بچوں کی تعلیمی کارکردگی اور والدین کا کردار


آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ آپ کے بچے کو اسکول کی کوئی نہیں اور وہ پڑھائی اور ہوم ورک سے جی چراتا ہے؟ نتیجہ? اُس کے نمبر کم آنے لگتے ہیں۔ ایسے میں آپ اپنے بچے کی تعلیمی کارکردگی کو بہتر بنانے میں اُس کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟

مدِنظر رکھنے والی باتیں

سب سے پہلے ایک بات آپ پر واضح ہونی چاہیے کہ بچے پر دباؤ ڈالنے سے مسئلہ بڑھتا ہے۔ اگر آپ بچے پر پڑھائی کرنے کا دباؤ ڈالیں گے تو وہ اسکول اور گھر میں پریشانی کا شکار ہو جائے گا۔ شاید وہ اپنی پریشانی سے چھٹکارا پانے کے لیے آپ سے جھوٹ کم نمبر چھپائے ، رپورٹ کےارڈ پر آپ دستخط کغیاا ا و سر ےرن ے ک وشش سر یوں مسئلہ اور بگڑ جائے گا۔

اِنعام کا لالچ دینے سے نقصان ہوتا ہے: اینڈریو نامی والد کہتے ہیں ، ” ہم چاہتے اتھے کہ مام یاہا مجم ،ی مجم ، ب لیکن ہماری اِس کوشش کا اُس پر اُلٹا اثر ہوا۔ ہم نے دیکھا کہ اُس کا سارا دھیان صرف اِنعام پانے پر رہتا تھا۔ جب بھی اُس کے کم نمبر آتے تو اسے اس کا اتنا دکھ نہیں ہوتا تھا جتنا کہ انعام نہ ملنے کا ”۔

استادوں کو موردِ الزام ٹھہرانے سے بچے کا بھلا نہیں ہوگا کو قصوروار ٹھہرائیں گے ہو سکتا ہے ل

اِس طرح شاید وہ اپنی غلطیاں اوروں کے سر ڈالنا سیکھے گا اور دوسروں سے یہ توقع گا کہ وہ اُس کی مشکل ا ا ل دوسرے لفظوں میں کہیں تو آپ کا بچہ زندگی کی ایک اہم سیکھنے سے محروم رہ جائے گا چل کر اس کے آئے آئے م یعینی ایہ و ن رن

آپ کیا کر سکتے ہیں؟

اپنے جذبات پر قابو رکھیں: اگر بچے کے بُرے نمبر دیکھ کر آپ کا پارہ چڑھ جاتا ہے تو بہتر ہوگا کہ غصے کی حالت میں اُس سے اِس مہوضور پ۔ بکت ن۔ر بکت ن اس سلسلے میں بریٹ نامی والد کہتے ہیں ، ” میں نے اور میری بیوی نے دیکھا ہے کہ جب ہم ٹھنڈے کر شفیق فااکاا کر شفیق اااکا ف اپنے بچوں سے بات کرتے وقت ، والدین کو ایک اصول اپنا لینا چاہیے ، ” بچوں کی ہر باہ ” ” ‘و’ یںو بر لرد نے بر لرد

اصل مسئلے کو پہچانیں: بچے کے بُرے نمبر آنے کی عموماً کچھ وجوہات ہو سکتی ہیں جیسے کہ شاید اسکول میں شرارتی بچے اُسے تنگ کرتے ہیں ؛ اُس کاا سکول بدل دیا گیا ہے ؛ اُسے امتحانات سے ڈر لگتا ہے ؛ گھر میں کوئی مسئلہ چل رہا ہے ؛ اُس کی نیند پوری نہیں ہوتی ؛ اُس کے ہوم ورک کرنے کا کوئی معمول نہیں ہے یا اُسے ٹک کر پڑھنا مشکل لگتا ہے۔ وجہ چاہے کچھ بھی ہو ، فوراً یہ نہ سوچ لیں کہ آپ کا بچہ کاہل ہے۔

ایسا ماحول بنائیں ، جس میں بچہ توجہ سے پڑھ سکے۔ بچے کے ساتھ مل کر ہوم ورک کرنے کا شیڈول بنائیں۔ بچے کے ہوم ورک کرنے کے لیے ایسی جگہ کا انتخاب کریں ، جہاں ایسی چیز نہ ہو ، جس سے اس کا دھیمان ھٹک ا سکے ھی مثوب بھٹکا سکے ، مثوب بھٹکاوغی ، مثوب بی سکے ، مثوب بھٹکا سغی ، مثوب بھٹکاوغی ، مثوب بچے کی توجہ پڑھائی پر رکھنے کے لیے ہر مضمون پر تھوڑا تھوڑا وقت صرف کریں۔ جرمنی میں رہنے والے ہیکٹر نامی والد کی بات پر ذرا غور کریں۔ وہ کہتے ہیں: ” اگر ہمارے بچے کا کوئی ٹیسٹ آنے ہوتا ہے تو ہم اِس کے سر پر آنے کا اِنتظار کےہیںا ‘ا’ ا ار کڑیا ے

بچے پر پڑھائی کی اہمیت کو واضح کریں: جتنا زیادہ آپ کا بچہ اِس بات کو سمجھے گا کہ اُسے ابھی جانے سے کیا فائدہ ہو سگتا ہے اُقتنا ہی زیادہ اس میں پڑھن مثال کے طور پر ریاضی کے مضمون کی مدد سے وہ سیکھے گا کہ وہ اپنے جیب خرچ حساب کیسے رکھ سکتا ہے۔ بچے پر واضح کریں کہ تعلیم کی مدد سے ہی وہ حکمت اور فہم حاصل کرسکتا ہے۔

تجویز

اپنے بچے کی ہوم ورک کرنے میں تو مدد کریں لیکن خود اس کا ہوم ورک نہ کریں۔ اینڈریو کہتے ہیں: ” جب ہم اپنی بیٹی اس ہوم ورک کرواتے ہیں تو وہ اپنا دماغ نہیں لڑاتی ببلکہ سیب ہم پر چھوڑ د ” ر چھوڑ د ” اپنے بچے کو سکھائیں کہ وہ خود اپنا ہوم ورک کیسے کر سکتا ہے۔




Supply hyperlink

About admin

Check Also

خوشی کا عالمی دن

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہر سال20مارچ کو ’خوشی‘ کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ …

Leave a Reply

Your email address will not be published.