیزائن منتخب کیا گیا۔ اس ڈیزائن کیلئے یورن اوتزون کو 5 ہزار پاؤنڈ کا انعام بھی دیا گیا۔

لاگت اور مدت

تین سال بعد 1959 ء میں اوپرا ہاؤس کی تعمیر شروع ہوئی۔ عمارت کا تعمیراتی منصوبہ مکمل کرنے کے لیے Four سال کا عرصہ مقرر کیا گیا لیکن اس منفرد عہامل کییں تکمیل سوال مل اسی طرح منصوبے پر کُل تعمیراتی لاگت 7 ملین امریکی ڈالر مختص کی گئی تھی لیکن اس عمارت پلمجموعی الاگت لمجموعی لاگت 120 مرلین ڈلمری ڈن لاگت 120 مرلین ڈ اس کی تعمیر میں 10 ہزار مزدوروں نے حصہ لیا لیکن جب اس عمارت کی تعمیر مکمل تو ہر دیکھنے والی گڈکاہا ۔ہکل ل یاہا ل کن ر ب

سڈنی اوپرا ہاؤس

بیرونی اور اندرونی خاکہ

سڈنی اوپرا ہاؤس کا ڈیزائن سیپیوں سے مشابہہ ہے ، جس کا کُل رقبہ 4,5 ایکڑ ہے۔ یہ عمارت 187 میٹر لمبی اور 115 میٹر چوڑی ہے ، جوکسی فٹبال گراؤنڈ سے بھی بڑی ہے جبکہ اس کی بلندی 213 فٹ ہے۔ اس عمارت کے اندر گلابی رنگ کا گرینائٹ پتھر استعمال کیاگیا ہے۔ اس عمارت کی انفرادیت کی وجہ اس میں لگایا گیا وہ خاص گلاس ہے ، جو اسے دنیا چند خوبصورت اوںا۔ا ورت اوںار من فرد عمرت توت اس عمارت کی تعمیر کے لیے 6233 اسکوائر میٹر TOPAZ کلرڈ گلاس بطور خاص سڈنی اوپرا ہاؤس کے لیے بنوایا گیا جبکہ بادبان کی تعمیر لیے سے لاکھوں کی تعداد میںعمدہ ‘روف ٹائلز’ منگوائے گئے. عمارت میں لگائے جانے والے ستونوں کو دنیا کے بلندترین ستونوں کے طور پر جانا جاتا ہے۔ سڈنی اوپرا ہاؤس کا کنسرٹ ہال تقریباً 10 سال کی مدت میں تعمیر کیا گیا ، اس کنسرٹ ہال میں 2679 سیٹیں لگی ہیں۔ اس عمارت میں تقریباً1000کمرے ہیں ، جن میں 5 تھیٹرز ہیںاور وہاں نشستوں کی تعداد 5500 سے زائد ہے۔ اس کے علاوہ اوپرا ہاؤس میں 2 بڑے ہال ، Four ریسٹورنٹ ، 6 مارکیٹس ، درجنوں گفٹ ، اسٹوڈیو اور سویٹ شاپس بھی م۔وجود ایک اندازے کے مطابق ہر سال تقریباً8لاکھ سے زائد سیاح سڈنی اوپرا ہاؤس دیکھنےآتے ہیں۔ نیو ایئرسیلیبریشن کے لیے چائنیز کی بڑی تعداد سڈنی اوپرا ہاؤس کا رُخ کرتی ہے۔ 2016 ء میں تقریباً 22 ہزار چائنیز نے نیوایئر کے موقع پر اوپرا ہاؤس کا رُخ کیا۔ اہم مواقع پر اوپرا ہاؤس کی رنگت بھی تبدیل کردی جاتی ہے۔

تقریبِ رونمائی

1973 ءمیں مکمل ہونے والے سڈنی اوپرا ہاؤس کے اس شاہکارکی کے پر ملکہ برطانیہ الزبتھ دوئم نے شرکت کرکے اس مرکز باقاعدہ کیا, اس دن کو لاکھوں افراد نے اوپرا ہاؤس سڈنی کی تقریبب رونمائی میں شرکت کی. اس دن کے بعد بھی ملکہ الزبتھ کئی بار سڈنی اوپرا ہاؤس کا دورہ کرچکی ہیں ، انھوں نے آخری بار کا دورہ کیا تھا ۔ا تھا ۔ا تھا ۔ا تھا ۔ا تھا ۔ا تھا یہ عمارت پورے سال کھلی رہتی ہے ، سوائے کرسمس اور گڈ فرائیڈے کے۔ پال رابِسن وہ پہلے پرفارمر ہیں ، جنھوں نے سڈنی اوپرا ہاؤس کی تعمیر کے بعد یہاں سب سے پہلے پرفارم کیا۔




Supply hyperlink

About admin

Check Also

سونے ، چاندی اور تانبے کا شہر کھنڈرات میں کیسے تبدیل ہوا؟

فیصل میمن مٹی کے برتنوں کے ٹکڑے, ٹوٹی لال کے ظروف کر نگاہیں وادی سندھ …

Leave a Reply

Your email address will not be published.